<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے خاتمے سے قبل کڑی شرائط منوانے کے لیے پرُعزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284390/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی سیاست کی نبض شناس آنکھیں یہاں ایک پرانی روش کا مشاہدہ کر رہی ہیں۔ حالات کی ابتدائی پرتیں کتنی ہی مبہم کیوں نہ نظر آئیں، حقیقت بالآخر آشکار ہو کر رہتی ہے۔ یہ منظرنامہ 2003 کے اس امریکی حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں صدام حسین کے پاس مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کو جنگ کا ایندھن بنایا گیا، مگر وقت نے اس دعوے کی قلعی کھول دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دعویٰ یہ تھا کہ دنیا کو محفوظ بنایا جائے گا۔ صدام کا اقتدار تیزی سے ختم ہوگیا، مگر ایسے کوئی ہتھیار کبھی نہیں ملے، ایک ایسی ناکامی جس نے نہ صرف جنگ کے جواز بلکہ مغربی میڈیا کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے، جس نے بڑی حد تک اس بے بنیاد دعوے کی حمایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ملتے جلتے واقعات دوبارہ سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی باتیں زور پکڑنے لگیں اور چند ہی ہفتوں میں جنگ حقیقت بن گئی۔ فوری خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران پر دونوں جوہری طاقتیں امریکا اور اسرائیل حملہ آور ہوئے، اگرچہ ایران پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(ڈبلیوایم ڈی) رکھنے کا الزام نہیں تھا، مگر یہ کہا گیا کہ اس کی مذہبی حکومت جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔اسی بنیاد پر فوجی کارروائی کو ضروری قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر عراق (2003) اور ایران (2026) کے واقعات میں مماثلت نظر آتی ہے، مگر ایک اہم فرق بھی ہے کہ عراق کے مبینہ ڈبلیو ایم ڈی  پر شکوک وقت کے ساتھ سامنے آئے، جبکہ ایران کے حوالے سے یہ شواہد پہلے ہی سامنے آنے لگے ہیں کہ اس کی قیادت جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے سے دستبردار ہونے پر آمادہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بتدریج یہ واضح ہو رہا ہے کہ جاری جنگ کو ٹالا جا سکتا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی مذاکرات کاروں سے آخری ملاقات میں اپنے ملک کی جانب سے جوہری پروگرام پر نمایاں رعایت دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔ 28 فروری کو الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ امن قریب ہے، ایران نے جوہری مواد ذخیرہ نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ  بدر بن حمد البوسعیدی نے ان مذاکرات کو  اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے افزودہ یورینیم ذخیرہ نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ایک ایسا قدم جو ہتھیار سازی کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ باقی مسائل چند ماہ میں حل ہو سکتے ہیں  اور زور دیا کہ سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔ ان کے مطابق مذاکرات کاروں نے مسئلے کو عملاً  حل کر لیا تھا۔ مگر اسی روز یہ خبریں بھی آئیں کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو پیغام میں  بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا اعلان کیا، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ان حملوں کو  پیشگی اقدام قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں عباسی عراقچی کے بیانات نے امریکا اور اسرائیل کے جنگی جواز کو مزید کمزور کیا۔ 15 مارچ کو سی بی ایس نیوز کے پروگرام میں انہوں نے تصدیق کی کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے تصدیق شدہ تھے اور چھپائے  گئے نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بیشتر حملوں کے نتیجے میں ملبے تلے دب چکے ہیں اور فوری طور پر انہیں نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے انکشاف کیا کہ حملوں سے صرف 48 گھنٹے پہلے ایران نے اپنے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو کم کرنے کی پیشکش کی تھی، ایک بڑی رعایت جو یہ ظاہر کرنے کے لیے تھی کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا نہ ہی ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ جنگ شروع ہونے کے بعد مذاکرات ختم ہو گئے، مگر ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ سے پہلے سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تائید 17 مارچ کو دی گارڈین کی رپورٹ سے ہوئی، جس میں صحافی پیٹرک ونٹور اور جولین بورجر نے بتایا کہ برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول جو آخری مذاکرات میں شریک تھے کے مطابق معاہدہ ہونے کے قریب تھا۔ ایران کی تجاویز کو اہم  قرار دیا گیا اور جنگ کو روکنے کے لیے کافی سمجھا گیا۔ ویانا میں 2 مارچ کو ہونے والی اگلی ملاقات کبھی نہ ہو سکی کیوں کہ اس وقت تک جنگ شروع ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 18 مارچ کو ونٹور نے مزید لکھا کہ عمان کے وزیر خارجہ نے نہ صرف میڈیا کو پیش رفت سے آگاہ کیا بلکہ امریکا جا کر ٹرمپ انتظامیہ کو بھی بریفنگ دی۔ ان کے مطابق عمان کو خدشہ تھا کہ اہم ثالث صدر تک مکمل معلومات نہیں پہنچا رہے۔ یہ سفارتی کوششیں اس یقین کی عکاس تھیں کہ معاہدہ قریب ہے مگر یہ جنگ کو روکنے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورت حال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے جب ایران اپنی افزودہ یورینیم ذخیرہ چھوڑنے پر آمادہ تھا تو پھر اس پر جنگ کیوں مسلط کی گئی؟ اگر ٹرمپ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے اور معاہدہ کر لیتے تو ان کی حکومت کو سفارتکاری کے ذریعے بحران حل کرنے پر سراہا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر بن یامین نیتن یاہو کا کردار کیا تھا؟ اسرائیلی وزیر اعظم بظاہر واشنگٹن کو فوجی اقدام پر آمادہ کرنے میں اہم رہے۔ یہ پہلو بھی غور طلب ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر امریکا اب جنگ بندی کے بدلے یورینیم ذخیرہ ختم کرنے کی پیشکش کرے تو ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟ کیا تہران اس پر غور کرے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امکان بہت کم ہے۔ جنگ کے خاتمے کی خواہش کے باوجود ایران غالباً ایسی شرائط مسترد کر دے گا، چاہے اس کے ساتھ پابندیوں میں نرمی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی بات ایران شدید نقصان سے دوچار ہوا ہے۔ چند ہی ہفتوں میں اس نے اپنی اعلیٰ قیادت کے کئی اہم افراد کھو دیے، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور نمایاں رہنما علی لاریجانی شامل ہیں، جبکہ عام شہریوں کی اموات اور انفرااسٹرکچر کی تباہی بھی وسیع پیمانے پر ہوئی جن کی بحالی میں برسوں لگیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بات تہران میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ جنگ کا رخ آہستہ آہستہ اس کے حق میں مڑ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے اطراف حکمت عملی کے ذریعے ایران اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حالات میں محض جنگ بندی ناکافی سمجھی جا سکتی ہے۔ ایران ممکنہ طور پر مضبوط ضمانتیں چاہے گا، جن میں آئندہ حملوں سے تحفظ اور شاید ہرجانہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کی پوزیشن اسی وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک جنگ روایتی حدود میں رہے۔ اگر امریکا یا اسرائیل جوہری ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو صورتحال یکسر بدل سکتی ہے، جس کے نتائج تباہ کن اور غیر متوقع ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصراً ایران کی قیادت نے حالیہ حملوں کے بعد حکمت عملی سے کام لیا ہے۔ ابتدائی نقصانات کے باوجود اس نے اپنی پوزیشن سنبھال لی ہے۔ اب اصل چیلنج نہ صرف اس ردعمل کو برقرار رکھنا ہے بلکہ یہ بھی سمجھنا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کا مناسب وقت کب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر جنگوں کا فیصلہ صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ انہیں کس دانشمندی سے ختم کیا جاتا ہے۔ ایران کی قیادت نے ثابت قدمی دکھائی ہے، اب اسے بصیرت کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ کب ہتھیار ڈالنے ہیں، یہ جاننا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا یہ جاننا کہ کب لڑنا ہے، جب عالمی امن داؤ پر لگا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی سیاست کی نبض شناس آنکھیں یہاں ایک پرانی روش کا مشاہدہ کر رہی ہیں۔ حالات کی ابتدائی پرتیں کتنی ہی مبہم کیوں نہ نظر آئیں، حقیقت بالآخر آشکار ہو کر رہتی ہے۔ یہ منظرنامہ 2003 کے اس امریکی حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں صدام حسین کے پاس مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کو جنگ کا ایندھن بنایا گیا، مگر وقت نے اس دعوے کی قلعی کھول دی۔</strong></p>
