<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ایران جنگ پر علاقائی ممالک کا اجلاس، آبنائے ہرمز کھولنے کی تجاویز زیر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284399/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اہم سفارتی کوششوں کے تحت ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں میزبانی کی، جہاں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے سے متعلق تجاویز پر ابتدائی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے امریکا کو زمینی حملے سے خبردار کیا ہے اور خطے میں جاری لڑائی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ ان چاروں ممالک نے واشنگٹن کو مختلف تجاویز پیش کی ہیں جن کا مقصد سمندری راستوں کو محفوظ بنانا اور آبنائے ہرمز میں تیل و گیس کی ترسیل بحال کرنا ہے۔ واضح رہے کہ یہ آبی گزرگاہ ماضی میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، تاہم ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ردعمل میں اس راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جو ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، اس تنازع میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ترکیہ اور مصر بھی اس عمل میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق مصر سمیت دیگر ممالک کی تجاویز پہلے ہی وائٹ ہاؤس کو بھجوائی جا چکی ہیں، جن میں نہر سویز کی طرز پر فیس کے نظام کی تجویز بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ کنسورشیم قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں اور پاکستان سے بھی اس میں شمولیت کی بات کی گئی، تاہم ایک ذریعے کے مطابق اسلام آباد نے تاحال اس میں شامل ہونے کی کوئی باضابطہ درخواست قبول نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ انقرہ کی اولین ترجیح جنگ بندی کا حصول ہے، جبکہ محفوظ بحری گزرگاہ اس سمت میں اعتماد سازی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ اور مصر کے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتوں میں مذاکرات اور سفارتی روابط کے تسلسل پر زور دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ایران نے مزید 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکا، ایران اور اسرائیل کے نمائندے شریک نہیں تھے، تاہم پاکستان دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم مرحلے پر ہو رہے ہیں، جبکہ مصر نے بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اہم سفارتی کوششوں کے تحت ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں میزبانی کی، جہاں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے سے متعلق تجاویز پر ابتدائی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے امریکا کو زمینی حملے سے خبردار کیا ہے اور خطے میں جاری لڑائی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ ان چاروں ممالک نے واشنگٹن کو مختلف تجاویز پیش کی ہیں جن کا مقصد سمندری راستوں کو محفوظ بنانا اور آبنائے ہرمز میں تیل و گیس کی ترسیل بحال کرنا ہے۔ واضح رہے کہ یہ آبی گزرگاہ ماضی میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، تاہم ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ردعمل میں اس راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان، جو ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، اس تنازع میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ترکیہ اور مصر بھی اس عمل میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق مصر سمیت دیگر ممالک کی تجاویز پہلے ہی وائٹ ہاؤس کو بھجوائی جا چکی ہیں، جن میں نہر سویز کی طرز پر فیس کے نظام کی تجویز بھی شامل ہے۔</p>
<p>دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ کنسورشیم قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں اور پاکستان سے بھی اس میں شمولیت کی بات کی گئی، تاہم ایک ذریعے کے مطابق اسلام آباد نے تاحال اس میں شامل ہونے کی کوئی باضابطہ درخواست قبول نہیں کی۔</p>
<p>ترکیہ کے ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ انقرہ کی اولین ترجیح جنگ بندی کا حصول ہے، جبکہ محفوظ بحری گزرگاہ اس سمت میں اعتماد سازی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>ادھر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ اور مصر کے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتوں میں مذاکرات اور سفارتی روابط کے تسلسل پر زور دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ایران نے مزید 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکا، ایران اور اسرائیل کے نمائندے شریک نہیں تھے، تاہم پاکستان دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم مرحلے پر ہو رہے ہیں، جبکہ مصر نے بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284399</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 08:52:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/a-TVGV2HH8E/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/a-TVGV2HH8E/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=a-TVGV2HH8E"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
