<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثی بھی ایران جنگ میں شامل، ہزاروں امریکی میرینز کی خطے میں آمد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284381/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے ہفتے کے روز اسرائیل پر دوبارہ حملے شروع کر دیے، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسی دوران امریکا کی اضافی فوجی نفری مشرق وسطیٰ پہنچ گئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے مطابق ہزاروں میرینز کو خطے میں تعینات کیا جا رہا ہے جبکہ ایک بحری جہاز کے ذریعے دو دستوں میں سے پہلا دستہ جمعے کے روز پہنچا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ پینٹاگون ایران میں ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جن میں اسپیشل فورسز اور عام فوجی دستوں کے چھاپہ مار آپریشن شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اپنے اہداف زمینی فوج کے بغیر بھی حاصل کر سکتا ہے، تاہم خطے میں فوجی موجودگی صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنے کے لیے بڑھائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیل نے تہران اور لبنان میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ لبنان میں ایک میڈیا گاڑی پر حملے میں تین صحافی اور ایک امدادی کارکن ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے صحافی حزب اللہ کے انٹیلی جنس نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثی گروپ نے اسرائیل پر میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیل نے بھی حملے کی تصدیق کی تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے سعودی عرب میں ایک فضائی اڈے پر حملے کا دعویٰ کیا جس میں امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ ایران نے عراق اور خلیجی ریاستوں میں بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے باعث ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کے حملے مختلف ممالک تک پھیل گئے ہیں، جس سے عالمی توانائی اور تجارتی راستوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران کے صدر نے کہا ہے کہ اگر اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم صورتحال تاحال انتہائی غیر مستحکم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے ہفتے کے روز اسرائیل پر دوبارہ حملے شروع کر دیے، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسی دوران امریکا کی اضافی فوجی نفری مشرق وسطیٰ پہنچ گئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی فوج کے مطابق ہزاروں میرینز کو خطے میں تعینات کیا جا رہا ہے جبکہ ایک بحری جہاز کے ذریعے دو دستوں میں سے پہلا دستہ جمعے کے روز پہنچا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ پینٹاگون ایران میں ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جن میں اسپیشل فورسز اور عام فوجی دستوں کے چھاپہ مار آپریشن شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اپنے اہداف زمینی فوج کے بغیر بھی حاصل کر سکتا ہے، تاہم خطے میں فوجی موجودگی صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنے کے لیے بڑھائی جا رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیل نے تہران اور لبنان میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ لبنان میں ایک میڈیا گاڑی پر حملے میں تین صحافی اور ایک امدادی کارکن ہلاک ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے صحافی حزب اللہ کے انٹیلی جنس نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔</p>
<p>حوثی گروپ نے اسرائیل پر میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اسرائیل نے بھی حملے کی تصدیق کی تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے سعودی عرب میں ایک فضائی اڈے پر حملے کا دعویٰ کیا جس میں امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ ایران نے عراق اور خلیجی ریاستوں میں بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔</p>
<p>امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے باعث ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کے حملے مختلف ممالک تک پھیل گئے ہیں، جس سے عالمی توانائی اور تجارتی راستوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ادھر ایران کے صدر نے کہا ہے کہ اگر اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم صورتحال تاحال انتہائی غیر مستحکم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284381</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 11:49:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/29114409ad52199.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/29114409ad52199.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
