<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈبلیو ٹی او مذاکرات تعطل کا شکار، امریکا اور بھارت میں ای کامرس پر ڈیڈ لاک برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284378/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن(ڈبلیو ٹی او) میں اصلاحات اور ڈیجیٹل مصنوعات جیسے ڈاؤن لوڈز پر کسٹمز ڈیوٹی نہ لگانے کے حوالے سے عائد عارضی پابندی میں توسیع سے متعلق مذاکرات اتوار کو اپنے آخری دن میں داخل ہو گئے تاہم کسی حتمی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی ذرائع کے مطابق کیمرون میں جاری ڈبلیو ٹی او اجلاس میں تجارتی وزرا اس اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکا اور بھارت کے درمیان ای کامرس موریٹوریم میں توسیع کے معاملے پر پایا جاتا ہے۔ یہ پابندی اس ماہ ختم ہو رہی ہے۔ تین سفارت کاروں نے بتایا کہ بھارت نے دو سال کی توسیع پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ امریکا مستقل توسیع کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن عارضی توسیع میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ مستقل حل چاہتا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس پابندی میں توسیع انتہائی اہم ہے تاکہ عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا مستقل حل کی طرف راستہ کے طور پر 10 سالہ توسیع پر بھی غور کر سکتا ہے جبکہ ایک اور تجویز 5 سے 10 سال کے درمیانی عرصے کی ہے۔ تاہم ایک سفارت کار نے کہا کہ امکان کم ہے کہ تمام رکن ممالک دو سال سے زیادہ توسیع پر متفق ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نئے مسودے میں ترقی پذیر ممالک کے لیے معاونت اور جائزہ شق شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ امریکی سفیر جوزف بارلون نے کہا کہ اگر موریٹوریم میں توسیع نہ ہوئی تو امریکا عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ مکمل وابستگی برقرار رکھنے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران تنظیم میں اصلاحات کا معاملہ بھی زیر بحث ہے، جس میں سبسڈی کے استعمال کو شفاف بنانے، فیصلہ سازی کو آسان بنانے اور زیادہ پسندیدہ ملک کے اصول پر نظرثانی کی تجاویز شامل ہیں۔ امریکا اور یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ چین نے موجودہ قواعد سے فائدہ اٹھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں فیصلہ سازی کے متفقہ نظام پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ بعض ممالک کی مخالفت کی وجہ سے اصلاحاتی عمل رکا ہوا ہے۔ کئی ممالک نے اصلاحات کے تفصیلی منصوبے کی مخالفت کی ہے جبکہ بیشتر رکن ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی جانب سے بھی ایک اہم مجوزہ معاہدے کی مخالفت کی گئی ہے جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے معاہدے عالمی تجارتی ادارے کے بنیادی اصولوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن(ڈبلیو ٹی او) میں اصلاحات اور ڈیجیٹل مصنوعات جیسے ڈاؤن لوڈز پر کسٹمز ڈیوٹی نہ لگانے کے حوالے سے عائد عارضی پابندی میں توسیع سے متعلق مذاکرات اتوار کو اپنے آخری دن میں داخل ہو گئے تاہم کسی حتمی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔</strong></p>
<p>سفارتی ذرائع کے مطابق کیمرون میں جاری ڈبلیو ٹی او اجلاس میں تجارتی وزرا اس اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکا اور بھارت کے درمیان ای کامرس موریٹوریم میں توسیع کے معاملے پر پایا جاتا ہے۔ یہ پابندی اس ماہ ختم ہو رہی ہے۔ تین سفارت کاروں نے بتایا کہ بھارت نے دو سال کی توسیع پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ امریکا مستقل توسیع کا خواہاں ہے۔</p>
<p>امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن عارضی توسیع میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ مستقل حل چاہتا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس پابندی میں توسیع انتہائی اہم ہے تاکہ عالمی تجارت میں غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔</p>
<p>سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا مستقل حل کی طرف راستہ کے طور پر 10 سالہ توسیع پر بھی غور کر سکتا ہے جبکہ ایک اور تجویز 5 سے 10 سال کے درمیانی عرصے کی ہے۔ تاہم ایک سفارت کار نے کہا کہ امکان کم ہے کہ تمام رکن ممالک دو سال سے زیادہ توسیع پر متفق ہوں۔</p>
<p>ایک نئے مسودے میں ترقی پذیر ممالک کے لیے معاونت اور جائزہ شق شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ امریکی سفیر جوزف بارلون نے کہا کہ اگر موریٹوریم میں توسیع نہ ہوئی تو امریکا عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ مکمل وابستگی برقرار رکھنے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔</p>
<p>اسی دوران تنظیم میں اصلاحات کا معاملہ بھی زیر بحث ہے، جس میں سبسڈی کے استعمال کو شفاف بنانے، فیصلہ سازی کو آسان بنانے اور زیادہ پسندیدہ ملک کے اصول پر نظرثانی کی تجاویز شامل ہیں۔ امریکا اور یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ چین نے موجودہ قواعد سے فائدہ اٹھایا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں فیصلہ سازی کے متفقہ نظام پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ بعض ممالک کی مخالفت کی وجہ سے اصلاحاتی عمل رکا ہوا ہے۔ کئی ممالک نے اصلاحات کے تفصیلی منصوبے کی مخالفت کی ہے جبکہ بیشتر رکن ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں۔</p>
<p>بھارت کی جانب سے بھی ایک اہم مجوزہ معاہدے کی مخالفت کی گئی ہے جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے معاہدے عالمی تجارتی ادارے کے بنیادی اصولوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284378</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 10:53:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/291050589f4e342.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/291050589f4e342.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
