<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھر سے بھولا ہوا وعدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284385/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب تھر کول پروجیکٹ نے سات سال قبل کام شروع کیا تھا تو اسے ایک تاریخی موڑ کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو نہ صرف تھرپارکر بلکہ سندھ اور پورے ملک کی معیشت کو تبدیل کر دے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سستی مقامی بجلی کی فراہمی کے علاوہ اس منصوبے سے یہ اہم وعدہ بھی وابستہ تھا کہ تھر کی وسیع کوئلے کی ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدن، جو اندازاً 175 ارب ٹن ہے، تھرپارکر کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔ اس خطے کے لیے جہاں خشک سالی، قحط اور شدید غربت عام مسائل رہے ہیں، یہ وعدہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم برسوں گزرنے کے باوجود یہ وعدہ زیادہ تر صرف امید تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں سامنے آنے والی ایک میڈیا رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2019 میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے کیے گئے وہ وعدے کہ تھر کول سے حاصل ہونے والی 100 فیصد رائلٹی تھرپارکر کی ترقی کے لیے استعمال کی جائے گی، ابھی تک پورے نہیں ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 سے 2025 کے دوران صوبائی حکومت نے کوئلے کی کان کنی سے تقریباً 50 ارب روپے رائلٹی کی مد میں وصول کیے، جبکہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی میں 54.7 فیصد حصص کے باعث وہ اس منصوبے کی بڑی مالی فائدہ اٹھانے والی فریق بھی ہے۔ تاہم ضلع میں عوامی ترقیاتی سرمایہ کاری ان آمدنیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2024-25 کے لیے تھرپارکر کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں تقریباً 10 ارب روپے مختص کیے گئے، جو کسی بھی پیمانے پر اس آمدنی کا بہت چھوٹا حصہ ہے جو یہ علاقہ پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق سماجی شعبے میں زیادہ واضح ہے۔ تھر فاؤنڈیشن، جو ضلع میں فلاحی سرگرمیوں کی ذمہ دار ہے، اس کا سالانہ بجٹ صرف 750 ملین روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ رقم اپنی جگہ قابلِ ذکر ہے، لیکن جب اسے کوئلے سے حاصل ہونے والی اربوں کی آمدنی کے مقابلے میں دیکھا جائے تو یہ اس قدر کم ہے کہ زمین سے نکالی جانے والی قدر کا صرف ایک چھوٹا حصہ معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ ادارہ جاتی ناکامی ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا قانونی اور باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے جو واضح کرے کہ تھر کول سے آنے والی رقم کو صوبائی اکاؤنٹس سے کس طرح تھرپارکر میں خرچ کرنے والے اداروں تک منتقل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وعدہ کہ ضلع کی کوئلے کی دولت اس کے محروم طبقوں کی حقیقی ترقی میں تبدیل ہوگی، اس قانونی ڈھانچے کی عدم موجودگی میں محض الفاظ تک محدود ہے۔ اس نظام کی عدم موجودگی سندھ حکومت کی سنگین غفلت کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھرپارکر ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین کا یہ مطالبہ بھی قابلِ غور ہے کہ تھر کول کی آمدن براہ راست مقامی حکومتوں کو دی جائے، تاہم صوبائی حکومتوں کی جانب سے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں مسلسل ہچکچاہٹ کے باعث ایسے مطالبات کے پورے ہونے کے امکانات کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکام یہ تسلیم کریں کہ جب تک معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کو مقامی آبادی کی فلاح کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، ترقی کا خواب ادھورا رہے گا اور مقامی لوگوں میں احساسِ محرومی بڑھتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سندھ حکومت کے نمائندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ علاقے میں سڑکوں، اسپتالوں اور اسکولوں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ورلڈ بینک کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق تھرپارکر اب بھی پاکستان کے غریب ترین اضلاع میں شامل ہے، جہاں غربت کی شرح 76.9 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال اس وقت ناقابلِ جواز ہے جب منصوبے کو سات سال پہلے ایک گیم چینجر کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ حکومت اپنی انتظامی سستی کو ختم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تھر کی پیدا کردہ دولت اسی خطے کی ترقی پر خرچ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورنہ یہ ثابت ہوگا کہ بھاری مالی وسائل کے باوجود حکومت مؤثر اور عوام دوست طرزِ حکمرانی میں ناکام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب تھر کول پروجیکٹ نے سات سال قبل کام شروع کیا تھا تو اسے ایک تاریخی موڑ کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو نہ صرف تھرپارکر بلکہ سندھ اور پورے ملک کی معیشت کو تبدیل کر دے گا۔</strong></p>
