<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کیلئے برآمدات ایل سی/بینک گارنٹی سے مستثنیٰ قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284376/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کو زمینی راستوں کے ذریعے ہونے والی برآمدات پر بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط ختم کر دی ہے، تاکہ برآمدکنندگان کو سہولت دی جا سکے اور علاقائی تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جو وزیرِ تجارت جام کمال خان کی ہدایت پر جاری کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایران کے راستے ہونے والی برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دیا گیا ہے، جبکہ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے مالیاتی دستاویزات کے تقاضوں میں نرمی بھی منظور کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رعایت 24 مارچ 2026 سے 21 جون 2026 تک تین ماہ کے لیے نافذ العمل رہے گی۔ اس اسکیم کے تحت ایران کو مختلف اشیا کی برآمد کی اجازت دی گئی ہے جن میں چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور پھل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات اور خیمے بھی اس سہولت کے دائرے میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے بعض ضوابط میں نرمی دی گئی ہے، تاہم برآمدی آمدنی مقررہ مدت میں ملک میں واپس لانے کی شرط برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت کے مطابق اس اقدام سے علاقائی تجارتی روابط مضبوط ہوں گے اور پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان کو بھی چاول برآمد کر سکے گا۔ وزیرِ تجارت نے کہا کہ ادویات کی برآمدات میں رکاوٹوں کا خاتمہ حکومت کی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران کے ذریعے تجارت سے لاگت اور ٹرانزٹ وقت میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وزارتِ تجارت کو ہدایت دی تھی کہ پاکستان اور ایران کے درمیان متوازن اور قانونی تجارت کے لیے عملی، لاجسٹک اور ریگولیٹری مسائل حل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اگرچہ ایران سے اسٹیل کی درآمد کی اجازت موجود ہے، تاہم مقامی اسٹیل صنعت متاثر ہوئی ہے اور بعض یونٹس بندش کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت امریکی پابندیوں، اسمگلنگ کے خدشات اور غیر دستاویزی لین دین جیسے مسائل کے باعث حساس نوعیت کی حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت زیادہ تر بارٹر نظام کے تحت ہو رہی ہے۔ پاکستان سے چاول اور آم کی برآمدات پر ایران کی جانب سے بعض پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی موجود ہیں، خاص طور پر پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی رسائی تفتان تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلے تین ماہ کے دوران تجارتی سفارت کاری میں تیزی آئی ہے اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 پاکستانی کاروباری افراد ایران میں ملاقاتوں میں شریک ہوئے۔ تاہم برآمدات اور درآمدات کی اجازت ایک ہی فرد تک محدود ہونے کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے، جس پر نظرثانی کی تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے زیر غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اقتصادی فورم بھی دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ ایرانی کسٹمز کے مطابق 2024 میں پاکستان کی ایران کو برآمدات 2.706 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 2.422 ارب ڈالر رہیں۔ پاکستان ایران سے بنیادی طور پر پیٹرولیم، لوہا، اسٹیل، سبزیاں، کیمیکل اور ڈیری مصنوعات درآمد کرتا ہے جبکہ برآمدات میں سیمنٹ، شیشہ اور سیرامکس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کو زمینی راستوں کے ذریعے ہونے والی برآمدات پر بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط ختم کر دی ہے، تاکہ برآمدکنندگان کو سہولت دی جا سکے اور علاقائی تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔</strong></p>
<p>وزارتِ تجارت نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جو وزیرِ تجارت جام کمال خان کی ہدایت پر جاری کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایران کے راستے ہونے والی برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دیا گیا ہے، جبکہ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے مالیاتی دستاویزات کے تقاضوں میں نرمی بھی منظور کی گئی ہے۔</p>
<p>یہ رعایت 24 مارچ 2026 سے 21 جون 2026 تک تین ماہ کے لیے نافذ العمل رہے گی۔ اس اسکیم کے تحت ایران کو مختلف اشیا کی برآمد کی اجازت دی گئی ہے جن میں چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور پھل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات اور خیمے بھی اس سہولت کے دائرے میں آتے ہیں۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے بعض ضوابط میں نرمی دی گئی ہے، تاہم برآمدی آمدنی مقررہ مدت میں ملک میں واپس لانے کی شرط برقرار رہے گی۔</p>
<p>وزارتِ تجارت کے مطابق اس اقدام سے علاقائی تجارتی روابط مضبوط ہوں گے اور پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان کو بھی چاول برآمد کر سکے گا۔ وزیرِ تجارت نے کہا کہ ادویات کی برآمدات میں رکاوٹوں کا خاتمہ حکومت کی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران کے ذریعے تجارت سے لاگت اور ٹرانزٹ وقت میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔</p>
<p>اس سے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وزارتِ تجارت کو ہدایت دی تھی کہ پاکستان اور ایران کے درمیان متوازن اور قانونی تجارت کے لیے عملی، لاجسٹک اور ریگولیٹری مسائل حل کیے جائیں۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اگرچہ ایران سے اسٹیل کی درآمد کی اجازت موجود ہے، تاہم مقامی اسٹیل صنعت متاثر ہوئی ہے اور بعض یونٹس بندش کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت امریکی پابندیوں، اسمگلنگ کے خدشات اور غیر دستاویزی لین دین جیسے مسائل کے باعث حساس نوعیت کی حامل ہے۔</p>
<p>اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت زیادہ تر بارٹر نظام کے تحت ہو رہی ہے۔ پاکستان سے چاول اور آم کی برآمدات پر ایران کی جانب سے بعض پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی موجود ہیں، خاص طور پر پاکستانی ٹرانسپورٹرز کی رسائی تفتان تک محدود ہے۔</p>
<p>پچھلے تین ماہ کے دوران تجارتی سفارت کاری میں تیزی آئی ہے اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 پاکستانی کاروباری افراد ایران میں ملاقاتوں میں شریک ہوئے۔ تاہم برآمدات اور درآمدات کی اجازت ایک ہی فرد تک محدود ہونے کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے، جس پر نظرثانی کی تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے زیر غور ہے۔</p>
<p>مشترکہ اقتصادی فورم بھی دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ ایرانی کسٹمز کے مطابق 2024 میں پاکستان کی ایران کو برآمدات 2.706 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 2.422 ارب ڈالر رہیں۔ پاکستان ایران سے بنیادی طور پر پیٹرولیم، لوہا، اسٹیل، سبزیاں، کیمیکل اور ڈیری مصنوعات درآمد کرتا ہے جبکہ برآمدات میں سیمنٹ، شیشہ اور سیرامکس شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284376</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 10:21:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/291018017179ce4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/291018017179ce4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
