<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:46:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:46:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا، اسحاق ڈار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284402/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی اور سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ حکام کے مطابق ایران اور امریکا دونوں نے پاکستان کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی مشاورتی اجلاس کے بعد سامنے آئی، جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک ممالک نے پاکستان کی اس سفارتی کوشش کی بھرپور حمایت کی اور خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اجلاس کے بعد بتایا کہ چاروں ممالک نے موجودہ علاقائی صورتحال پر تفصیلی غور کیا اور جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کو محدود کرنا، کشیدگی میں کمی لانا اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مکالمہ ہی واحد راستہ ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر بھی زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، تاکہ اس تنازع کا جامع اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ چین اور اقوام متحدہ نے بھی پاکستان کی اس امن کوشش کی مکمل حمایت کی ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں اس اقدام کو سراہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ جاری جنگ کے باعث خطے میں انسانی جانوں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم ممالک کو اس نازک وقت میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ کردار نہایت اہم مگر چیلنجنگ ہے، کیونکہ امریکا اور ایران دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک مشکل عمل ہوگا، تاہم سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی حمایت اس کوشش کو تقویت دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی اور سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ حکام کے مطابق ایران اور امریکا دونوں نے پاکستان کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت اسلام آباد میں ہونے والے چار ملکی مشاورتی اجلاس کے بعد سامنے آئی، جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک ممالک نے پاکستان کی اس سفارتی کوشش کی بھرپور حمایت کی اور خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات کو ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p>نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اجلاس کے بعد بتایا کہ چاروں ممالک نے موجودہ علاقائی صورتحال پر تفصیلی غور کیا اور جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کو محدود کرنا، کشیدگی میں کمی لانا اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p>اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مکالمہ ہی واحد راستہ ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، تاکہ اس تنازع کا جامع اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ چین اور اقوام متحدہ نے بھی پاکستان کی اس امن کوشش کی مکمل حمایت کی ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں اس اقدام کو سراہا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ جاری جنگ کے باعث خطے میں انسانی جانوں اور معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم ممالک کو اس نازک وقت میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ کردار نہایت اہم مگر چیلنجنگ ہے، کیونکہ امریکا اور ایران دونوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک مشکل عمل ہوگا، تاہم سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی حمایت اس کوشش کو تقویت دے سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284402</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 09:21:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/300919003b5aaa3.webp" type="image/webp" medium="image" height="438" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/300919003b5aaa3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