<p>دعویٰ یہ تھا کہ دنیا کو محفوظ بنایا جائے گا۔ صدام کا اقتدار تیزی سے ختم ہوگیا، مگر ایسے کوئی ہتھیار کبھی نہیں ملے، ایک ایسی ناکامی جس نے نہ صرف جنگ کے جواز بلکہ مغربی میڈیا کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے، جس نے بڑی حد تک اس بے بنیاد دعوے کی حمایت کی تھی۔</p>
<p>دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ملتے جلتے واقعات دوبارہ سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی باتیں زور پکڑنے لگیں اور چند ہی ہفتوں میں جنگ حقیقت بن گئی۔ فوری خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران پر دونوں جوہری طاقتیں امریکا اور اسرائیل حملہ آور ہوئے، اگرچہ ایران پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(ڈبلیوایم ڈی) رکھنے کا الزام نہیں تھا، مگر یہ کہا گیا کہ اس کی مذہبی حکومت جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔اسی بنیاد پر فوجی کارروائی کو ضروری قرار دیا گیا۔</p>
<p>بظاہر عراق (2003) اور ایران (2026) کے واقعات میں مماثلت نظر آتی ہے، مگر ایک اہم فرق بھی ہے کہ عراق کے مبینہ ڈبلیو ایم ڈی  پر شکوک وقت کے ساتھ سامنے آئے، جبکہ ایران کے حوالے سے یہ شواہد پہلے ہی سامنے آنے لگے ہیں کہ اس کی قیادت جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے سے دستبردار ہونے پر آمادہ تھی۔</p>
<p>بتدریج یہ واضح ہو رہا ہے کہ جاری جنگ کو ٹالا جا سکتا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی مذاکرات کاروں سے آخری ملاقات میں اپنے ملک کی جانب سے جوہری پروگرام پر نمایاں رعایت دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔ 28 فروری کو الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ امن قریب ہے، ایران نے جوہری مواد ذخیرہ نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ  بدر بن حمد البوسعیدی نے ان مذاکرات کو  اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے افزودہ یورینیم ذخیرہ نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ایک ایسا قدم جو ہتھیار سازی کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتا۔</p>
<p>انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ باقی مسائل چند ماہ میں حل ہو سکتے ہیں  اور زور دیا کہ سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔ ان کے مطابق مذاکرات کاروں نے مسئلے کو عملاً  حل کر لیا تھا۔ مگر اسی روز یہ خبریں بھی آئیں کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو پیغام میں  بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا اعلان کیا، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ان حملوں کو  پیشگی اقدام قرار دے دیا۔</p>
<p>بعد ازاں عباسی عراقچی کے بیانات نے امریکا اور اسرائیل کے جنگی جواز کو مزید کمزور کیا۔ 15 مارچ کو سی بی ایس نیوز کے پروگرام میں انہوں نے تصدیق کی کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے تصدیق شدہ تھے اور چھپائے  گئے نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بیشتر حملوں کے نتیجے میں ملبے تلے دب چکے ہیں اور فوری طور پر انہیں نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے انکشاف کیا کہ حملوں سے صرف 48 گھنٹے پہلے ایران نے اپنے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو کم کرنے کی پیشکش کی تھی، ایک بڑی رعایت جو یہ ظاہر کرنے کے لیے تھی کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا نہ ہی ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ جنگ شروع ہونے کے بعد مذاکرات ختم ہو گئے، مگر ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ سے پہلے سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے تھے۔</p>
