<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی غیر یقینی صورتحال، 100 انڈیکس 3 فیصد سے زائد گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284410/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ کے خطرے کے باعث فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100  انڈیکس تقریباً 4,900 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک انڈیکس مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گیا، جو کہ سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔صبح کے سیشن کے دوران فروخت کے عمل میں تیزی دیکھی گئی، جس نے انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 144,656.97 تک گرا دیا۔ تاہم اس شدید مندی نے کچھ  ویلیو ہنٹرز کو بھی متوجہ کیا، جس کی بدولت مارکیٹ اپنی نچلی ترین سطح سے کچھ حد تک بحالی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس میں معمولی بحالی تو دیکھی گئی لیکن وہ دوبارہ اپنی مضبوط اوپر کی جانب رفتار برقرار رکھنے میں ناکام رہا، کیونکہ جزوی بحالی کے باوجود مارکیٹ پر مندی کے بادل چھائے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 146,842.97 کی سطح پر بند ہوا، جو کہ 4,864.54 پوائنٹس یا 3.21% کی بڑی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری  اپنی رپورٹ میں کہا کہ  آج مقامی اسٹاک مارکیٹ نے شدید دباؤ محسوس کیا، کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بڑھتی عالمی  کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا۔ اس بے چینی میں مزید اضافہ حکومت کے اس فیصلے سے ہوا جس میں ایندھن کی قیمتوں کو مسلسل دوسرے ہفتے بھی برقرار رکھا گیا، جس سے مالیاتی دباؤ  کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ انڈیکس کے محاذ پر بڑے حصص بشمول ایف ایف سی، اینگرو، میٹروپولیٹن بینک، لکی  اور یو بی ایل  مارکیٹ کو نیچے گرانے والے اہم عوامل ثابت ہوئے جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 1,527 پوائنٹس کی کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے  بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک جیو پولیٹیکل محاذ پر صورتحال واضح نہیں ہو جاتی مارکیٹ کا رویہ اسی طرح رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  جیسے ہی کوئی مثبت پیش رفت، مثلاً جنگ بندی وغیرہ سامنے آتی ہے تو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئے گی اور استحکام بتدریج واپس لوٹ آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپیٹل نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ فروخت کے شدید دباؤ  میں اس وقت مزید تیزی آگئی جب علاقائی تنازع ایک ہمہ گیر صنعتی جنگ کی شکل اختیار کر گیا، جس میں خلیج کے معاشی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ  تمام تر نظریں اب اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی اجلاس پر جمی ہوئی ہیں، سمندری راہداری کے لیے امن کی جانب کسی بھی مشترکہ اعلامیے کی صورت میں ہی مارکیٹ کی بحالی کا واحد راستہ نکل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایران کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے  بامعنی مذاکرات کی میزبانی کی تیاریاں کر رہا ہے، اگرچہ اس سے قبل تہران نے واشنگٹن پر زمینی حملے کی تیاری کا الزام عائد کیا ہے کیونکہ امریکی فوج خطے میں مزید دستے بھیج رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کا رجحان رہا، جس کی وجہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ، عالمی تیل کی قیمتوں میں تیز تبدیلیاں اور سخت مالیاتی حالات تھے۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ نے ہفتہ وار بنیادوں پر مزید کمی دیکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای 100 انڈیکس گزشتہ ہفتے 151707.52 پوائنٹس پر بند ہوا جو کہ 1032.85 پوائنٹس یا 0.7 فیصد ہفتہ وار کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹوں میں بھی پیر کے روز ایشیائی اسٹاکس میں بڑی کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار خلیجی خطے میں طویل جنگ کے خدشات کو دیکھ رہے ہیں۔ تیل کی قیمتیں پہلے ہی ریکارڈ ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہی ہیں جس سے عالمی سطح پر مہنگائی اور معاشی سست روی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ خلیج فارس میں ایران کے خارگ جزیرے پر قبضہ کر سکتا ہے جہاں سے ایران زیادہ تر تیل برآمد کرتا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی جلد ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے ایران نواز حوثیوں نے بھی اس تنازع کے آغاز کے بعد پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل، گیس، کھاد، پلاسٹک اور ایلومینیم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایوی ایشن اور شپنگ فیول بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ خوراک، ادویات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ایشیا کے لیے تشویشناک ہے کیونکہ خطے کے کئی ممالک مشرق وسطیٰ کی توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔ جاپان کا نکی انڈیکس 4.7 فیصد گر گیا جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 4.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 1.2 فیصد نیچے آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.7 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز 0.9 فیصد کم ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی مارکیٹوں میں بھی منفی رجحان رہا جہاں یورو اسٹاکس 50 اور ڈیکس فیوچرز 1.5 فیصد جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز 1 فیصد گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی سطح پر انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو روپے کی قدر میں 0.01 روپے کا معمولی اضافہ ہوا اور ڈالر 279.16 روپے پر بند ہوا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا حجم گزشتہ سیشن کے 435.51 ملین سے بڑھ کر 529.13 ملین شیئرز رہا، جبکہ شیئرز کی مالیت 29.60 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں  کے الیکٹرک 56.53 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے،  بینک آف پنجاب 35.92 ملین کے ساتھ دوسرے اور  دوست اسٹیلز  31.66 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا، جن میں سے 379 کمپنیوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 51 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/3017381488e50ba.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/3017381488e50ba.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ کے خطرے کے باعث فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100  انڈیکس تقریباً 4,900 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>بینچ مارک انڈیکس مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گیا، جو کہ سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔صبح کے سیشن کے دوران فروخت کے عمل میں تیزی دیکھی گئی، جس نے انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 144,656.97 تک گرا دیا۔ تاہم اس شدید مندی نے کچھ  ویلیو ہنٹرز کو بھی متوجہ کیا، جس کی بدولت مارکیٹ اپنی نچلی ترین سطح سے کچھ حد تک بحالی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>انڈیکس میں معمولی بحالی تو دیکھی گئی لیکن وہ دوبارہ اپنی مضبوط اوپر کی جانب رفتار برقرار رکھنے میں ناکام رہا، کیونکہ جزوی بحالی کے باوجود مارکیٹ پر مندی کے بادل چھائے رہے۔</p>
