<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی محکموں میں دیگر صوبوں سے بھرتیوں پر اسٹے ختم کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284384/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف محکموں میں دیگر صوبوں سے بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست پر جاری اسٹے آرڈر واپس لے لیا ہے، جس کے بعد موجودہ پالیسی کے تحت نئی بھرتیوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس راجہ محمد انعام امین منہاس پر مشتمل لارجر بینچ نے یکم اگست 2024 کو جاری کیا گیا سابقہ حکم واپس لیتے ہوئے مختلف وفاقی اداروں میں بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کر دی، جس میں اسلام آباد پولیس کی 1300 آسامیوں پر بھرتی بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار بیرسٹر یاور گردیزی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے علاوہ کسی بھی صوبے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے اداروں میں ملازمتوں کے لیے کوٹہ غیر قانونی ہے اور صرف اسلام آباد ڈومیسائل رکھنے والے افراد کو ان آسامیوں کا اہل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ بھرتیاں موجودہ کوٹہ سسٹم کے تحت ہی کی جائیں۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ 2024 سے بھرتیوں کا عمل رکا ہوا تھا جس کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور شہریوں کو ملازمت کے مواقع نہیں مل سکے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسلام آباد کے قیام کے وقت ملک بھر سے لوگ یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے مزید استدعا کی تھی کہ دیگر صوبوں کے افراد کو اسلام آباد کیپیٹل کے اداروں میں ملازمت کے لیے نااہل قرار دیا جائے اور صرف اسلام آباد ڈومیسائل رکھنے والوں کو بھرتی کا حق دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مختلف سرکاری قواعد کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید استدعا میں کہا گیا تھا کہ عدالتی اور وفاقی اداروں میں بھی صرف اسلام آباد ڈومیسائل رکھنے والوں کو ہی تعینات کیا جائے، تاہم عدالت نے مجموعی طور پر اسٹے ختم کرتے ہوئے بھرتیوں کی اجازت دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف محکموں میں دیگر صوبوں سے بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست پر جاری اسٹے آرڈر واپس لے لیا ہے، جس کے بعد موجودہ پالیسی کے تحت نئی بھرتیوں کی اجازت دے دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس راجہ محمد انعام امین منہاس پر مشتمل لارجر بینچ نے یکم اگست 2024 کو جاری کیا گیا سابقہ حکم واپس لیتے ہوئے مختلف وفاقی اداروں میں بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کر دی، جس میں اسلام آباد پولیس کی 1300 آسامیوں پر بھرتی بھی شامل تھی۔</p>
<p>درخواست گزار بیرسٹر یاور گردیزی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے علاوہ کسی بھی صوبے کے لیے وفاقی دارالحکومت کے اداروں میں ملازمتوں کے لیے کوٹہ غیر قانونی ہے اور صرف اسلام آباد ڈومیسائل رکھنے والے افراد کو ان آسامیوں کا اہل ہونا چاہیے۔</p>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ بھرتیاں موجودہ کوٹہ سسٹم کے تحت ہی کی جائیں۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ 2024 سے بھرتیوں کا عمل رکا ہوا تھا جس کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور شہریوں کو ملازمت کے مواقع نہیں مل سکے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسلام آباد کے قیام کے وقت ملک بھر سے لوگ یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔</p>
<p>درخواست گزار نے مزید استدعا کی تھی کہ دیگر صوبوں کے افراد کو اسلام آباد کیپیٹل کے اداروں میں ملازمت کے لیے نااہل قرار دیا جائے اور صرف اسلام آباد ڈومیسائل رکھنے والوں کو بھرتی کا حق دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مختلف سرکاری قواعد کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔</p>
<p>مزید استدعا میں کہا گیا تھا کہ عدالتی اور وفاقی اداروں میں بھی صرف اسلام آباد ڈومیسائل رکھنے والوں کو ہی تعینات کیا جائے، تاہم عدالت نے مجموعی طور پر اسٹے ختم کرتے ہوئے بھرتیوں کی اجازت دے دی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284384</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 12:21:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیرنس جے سگامونی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/29122004c9724da.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/29122004c9724da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