<p>مزید تائید 17 مارچ کو دی گارڈین کی رپورٹ سے ہوئی، جس میں صحافی پیٹرک ونٹور اور جولین بورجر نے بتایا کہ برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول جو آخری مذاکرات میں شریک تھے کے مطابق معاہدہ ہونے کے قریب تھا۔ ایران کی تجاویز کو اہم  قرار دیا گیا اور جنگ کو روکنے کے لیے کافی سمجھا گیا۔ ویانا میں 2 مارچ کو ہونے والی اگلی ملاقات کبھی نہ ہو سکی کیوں کہ اس وقت تک جنگ شروع ہو چکی تھی۔</p>
<p>اسی طرح 18 مارچ کو ونٹور نے مزید لکھا کہ عمان کے وزیر خارجہ نے نہ صرف میڈیا کو پیش رفت سے آگاہ کیا بلکہ امریکا جا کر ٹرمپ انتظامیہ کو بھی بریفنگ دی۔ ان کے مطابق عمان کو خدشہ تھا کہ اہم ثالث صدر تک مکمل معلومات نہیں پہنچا رہے۔ یہ سفارتی کوششیں اس یقین کی عکاس تھیں کہ معاہدہ قریب ہے مگر یہ جنگ کو روکنے میں ناکام رہیں۔</p>
<p>یہ صورت حال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے جب ایران اپنی افزودہ یورینیم ذخیرہ چھوڑنے پر آمادہ تھا تو پھر اس پر جنگ کیوں مسلط کی گئی؟ اگر ٹرمپ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے اور معاہدہ کر لیتے تو ان کی حکومت کو سفارتکاری کے ذریعے بحران حل کرنے پر سراہا جاتا۔</p>
<p>تو پھر بن یامین نیتن یاہو کا کردار کیا تھا؟ اسرائیلی وزیر اعظم بظاہر واشنگٹن کو فوجی اقدام پر آمادہ کرنے میں اہم رہے۔ یہ پہلو بھی غور طلب ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر امریکا اب جنگ بندی کے بدلے یورینیم ذخیرہ ختم کرنے کی پیشکش کرے تو ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟ کیا تہران اس پر غور کرے گا؟</p>
<p>امکان بہت کم ہے۔ جنگ کے خاتمے کی خواہش کے باوجود ایران غالباً ایسی شرائط مسترد کر دے گا، چاہے اس کے ساتھ پابندیوں میں نرمی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔</p>
<p>پہلی بات ایران شدید نقصان سے دوچار ہوا ہے۔ چند ہی ہفتوں میں اس نے اپنی اعلیٰ قیادت کے کئی اہم افراد کھو دیے، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور نمایاں رہنما علی لاریجانی شامل ہیں، جبکہ عام شہریوں کی اموات اور انفرااسٹرکچر کی تباہی بھی وسیع پیمانے پر ہوئی جن کی بحالی میں برسوں لگیں گے۔</p>
<p>دوسری بات تہران میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ جنگ کا رخ آہستہ آہستہ اس کے حق میں مڑ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے اطراف حکمت عملی کے ذریعے ایران اپنے مخالفین پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حالات میں محض جنگ بندی ناکافی سمجھی جا سکتی ہے۔ ایران ممکنہ طور پر مضبوط ضمانتیں چاہے گا، جن میں آئندہ حملوں سے تحفظ اور شاید ہرجانہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔</p>
<p>تاہم ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کی پوزیشن اسی وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک جنگ روایتی حدود میں رہے۔ اگر امریکا یا اسرائیل جوہری ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو صورتحال یکسر بدل سکتی ہے، جس کے نتائج تباہ کن اور غیر متوقع ہوں گے۔</p>
<p>مختصراً ایران کی قیادت نے حالیہ حملوں کے بعد حکمت عملی سے کام لیا ہے۔ ابتدائی نقصانات کے باوجود اس نے اپنی پوزیشن سنبھال لی ہے۔ اب اصل چیلنج نہ صرف اس ردعمل کو برقرار رکھنا ہے بلکہ یہ بھی سمجھنا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کا مناسب وقت کب ہے۔</p>
<p>بالآخر جنگوں کا فیصلہ صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ انہیں کس دانشمندی سے ختم کیا جاتا ہے۔ ایران کی قیادت نے ثابت قدمی دکھائی ہے، اب اسے بصیرت کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ کب ہتھیار ڈالنے ہیں، یہ جاننا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا یہ جاننا کہ کب لڑنا ہے، جب عالمی امن داؤ پر لگا ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284390</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 14:12:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نظام الدین صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/291329338b11110.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/291329338b11110.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
