<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا جوہری معاملہ، ٹرمپ اور انٹیلی جنس سربراہ تلسی گیبارڈ میں اختلافات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284400/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران سے متعلق پالیسی پر اپنی ٹیم کے اندر اختلافات کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس سربراہ تلسی گیبارڈ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے معاملے میں ان کے مقابلے میں نسبتاً نرم مؤقف رکھتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مارا لاگو سے واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کے اورتلسی گیبارڈ کے خیالات میں فرق ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دینا چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ گئے تو وہ فوری طور پر استعمال ہو سکتے ہیں، جبکہ تلسی گیبارڈ اس معاملے پر قدرے نرم نقطہ نظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ممکنہ معاہدہ قریب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر نائب صدر جے ڈی وینس نے اس تنازع پر محتاط حکمت عملی اپنانے کی حمایت کی ہے، جبکہ کچھ ریپبلکن رہنما اس جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات پر تشویش رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مقام کا بخوبی علم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران سے متعلق پالیسی پر اپنی ٹیم کے اندر اختلافات کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس سربراہ تلسی گیبارڈ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے معاملے میں ان کے مقابلے میں نسبتاً نرم مؤقف رکھتی ہیں۔</strong></p>
<p>صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مارا لاگو سے واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کے اورتلسی گیبارڈ کے خیالات میں فرق ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دینا چاہتے۔</p>
<p>ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ گئے تو وہ فوری طور پر استعمال ہو سکتے ہیں، جبکہ تلسی گیبارڈ اس معاملے پر قدرے نرم نقطہ نظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ممکنہ معاہدہ قریب ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر نائب صدر جے ڈی وینس نے اس تنازع پر محتاط حکمت عملی اپنانے کی حمایت کی ہے، جبکہ کچھ ریپبلکن رہنما اس جنگ کے معاشی اور سیاسی اثرات پر تشویش رکھتے ہیں۔</p>
<p>ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مقام کا بخوبی علم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284400</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 09:02:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/300859401269a12.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/300859401269a12.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
