<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈیا کے دو ایل پی جی ٹینکرز نے آبنائے ہرمز عبور کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284373/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈیا جانے والے دو مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) ٹینکرز، بی ڈبلیو ایلم اور بی ڈبلیو ٹائر، اس وقت آبنائے ہرمز عبور کر رہے ہیں، جیسا کہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں ایل ایس ای جی اور کیپلر نے ظاہر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ سے جہاز رانی تقریباً بند ہو چکی تھی، تاہم ایران نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ دشمن ممالک کے علاوہ جہاز ایرانی حکام سے رابطہ کرکے اس راستے سے گزر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا کے مطابق دونوں بھارتی پرچم بردار جہاز خلیجی علاقے کو عبور کرکے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں داخل ہو چکے ہیں۔ بھارت بتدریج اپنی پھنسے ہوئے ایل پی جی کارگو کو اس علاقے سے نکال رہا ہے، اور اب تک شیوالک، نندا دیوی، پائن گیس اور جگ وسنت سمیت چار ٹینکرز کو منتقل کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ تک 20 بھارتی پرچم بردار جہاز، جن میں 5 ایل پی جی کیریئرز شامل ہیں، خلیج میں پھنسے ہوئے تھے۔ جبکہ جگ وکرم، گرین آشا اور گرین سانوی اب بھی آبنائے کے مغربی حصے میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کا دوسرا بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ بھارت اس وقت دہائیوں کے بدترین گیس بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں حکومت نے گھریلو صارفین کو ترجیح دینے کے لیے صنعتی گیس سپلائی کم کر دی ہے۔ گزشتہ سال ملک نے 33.15 ملین میٹرک ٹن ایل پی جی استعمال کی، جس کا تقریباً 60 فیصد درآمدات پر مشتمل تھا، اور ان میں سے 90 فیصد مشرق وسطیٰ سے حاصل کی گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈیا جانے والے دو مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) ٹینکرز، بی ڈبلیو ایلم اور بی ڈبلیو ٹائر، اس وقت آبنائے ہرمز عبور کر رہے ہیں، جیسا کہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں ایل ایس ای جی اور کیپلر نے ظاہر کیا ہے۔</strong></p>
<p>ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ سے جہاز رانی تقریباً بند ہو چکی تھی، تاہم ایران نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ دشمن ممالک کے علاوہ جہاز ایرانی حکام سے رابطہ کرکے اس راستے سے گزر سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈیٹا کے مطابق دونوں بھارتی پرچم بردار جہاز خلیجی علاقے کو عبور کرکے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں داخل ہو چکے ہیں۔ بھارت بتدریج اپنی پھنسے ہوئے ایل پی جی کارگو کو اس علاقے سے نکال رہا ہے، اور اب تک شیوالک، نندا دیوی، پائن گیس اور جگ وسنت سمیت چار ٹینکرز کو منتقل کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>جمعہ تک 20 بھارتی پرچم بردار جہاز، جن میں 5 ایل پی جی کیریئرز شامل ہیں، خلیج میں پھنسے ہوئے تھے۔ جبکہ جگ وکرم، گرین آشا اور گرین سانوی اب بھی آبنائے کے مغربی حصے میں موجود ہیں۔</p>
<p>دنیا کا دوسرا بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ بھارت اس وقت دہائیوں کے بدترین گیس بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں حکومت نے گھریلو صارفین کو ترجیح دینے کے لیے صنعتی گیس سپلائی کم کر دی ہے۔ گزشتہ سال ملک نے 33.15 ملین میٹرک ٹن ایل پی جی استعمال کی، جس کا تقریباً 60 فیصد درآمدات پر مشتمل تھا، اور ان میں سے 90 فیصد مشرق وسطیٰ سے حاصل کی گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284373</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 09:48:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/29094513193079e.webp" type="image/webp" medium="image" height="658" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/29094513193079e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