<p>مارکیٹ کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 146,842.97 کی سطح پر بند ہوا، جو کہ 4,864.54 پوائنٹس یا 3.21% کی بڑی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری  اپنی رپورٹ میں کہا کہ  آج مقامی اسٹاک مارکیٹ نے شدید دباؤ محسوس کیا، کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بڑھتی عالمی  کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا۔ اس بے چینی میں مزید اضافہ حکومت کے اس فیصلے سے ہوا جس میں ایندھن کی قیمتوں کو مسلسل دوسرے ہفتے بھی برقرار رکھا گیا، جس سے مالیاتی دباؤ  کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ انڈیکس کے محاذ پر بڑے حصص بشمول ایف ایف سی، اینگرو، میٹروپولیٹن بینک، لکی  اور یو بی ایل  مارکیٹ کو نیچے گرانے والے اہم عوامل ثابت ہوئے جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 1,527 پوائنٹس کی کمی کی۔</p>
<p>دریں اثنا عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے  بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک جیو پولیٹیکل محاذ پر صورتحال واضح نہیں ہو جاتی مارکیٹ کا رویہ اسی طرح رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  جیسے ہی کوئی مثبت پیش رفت، مثلاً جنگ بندی وغیرہ سامنے آتی ہے تو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئے گی اور استحکام بتدریج واپس لوٹ آئے گا۔</p>
<p>بہتری کیپیٹل نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ فروخت کے شدید دباؤ  میں اس وقت مزید تیزی آگئی جب علاقائی تنازع ایک ہمہ گیر صنعتی جنگ کی شکل اختیار کر گیا، جس میں خلیج کے معاشی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ  تمام تر نظریں اب اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی اجلاس پر جمی ہوئی ہیں، سمندری راہداری کے لیے امن کی جانب کسی بھی مشترکہ اعلامیے کی صورت میں ہی مارکیٹ کی بحالی کا واحد راستہ نکل سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ایران کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے  بامعنی مذاکرات کی میزبانی کی تیاریاں کر رہا ہے، اگرچہ اس سے قبل تہران نے واشنگٹن پر زمینی حملے کی تیاری کا الزام عائد کیا ہے کیونکہ امریکی فوج خطے میں مزید دستے بھیج رہی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کا رجحان رہا، جس کی وجہ علاقائی کشیدگی میں اضافہ، عالمی تیل کی قیمتوں میں تیز تبدیلیاں اور سخت مالیاتی حالات تھے۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ نے ہفتہ وار بنیادوں پر مزید کمی دیکھی۔</p>
<p>کے ایس ای 100 انڈیکس گزشتہ ہفتے 151707.52 پوائنٹس پر بند ہوا جو کہ 1032.85 پوائنٹس یا 0.7 فیصد ہفتہ وار کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>عالمی مارکیٹوں میں بھی پیر کے روز ایشیائی اسٹاکس میں بڑی کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار خلیجی خطے میں طویل جنگ کے خدشات کو دیکھ رہے ہیں۔ تیل کی قیمتیں پہلے ہی ریکارڈ ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہی ہیں جس سے عالمی سطح پر مہنگائی اور معاشی سست روی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ خلیج فارس میں ایران کے خارگ جزیرے پر قبضہ کر سکتا ہے جہاں سے ایران زیادہ تر تیل برآمد کرتا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی جلد ممکن ہے۔</p>
<p>یمن کے ایران نواز حوثیوں نے بھی اس تنازع کے آغاز کے بعد پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے ہیں۔</p>
<p>آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل، گیس، کھاد، پلاسٹک اور ایلومینیم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایوی ایشن اور شپنگ فیول بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ خوراک، ادویات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ایشیا کے لیے تشویشناک ہے کیونکہ خطے کے کئی ممالک مشرق وسطیٰ کی توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔ جاپان کا نکی انڈیکس 4.7 فیصد گر گیا جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 4.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 1.2 فیصد نیچے آ گیا۔</p>
<p>امریکہ میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.7 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز 0.9 فیصد کم ہوئے۔</p>
<p>یورپی مارکیٹوں میں بھی منفی رجحان رہا جہاں یورو اسٹاکس 50 اور ڈیکس فیوچرز 1.5 فیصد جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز 1 فیصد گر گئے۔</p>
<p>مقامی سطح پر انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو روپے کی قدر میں 0.01 روپے کا معمولی اضافہ ہوا اور ڈالر 279.16 روپے پر بند ہوا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا حجم گزشتہ سیشن کے 435.51 ملین سے بڑھ کر 529.13 ملین شیئرز رہا، جبکہ شیئرز کی مالیت 29.60 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>مارکیٹ میں  کے الیکٹرک 56.53 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے،  بینک آف پنجاب 35.92 ملین کے ساتھ دوسرے اور  دوست اسٹیلز  31.66 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ مجموعی طور پر 481 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا، جن میں سے 379 کمپنیوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 51 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/3017381488e50ba.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/3017381488e50ba.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284410</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 18:19:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/301027423628042.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/301027423628042.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
