<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے راستے برآمدات، بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط ختم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284368/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے برآمد کنندگان  کو ایران کے راستے برآمدات کیلئے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی شرط سے عارضی استثنیٰ دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی ہدایات پر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق وزارتِ تجارت نے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کے لیے مالیاتی دستاویزات سے عارضی استثنیٰ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اب ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کو زمینی راستوں کے ذریعے برآمدات کی اجازت ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے بتایا کہ یہ استثنیٰ تین ماہ کے لیے دیا گیا ہے، جس کا اطلاق 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک ہوگا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت نے یہ قدم برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کو مختلف اشیاء کی برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے، جن میں چاول، سمندری غذا ، آلو، گوشت، پیاز، سویٹ کارن اور پھل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات  اور خیموں کی برآمد کو بھی اس رعایت میں شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق حکومت نے اسٹیٹ بینک کے قوانین سے بھی جزوی استثنیٰ دے دیا ہے، تاہم برآمدی آمدنی  کو مقررہ مدت کے اندر ملک واپس لانے کی شرط برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت کے مطابق اس اقدام سے خطے میں تجارتی تعلقات کو استحکام ملے گا۔ جام کمال خان نے کہا کہ حکومت برآمدات کے فروغ اور تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے مزید کہا کہ پاکستان اب ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان کو چاول برآمد کر سکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ادویات کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وزارتِ تجارت علاقائی روابط  اور تجارتی حجم میں اضافے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے کہا کہ ایران کے راستے تجارت سے برآمد کنندگان کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات میں اضافہ کر کے ہم ملک کو معاشی استحکام کی سمت لے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے برآمد کنندگان  کو ایران کے راستے برآمدات کیلئے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی شرط سے عارضی استثنیٰ دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>ہفتے کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی ہدایات پر لیا گیا۔</p>
<p>بیان کے مطابق وزارتِ تجارت نے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کے لیے مالیاتی دستاویزات سے عارضی استثنیٰ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اب ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کو زمینی راستوں کے ذریعے برآمدات کی اجازت ہو گی۔</p>
<p>جام کمال خان نے بتایا کہ یہ استثنیٰ تین ماہ کے لیے دیا گیا ہے، جس کا اطلاق 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک ہوگا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت نے یہ قدم برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا ہے۔</p>
<p>ایران کو مختلف اشیاء کی برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے، جن میں چاول، سمندری غذا ، آلو، گوشت، پیاز، سویٹ کارن اور پھل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات  اور خیموں کی برآمد کو بھی اس رعایت میں شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق حکومت نے اسٹیٹ بینک کے قوانین سے بھی جزوی استثنیٰ دے دیا ہے، تاہم برآمدی آمدنی  کو مقررہ مدت کے اندر ملک واپس لانے کی شرط برقرار رہے گی۔</p>
<p>وزارتِ تجارت کے مطابق اس اقدام سے خطے میں تجارتی تعلقات کو استحکام ملے گا۔ جام کمال خان نے کہا کہ حکومت برآمدات کے فروغ اور تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔</p>
<p>جام کمال خان نے مزید کہا کہ پاکستان اب ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان کو چاول برآمد کر سکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ادویات کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وزارتِ تجارت علاقائی روابط  اور تجارتی حجم میں اضافے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔</p>
<p>جام کمال خان نے کہا کہ ایران کے راستے تجارت سے برآمد کنندگان کی لاگت اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات میں اضافہ کر کے ہم ملک کو معاشی استحکام کی سمت لے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284368</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 15:52:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/28153722096a396.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/28153722096a396.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