<p>سستی مقامی بجلی کی فراہمی کے علاوہ اس منصوبے سے یہ اہم وعدہ بھی وابستہ تھا کہ تھر کی وسیع کوئلے کی ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدن، جو اندازاً 175 ارب ٹن ہے، تھرپارکر کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔ اس خطے کے لیے جہاں خشک سالی، قحط اور شدید غربت عام مسائل رہے ہیں، یہ وعدہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔</p>
<p>تاہم برسوں گزرنے کے باوجود یہ وعدہ زیادہ تر صرف امید تک محدود ہے۔</p>
<p>حال ہی میں سامنے آنے والی ایک میڈیا رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2019 میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے کیے گئے وہ وعدے کہ تھر کول سے حاصل ہونے والی 100 فیصد رائلٹی تھرپارکر کی ترقی کے لیے استعمال کی جائے گی، ابھی تک پورے نہیں ہو سکے۔</p>
<p>2023 سے 2025 کے دوران صوبائی حکومت نے کوئلے کی کان کنی سے تقریباً 50 ارب روپے رائلٹی کی مد میں وصول کیے، جبکہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی میں 54.7 فیصد حصص کے باعث وہ اس منصوبے کی بڑی مالی فائدہ اٹھانے والی فریق بھی ہے۔ تاہم ضلع میں عوامی ترقیاتی سرمایہ کاری ان آمدنیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔</p>
<p>سال 2024-25 کے لیے تھرپارکر کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں تقریباً 10 ارب روپے مختص کیے گئے، جو کسی بھی پیمانے پر اس آمدنی کا بہت چھوٹا حصہ ہے جو یہ علاقہ پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق سماجی شعبے میں زیادہ واضح ہے۔ تھر فاؤنڈیشن، جو ضلع میں فلاحی سرگرمیوں کی ذمہ دار ہے، اس کا سالانہ بجٹ صرف 750 ملین روپے ہے۔</p>
<p>اگرچہ یہ رقم اپنی جگہ قابلِ ذکر ہے، لیکن جب اسے کوئلے سے حاصل ہونے والی اربوں کی آمدنی کے مقابلے میں دیکھا جائے تو یہ اس قدر کم ہے کہ زمین سے نکالی جانے والی قدر کا صرف ایک چھوٹا حصہ معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>اصل مسئلہ ادارہ جاتی ناکامی ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا قانونی اور باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے جو واضح کرے کہ تھر کول سے آنے والی رقم کو صوبائی اکاؤنٹس سے کس طرح تھرپارکر میں خرچ کرنے والے اداروں تک منتقل کیا جائے۔</p>
<p>یہ وعدہ کہ ضلع کی کوئلے کی دولت اس کے محروم طبقوں کی حقیقی ترقی میں تبدیل ہوگی، اس قانونی ڈھانچے کی عدم موجودگی میں محض الفاظ تک محدود ہے۔ اس نظام کی عدم موجودگی سندھ حکومت کی سنگین غفلت کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>تھرپارکر ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین کا یہ مطالبہ بھی قابلِ غور ہے کہ تھر کول کی آمدن براہ راست مقامی حکومتوں کو دی جائے، تاہم صوبائی حکومتوں کی جانب سے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں مسلسل ہچکچاہٹ کے باعث ایسے مطالبات کے پورے ہونے کے امکانات کم ہیں۔</p>
<p>ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکام یہ تسلیم کریں کہ جب تک معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کو مقامی آبادی کی فلاح کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، ترقی کا خواب ادھورا رہے گا اور مقامی لوگوں میں احساسِ محرومی بڑھتا رہے گا۔</p>
<p>اگرچہ سندھ حکومت کے نمائندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ علاقے میں سڑکوں، اسپتالوں اور اسکولوں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ورلڈ بینک کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق تھرپارکر اب بھی پاکستان کے غریب ترین اضلاع میں شامل ہے، جہاں غربت کی شرح 76.9 فیصد ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال اس وقت ناقابلِ جواز ہے جب منصوبے کو سات سال پہلے ایک گیم چینجر کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سندھ حکومت اپنی انتظامی سستی کو ختم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تھر کی پیدا کردہ دولت اسی خطے کی ترقی پر خرچ ہو۔</p>
<p>ورنہ یہ ثابت ہوگا کہ بھاری مالی وسائل کے باوجود حکومت مؤثر اور عوام دوست طرزِ حکمرانی میں ناکام ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284385</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 12:32:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/29123033c0e87e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="658" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/29123033c0e87e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
