<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدی آمدن کے طریقہ کار پر اسٹیٹ بینک اور سونے کے برآمد کنندگان میں اختلاف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284409/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور سونے کے برآمد کنندگان کے درمیان برآمدی آمدن کے حصول کے طریقہ کار پر اختلاف سامنے آ گیا ہے، جس میں مرکزی بینک نے موجودہ 50 فیصد اور 50 فیصد کے نظام کو برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے جبکہ سونے کی برآمدات میں 100 فیصد ریئلائزیشن کی اجازت دینے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ وزارتِ تجارت کے ایک اجلاس میں زیر بحث آیا جو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ہدایات کے تحت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اسٹیٹ بینک اور نجی شعبے کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی جن میں آل پاکستان اسمال جیولرز اینڈ ٹولز ایسوسی ایشن، گولڈن آرٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز آف آرٹسٹک گولڈ جیولری اور جیمز اینڈ جیولری کونسل کے چیئرمین سلمان حنیف شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں گولڈن آرٹس مینوفیکچررز کے نمائندے عارف پٹیل نے موجودہ ویلیو ایڈیشن نظام پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ 2013 میں جاری ہونے والے ایس آر او 760(1)/2013 کے تحت ویلیو ایڈیشن کو عالمی سونے کی قیمت سے جوڑا گیا ہے، جو اب غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سونے کی قیمت تقریباً 1380 امریکی ڈالر فی اونس سے بڑھ کر 5100 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس سے برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز دی کہ ویلیو ایڈیشن کو فیصد کے بجائے فی گرام کے حساب سے مقرر کیا جائے، جس میں سادہ چوڑیوں اور چینز کے لیے 1.50 ڈالر فی گرام، دیگر سادہ زیورات کے لیے 2 ڈالر فی گرام اور جڑاؤ یا ایمبیڈڈ جیولری کے لیے 4 ڈالر فی گرام مقرر کیے جائیں۔ اس تجویز کی جیمز اینڈ جیولری کونسل کے چیئرمین نے بھی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے کہا کہ ادارہ ویلیو ایڈیشن کو فی گرام یا فیصد کسی بھی طریقے سے طے کرنے پر اعتراض نہیں رکھتا، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندے نے موجودہ فیصدی نظام برقرار رکھنے کی حمایت کی لیکن اسے علاقائی معیار کے مطابق کرنے کی تجویز دی۔ اجلاس میں تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ویلیو ایڈیشن کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں قیمتی دھاتوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس کے اطلاق میں موجود تضادات پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے تجویز دی کہ ایس آر او 760(1)/2013 کے تحت درآمدات کو یکساں طور پر مستثنیٰ قرار دیا جائے تاکہ غیر ضروری ٹیکس بوجھ ختم ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی آمدن کے موجودہ نظام کے تحت 50 فیصد آمدن لازمی طور پر بینکنگ چینلز کے ذریعے وصول کی جاتی ہے جبکہ باقی 50 فیصد سونے یا غیر ملکی کرنسی میں حاصل کی جا سکتی ہے۔ نجی شعبے نے اس شرط کو ختم کر کے مکمل 100 فیصد ریئلائزیشن کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا، تاہم اسٹیٹ بینک نے موجودہ نظام برقرار رکھنے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، سونے کی درآمد پر 25 کلوگرام کی حد پر بھی بحث ہوئی تاہم بعد میں یہ مؤقف واپس لے لیا گیا کہ یہ حد عملی طور پر کبھی پوری نہیں ہوئی۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ ویلیو ایڈیشن کو فی گرام بنیاد پر ازسرنو طے کیا جائے گا اور سیلز ٹیکس چھوٹ کو ایس آر او 760(1)/2013 کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور سونے کے برآمد کنندگان کے درمیان برآمدی آمدن کے حصول کے طریقہ کار پر اختلاف سامنے آ گیا ہے، جس میں مرکزی بینک نے موجودہ 50 فیصد اور 50 فیصد کے نظام کو برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے جبکہ سونے کی برآمدات میں 100 فیصد ریئلائزیشن کی اجازت دینے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔</strong></p>
<p>یہ معاملہ وزارتِ تجارت کے ایک اجلاس میں زیر بحث آیا جو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ہدایات کے تحت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اسٹیٹ بینک اور نجی شعبے کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی جن میں آل پاکستان اسمال جیولرز اینڈ ٹولز ایسوسی ایشن، گولڈن آرٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز آف آرٹسٹک گولڈ جیولری اور جیمز اینڈ جیولری کونسل کے چیئرمین سلمان حنیف شامل تھے۔</p>
<p>اجلاس میں گولڈن آرٹس مینوفیکچررز کے نمائندے عارف پٹیل نے موجودہ ویلیو ایڈیشن نظام پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ 2013 میں جاری ہونے والے ایس آر او 760(1)/2013 کے تحت ویلیو ایڈیشن کو عالمی سونے کی قیمت سے جوڑا گیا ہے، جو اب غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سونے کی قیمت تقریباً 1380 امریکی ڈالر فی اونس سے بڑھ کر 5100 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس سے برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے تجویز دی کہ ویلیو ایڈیشن کو فیصد کے بجائے فی گرام کے حساب سے مقرر کیا جائے، جس میں سادہ چوڑیوں اور چینز کے لیے 1.50 ڈالر فی گرام، دیگر سادہ زیورات کے لیے 2 ڈالر فی گرام اور جڑاؤ یا ایمبیڈڈ جیولری کے لیے 4 ڈالر فی گرام مقرر کیے جائیں۔ اس تجویز کی جیمز اینڈ جیولری کونسل کے چیئرمین نے بھی حمایت کی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے کہا کہ ادارہ ویلیو ایڈیشن کو فی گرام یا فیصد کسی بھی طریقے سے طے کرنے پر اعتراض نہیں رکھتا، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندے نے موجودہ فیصدی نظام برقرار رکھنے کی حمایت کی لیکن اسے علاقائی معیار کے مطابق کرنے کی تجویز دی۔ اجلاس میں تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ویلیو ایڈیشن کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اجلاس میں قیمتی دھاتوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس کے اطلاق میں موجود تضادات پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے تجویز دی کہ ایس آر او 760(1)/2013 کے تحت درآمدات کو یکساں طور پر مستثنیٰ قرار دیا جائے تاکہ غیر ضروری ٹیکس بوجھ ختم ہو سکے۔</p>
<p>برآمدی آمدن کے موجودہ نظام کے تحت 50 فیصد آمدن لازمی طور پر بینکنگ چینلز کے ذریعے وصول کی جاتی ہے جبکہ باقی 50 فیصد سونے یا غیر ملکی کرنسی میں حاصل کی جا سکتی ہے۔ نجی شعبے نے اس شرط کو ختم کر کے مکمل 100 فیصد ریئلائزیشن کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا، تاہم اسٹیٹ بینک نے موجودہ نظام برقرار رکھنے پر زور دیا۔</p>
<p>مزید برآں، سونے کی درآمد پر 25 کلوگرام کی حد پر بھی بحث ہوئی تاہم بعد میں یہ مؤقف واپس لے لیا گیا کہ یہ حد عملی طور پر کبھی پوری نہیں ہوئی۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ ویلیو ایڈیشن کو فی گرام بنیاد پر ازسرنو طے کیا جائے گا اور سیلز ٹیکس چھوٹ کو ایس آر او 760(1)/2013 کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284409</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 10:20:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/30101851ac7fc51.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/30101851ac7fc51.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
