<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریلوے ٹریکس میں فنی نقائص، ایک بڑا سوالیہ نشان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284365/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب ایک اندرونی معائنہ یہ انکشاف کرے کہ مسافر ٹرین کی تقریباً 60 فیصد بوگیاں فعال بریکوں کے بغیر چل رہی تھیں لیکن اس کے باوجود فوری نتیجہ یہ نکالا جائے کہ ہونے والے تصادم کے ذمہ دار ڈرائیور اور اس کا اسسٹنٹ ہیں تو معاملہ صرف ایک حادثے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ صورتحال ان تکلیف دہ سوالات کو جنم دیتی ہے کہ پاکستان ریلوے سیفٹی کی تعریف کیسے کرتا ہے، ذمہ داری کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ خود کو (احتساب سے) کیسے بچاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شالیمار ایکسپریس کے حالیہ واقعے نے ایک ایسے تضاد کو بے نقاب کردیا جسے محض طریقہ کار کی غلطی یا تحقیقاتی جلد بازی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سکھر میں کی گئی ریک ایگزامینیشن نے 18 میں سے 10 کوچز میں سنگین نقائص کی واضح نشاندہی کی تھی جن میں 9 کوچز ایسی تھیں جن کے بریک سلنڈر کام نہیں کررہے تھے۔ یہ معمولی فنی کوتاہیاں نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق براہِ راست آپریشنل سیفٹی سے ہے۔ وہ ٹرین جو بریک لگانے کی ناقص صلاحیت کے ساتھ چل رہی ہو، وہ تکنیکی لحاظ سے اسٹیشن سے روانہ ہونے سے پہلے ہی ناکام نظام کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام صورتحال کے تناظر میں حادثے کی پوری ذمہ داری صرف عملے (ڈرائیور اور اسسٹنٹ) کی غفلت پر ڈالنے کا فیصلہ ایک حتمی نتیجے کے بجائے ایک دفاعی ردِعمل معلوم ہوتا ہے۔ جوائنٹ سرٹیفکیٹ سرخ سگنل کی خلاف ورزی اور ٹرین کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ آپریشنل سطح پر یہ حقائق درست ہوسکتے ہیں لیکن یہ اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے کہ: آخر ایسی خستہ حال ٹرین کو سرے سے پٹری پر آنے کی اجازت ہی کیوں دی گئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریلوے جیسے نظام میں ذمہ داری کی کئی تہیں ہوتی ہیں۔ ڈرائیورز ان آلات اور سازوسامان کی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں جو انہیں فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگر بریک لگانے کا نظام ہی ناقص ہو، تو غلطی کی گنجائش انتہائی کم ہو جاتی ہے، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جہاں ٹرین کی رفتار کو تیزی سے کم کرنا مقصود ہو۔ عملے کے اقدامات کو ٹرین کی (خستہ) حالت سے الگ کر کے دیکھنا دراصل اس زنجیر کی صرف آخری کڑی کا معائنہ کرنے کے مترادف ہے جو بہت پہلے ہی کمزور ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معائنے کی رپورٹ میں استعمال ہونے والی اصطلاح ڈمی کوچز خاص طور پر حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کے ناقص سازوسامان کی موجودگی محض کوئی اتفاقی غلطی نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ، اگرچہ غیر سرکاری، روایت بن چکی ہے۔ اگر بنیادی حفاظتی فیچرز سے محروم کوچز کو معمول کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے تو پھر یہ مسئلہ ادارہ جاتی نوعیت کا ہے۔ یہ بحالی اور دیکھ بھال کے ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جو ٹرینوں کے صحیح حالت میں ہونے کے بجائے صرف انہیں پٹریوں پر دوڑانے کو ترجیح دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلی وارنٹی یا انتباہ نہیں ہے۔ ٹرین ڈرائیورز نے حال ہی میں، گزشتہ سال ہی ناقص آلات اور مشینری کی وجہ سے ہونے والے حادثات کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان کے خدشات اب حقیقت ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جب فرنٹ لائن پر کام کرنے والے (ڈرائیورز) خطرے کا اشارہ دیں اور نظام میں کوئی تبدیلی نہ لائی جائے تو اس کا حتمی نتیجہ حادثہ نہیں بلکہ ایک متوقع انجام ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں ریگولیٹری فریم ورک بھی برابر کا قصوروار ہے۔ تکنیکی معائنے سے لے کر فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کی نگرانی تک، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعدد تہیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود ایسی سنگین خامیوں والی ٹرین کا ان تمام مراحل سے گزر جانا یا تو قوانین پر عملدرآمد کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے یا پھر خطرات کو نظر انداز کرنے کے اس رویے کی نشاندہی کرتا ہے جو اب اس ادارے کی جڑوں میں بیٹھ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کی ناکامیوں کی قیمت بہت وسیع ہے۔ پاکستان ریلوے، جو پہلے ہی عوامی اعتماد کی بحالی اور مالی استحکام کے لیے جدوجہد کررہا ہے، ایسے بار بار ہونے والے واقعات کا متحمل نہیں ہوسکتا جو نظام کی سنگین غفلت کو ظاہر کرتے ہیں۔ حفاظتی کوتاہیاں اعتماد کو اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ختم کردیتی ہیں جتنی تیزی سے آپریشنل بہتری اسے بحال کرپاتی ہے۔ ہر ایسا واقعہ اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو بحرانوں کو روکنے کے بجائے محض ان کا انتظام  کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے فوری ردِعمل صرف عملے (عملہِ ٹرین) کو قصوروار ٹھہرانے سے کہیں آگے ہونا چاہیے۔ ایک آزادانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہے، جو دیکھ بھال کے نظام اور معائنے کے طریقہ کار سے لے کر انتظامی سطح پر فیصلہ سازی تک ذمہ داری کی پوری زنجیر کا جائزہ لے۔ اس کے بغیر، نتیجہ وہی پرانے روایتی انداز کے مطابق ہوگا: یعنی نچلی سطح پر انفرادی جوابدہی، اور اوپر کی سطح پر ادارہ جاتی (خرابیوں کا) تسلسل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام آپریشنل رولنگ اسٹاک کا فوری آڈٹ ہونا چاہیے۔ اگر ایک ٹرین اس (خستہ) حالت میں پائی گئی ہے تو یہ سوال اٹھانا بالکل بجا ہے کہ کتنی دوسری ٹرینیں ایسی ہی سنگین خامیوں کے ساتھ چل رہی ہیں۔ سیفٹی محض ایک کاغذی مشق نہیں رہنی چاہیے جس کی تصدیق تو دستاویزات کے ذریعے کردی جائے لیکن زمین پر موجود حقائق ایک مختلف کہانی بیان کررہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شالیمار ایکسپریس کا حادثہ ایک نقطہِ تبدیلی ثابت ہونا چاہیے۔ حقائق اس قدر واضح ہوچکے ہیں کہ اب فوری کارروائی ناگزیر ہے۔ اب صرف یہ بات غیر یقینی ہے کہ آیا نظام اپنی ناکامیوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے یا وہ احتساب کا رخ اسی طرح ان جگہوں سے موڑتا رہے گا جہاں اس کا اصل حق بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب ایک اندرونی معائنہ یہ انکشاف کرے کہ مسافر ٹرین کی تقریباً 60 فیصد بوگیاں فعال بریکوں کے بغیر چل رہی تھیں لیکن اس کے باوجود فوری نتیجہ یہ نکالا جائے کہ ہونے والے تصادم کے ذمہ دار ڈرائیور اور اس کا اسسٹنٹ ہیں تو معاملہ صرف ایک حادثے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ صورتحال ان تکلیف دہ سوالات کو جنم دیتی ہے کہ پاکستان ریلوے سیفٹی کی تعریف کیسے کرتا ہے، ذمہ داری کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ وہ خود کو (احتساب سے) کیسے بچاتا ہے۔</strong></p>
<p>شالیمار ایکسپریس کے حالیہ واقعے نے ایک ایسے تضاد کو بے نقاب کردیا جسے محض طریقہ کار کی غلطی یا تحقیقاتی جلد بازی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سکھر میں کی گئی ریک ایگزامینیشن نے 18 میں سے 10 کوچز میں سنگین نقائص کی واضح نشاندہی کی تھی جن میں 9 کوچز ایسی تھیں جن کے بریک سلنڈر کام نہیں کررہے تھے۔ یہ معمولی فنی کوتاہیاں نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق براہِ راست آپریشنل سیفٹی سے ہے۔ وہ ٹرین جو بریک لگانے کی ناقص صلاحیت کے ساتھ چل رہی ہو، وہ تکنیکی لحاظ سے اسٹیشن سے روانہ ہونے سے پہلے ہی ناکام نظام کی علامت ہے۔</p>
<p>اس تمام صورتحال کے تناظر میں حادثے کی پوری ذمہ داری صرف عملے (ڈرائیور اور اسسٹنٹ) کی غفلت پر ڈالنے کا فیصلہ ایک حتمی نتیجے کے بجائے ایک دفاعی ردِعمل معلوم ہوتا ہے۔ جوائنٹ سرٹیفکیٹ سرخ سگنل کی خلاف ورزی اور ٹرین کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ آپریشنل سطح پر یہ حقائق درست ہوسکتے ہیں لیکن یہ اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے کہ: آخر ایسی خستہ حال ٹرین کو سرے سے پٹری پر آنے کی اجازت ہی کیوں دی گئی؟</p>
