<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوادر محفوظ اور اسٹریٹجک میری ٹائم حب کے طور پر ابھر رہا ہے، وزیر بحری امور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284408/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ تیزی سے ایک محفوظ اور اسٹریٹجک میری ٹائم حب کے طور پر ابھر رہا ہے، کیونکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال عالمی شپنگ لائنز کو خلیجی روایتی راستوں کے بجائے زیادہ محفوظ متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق خصوصی جہاز ایم/وی ایچ ایم او لیڈر (آئی ایم او 9169811) کی گوادر پورٹ پر کامیاب برتھنگ ہوئی، جو 35 یونٹس پر مشتمل جنرل ٹرانس شپمنٹ کارگو لے کر آیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک اہم آپریشنل سنگ میل ہے اور اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بین الاقوامی میری ٹائم آپریٹرز پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی نے قائم شدہ شپنگ کوریڈورز کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں گوادر پورٹ ایک قابل اعتماد اور محفوظ ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ان کے مطابق گوادر اپنی اسٹریٹجک لوکیشن اور جدید انفراسٹرکچر کی وجہ سے تیزی سے ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ مرکز کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ متعدد بین الاقوامی شپنگ لائنز اب گوادر پورٹ کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے رابطہ کر رہی ہیں۔ اس منتقلی کو آسان بنانے کے لیے پورٹ حکام ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے مفت اسٹوریج فراہم کر رہے ہیں تاکہ زیادہ حجم کو متوجہ کیا جا سکے اور خطے میں مسابقت بڑھائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پورٹ اور اس کا منسلک فری زون اس وقت 16 ہزار ٹی ای یو کنٹینرائزڈ کارگو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ 90 ہزار مربع میٹر رقبہ جنرل کارگو اسٹوریج کے لیے مختص ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایم/وی ایچ ایم او لیڈر کی کامیاب ہینڈلنگ گوادر کی بڑھتی ہوئی آپریشنل صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہے۔ ان کے مطابق مالی مراعات، بڑھتی ہوئی گنجائش اور نسبتاً پُرامن ماحول کے باعث یہ پورٹ تیزی سے ایک اہم علاقائی تجارتی مرکز بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ گوادر پورٹ پاکستان کی بلیو اکانومی کو فروغ دینے، میری ٹائم تجارت کو مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی منڈیوں سے رابطہ بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ تیزی سے ایک محفوظ اور اسٹریٹجک میری ٹائم حب کے طور پر ابھر رہا ہے، کیونکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال عالمی شپنگ لائنز کو خلیجی روایتی راستوں کے بجائے زیادہ محفوظ متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>ان کے مطابق خصوصی جہاز ایم/وی ایچ ایم او لیڈر (آئی ایم او 9169811) کی گوادر پورٹ پر کامیاب برتھنگ ہوئی، جو 35 یونٹس پر مشتمل جنرل ٹرانس شپمنٹ کارگو لے کر آیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک اہم آپریشنل سنگ میل ہے اور اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بین الاقوامی میری ٹائم آپریٹرز پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی نے قائم شدہ شپنگ کوریڈورز کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں گوادر پورٹ ایک قابل اعتماد اور محفوظ ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ان کے مطابق گوادر اپنی اسٹریٹجک لوکیشن اور جدید انفراسٹرکچر کی وجہ سے تیزی سے ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ مرکز کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ متعدد بین الاقوامی شپنگ لائنز اب گوادر پورٹ کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے رابطہ کر رہی ہیں۔ اس منتقلی کو آسان بنانے کے لیے پورٹ حکام ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے مفت اسٹوریج فراہم کر رہے ہیں تاکہ زیادہ حجم کو متوجہ کیا جا سکے اور خطے میں مسابقت بڑھائی جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پورٹ اور اس کا منسلک فری زون اس وقت 16 ہزار ٹی ای یو کنٹینرائزڈ کارگو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ 90 ہزار مربع میٹر رقبہ جنرل کارگو اسٹوریج کے لیے مختص ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایم/وی ایچ ایم او لیڈر کی کامیاب ہینڈلنگ گوادر کی بڑھتی ہوئی آپریشنل صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہے۔ ان کے مطابق مالی مراعات، بڑھتی ہوئی گنجائش اور نسبتاً پُرامن ماحول کے باعث یہ پورٹ تیزی سے ایک اہم علاقائی تجارتی مرکز بن رہا ہے۔</p>
<p>محمد جنید انور چوہدری نے کہا کہ گوادر پورٹ پاکستان کی بلیو اکانومی کو فروغ دینے، میری ٹائم تجارت کو مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی منڈیوں سے رابطہ بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284408</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 10:10:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/30100848cb531f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="529" width="984">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/30100848cb531f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