<p>ریلوے جیسے نظام میں ذمہ داری کی کئی تہیں ہوتی ہیں۔ ڈرائیورز ان آلات اور سازوسامان کی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں جو انہیں فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگر بریک لگانے کا نظام ہی ناقص ہو، تو غلطی کی گنجائش انتہائی کم ہو جاتی ہے، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جہاں ٹرین کی رفتار کو تیزی سے کم کرنا مقصود ہو۔ عملے کے اقدامات کو ٹرین کی (خستہ) حالت سے الگ کر کے دیکھنا دراصل اس زنجیر کی صرف آخری کڑی کا معائنہ کرنے کے مترادف ہے جو بہت پہلے ہی کمزور ہوچکی تھی۔</p>
<p>معائنے کی رپورٹ میں استعمال ہونے والی اصطلاح ڈمی کوچز خاص طور پر حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کے ناقص سازوسامان کی موجودگی محض کوئی اتفاقی غلطی نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ، اگرچہ غیر سرکاری، روایت بن چکی ہے۔ اگر بنیادی حفاظتی فیچرز سے محروم کوچز کو معمول کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے تو پھر یہ مسئلہ ادارہ جاتی نوعیت کا ہے۔ یہ بحالی اور دیکھ بھال کے ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جو ٹرینوں کے صحیح حالت میں ہونے کے بجائے صرف انہیں پٹریوں پر دوڑانے کو ترجیح دیتا ہے۔</p>
<p>یہ پہلی وارنٹی یا انتباہ نہیں ہے۔ ٹرین ڈرائیورز نے حال ہی میں، گزشتہ سال ہی ناقص آلات اور مشینری کی وجہ سے ہونے والے حادثات کا ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان کے خدشات اب حقیقت ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جب فرنٹ لائن پر کام کرنے والے (ڈرائیورز) خطرے کا اشارہ دیں اور نظام میں کوئی تبدیلی نہ لائی جائے تو اس کا حتمی نتیجہ حادثہ نہیں بلکہ ایک متوقع انجام ہوتا ہے۔</p>
<p>اس صورتحال میں ریگولیٹری فریم ورک بھی برابر کا قصوروار ہے۔ تکنیکی معائنے سے لے کر فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کی نگرانی تک، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعدد تہیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود ایسی سنگین خامیوں والی ٹرین کا ان تمام مراحل سے گزر جانا یا تو قوانین پر عملدرآمد کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے یا پھر خطرات کو نظر انداز کرنے کے اس رویے کی نشاندہی کرتا ہے جو اب اس ادارے کی جڑوں میں بیٹھ چکا ہے۔</p>
<p>اس طرح کی ناکامیوں کی قیمت بہت وسیع ہے۔ پاکستان ریلوے، جو پہلے ہی عوامی اعتماد کی بحالی اور مالی استحکام کے لیے جدوجہد کررہا ہے، ایسے بار بار ہونے والے واقعات کا متحمل نہیں ہوسکتا جو نظام کی سنگین غفلت کو ظاہر کرتے ہیں۔ حفاظتی کوتاہیاں اعتماد کو اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ختم کردیتی ہیں جتنی تیزی سے آپریشنل بہتری اسے بحال کرپاتی ہے۔ ہر ایسا واقعہ اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو بحرانوں کو روکنے کے بجائے محض ان کا انتظام  کرتا ہے۔</p>
<p>اس لیے فوری ردِعمل صرف عملے (عملہِ ٹرین) کو قصوروار ٹھہرانے سے کہیں آگے ہونا چاہیے۔ ایک آزادانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہے، جو دیکھ بھال کے نظام اور معائنے کے طریقہ کار سے لے کر انتظامی سطح پر فیصلہ سازی تک ذمہ داری کی پوری زنجیر کا جائزہ لے۔ اس کے بغیر، نتیجہ وہی پرانے روایتی انداز کے مطابق ہوگا: یعنی نچلی سطح پر انفرادی جوابدہی، اور اوپر کی سطح پر ادارہ جاتی (خرابیوں کا) تسلسل۔</p>
<p>سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام آپریشنل رولنگ اسٹاک کا فوری آڈٹ ہونا چاہیے۔ اگر ایک ٹرین اس (خستہ) حالت میں پائی گئی ہے تو یہ سوال اٹھانا بالکل بجا ہے کہ کتنی دوسری ٹرینیں ایسی ہی سنگین خامیوں کے ساتھ چل رہی ہیں۔ سیفٹی محض ایک کاغذی مشق نہیں رہنی چاہیے جس کی تصدیق تو دستاویزات کے ذریعے کردی جائے لیکن زمین پر موجود حقائق ایک مختلف کہانی بیان کررہے ہوں۔</p>
<p>شالیمار ایکسپریس کا حادثہ ایک نقطہِ تبدیلی ثابت ہونا چاہیے۔ حقائق اس قدر واضح ہوچکے ہیں کہ اب فوری کارروائی ناگزیر ہے۔ اب صرف یہ بات غیر یقینی ہے کہ آیا نظام اپنی ناکامیوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے یا وہ احتساب کا رخ اسی طرح ان جگہوں سے موڑتا رہے گا جہاں اس کا اصل حق بنتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284365</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 14:53:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/281432192b2818a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/281432192b2818a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
