<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک آئی ایم ایف معاہدہ میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کی جانب ناگزیر قدم قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284364/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ہفتے کو پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان  طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) کا خیرمقدم کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس معاہدے کو میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کی جانب ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس پیشرفت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ای ایف ایفگ کے تحت ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 210 ملین ڈالر کا اجراء معیشت کو سانس لینے کے لیے انتہائی ضروری جگہ فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہمارے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کو سہارا دے گا، مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرے گا اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں سمیت دو طرفہ شراکت داروں کو ایک مثبت پیغام بھیجے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف معاشی استحکام ہی آخری منزل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اب ہنگامی بنیادوں پر اپنی توجہ ان ساختی رکاوٹوں  کو دور کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے جو نجی شعبے کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں تاکہ ایک مضبوط اور ہمہ گیر صنعتی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ملک کی اعلیٰ ترین تجارتی تنظیم آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب تسلسل پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے لیکن ایف پی سی سی آئی کی قیادت کاروباری، صنعتی اور تجارتی طبقے کے لیے مراعات کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طبقہ اس وقت بلند کاروباری لاگت اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شدید دباؤ میں کام کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس موقف کو برقرار رکھا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے ملنے والے معاشی سہارے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایف پی سی سی آئی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ تجارت اور صنعت کی سہولت کاری کے لیے اصلاحات کو فوری ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے قدم کے طور پر پالیسی ریٹ میں نمایاں اور فوری کمی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے اعتماد کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عام ٹیکس دہندگان کو مزید نچوڑنے کے بجائے ٹیکس نیٹ  کو وسیع کرنا پالیسی کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیے اور ریونیو جمع کرنے کی کوششوں کا محور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والی کاروباری برادری پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ان شعبوں کو نیٹ میں لانا ہونا چاہیے جو فی الحال ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے معیشت کو درپیش بیرونی خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور عالمی مال برداری کے اخراجات میں اضافہ پاکستان کی تجارتی صورتحال کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سپلائی چین میں ان رکاوٹوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر ملکی معاشی پالیسیوں کو ایک شاک ایبزاربر کا کام کرنا چاہیے، نہ کہ ہمارے برآمد کنندگان پر اضافی بوجھ بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی حکومت کے ساتھ ایک تعمیری شراکت دار کے طور پر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ یہ اعلیٰ ترین تنظیم ایسے شواہد پر مبنی پالیسیاں تیار کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے جو پائیدار صنعتی توسیع، برآمدات میں اضافے اور کاروباری ماحول میں لچک کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ہفتے کو پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان  طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) کا خیرمقدم کیا ہے۔</strong></p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اس معاہدے کو میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کی جانب ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس پیشرفت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ای ایف ایفگ کے تحت ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 210 ملین ڈالر کا اجراء معیشت کو سانس لینے کے لیے انتہائی ضروری جگہ فراہم کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہمارے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کو سہارا دے گا، مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرے گا اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں سمیت دو طرفہ شراکت داروں کو ایک مثبت پیغام بھیجے گا۔</p>
<p>تاہم عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف معاشی استحکام ہی آخری منزل نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اب ہنگامی بنیادوں پر اپنی توجہ ان ساختی رکاوٹوں  کو دور کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے جو نجی شعبے کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں تاکہ ایک مضبوط اور ہمہ گیر صنعتی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ملک کی اعلیٰ ترین تجارتی تنظیم آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب تسلسل پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے لیکن ایف پی سی سی آئی کی قیادت کاروباری، صنعتی اور تجارتی طبقے کے لیے مراعات کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طبقہ اس وقت بلند کاروباری لاگت اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شدید دباؤ میں کام کررہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس موقف کو برقرار رکھا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے ملنے والے معاشی سہارے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایف پی سی سی آئی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ تجارت اور صنعت کی سہولت کاری کے لیے اصلاحات کو فوری ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے قدم کے طور پر پالیسی ریٹ میں نمایاں اور فوری کمی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے اعتماد کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عام ٹیکس دہندگان کو مزید نچوڑنے کے بجائے ٹیکس نیٹ  کو وسیع کرنا پالیسی کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیے اور ریونیو جمع کرنے کی کوششوں کا محور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والی کاروباری برادری پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ان شعبوں کو نیٹ میں لانا ہونا چاہیے جو فی الحال ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگون نے معیشت کو درپیش بیرونی خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور عالمی مال برداری کے اخراجات میں اضافہ پاکستان کی تجارتی صورتحال کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔</p>
<p>عالمی سپلائی چین میں ان رکاوٹوں اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر ملکی معاشی پالیسیوں کو ایک شاک ایبزاربر کا کام کرنا چاہیے، نہ کہ ہمارے برآمد کنندگان پر اضافی بوجھ بننا چاہیے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی حکومت کے ساتھ ایک تعمیری شراکت دار کے طور پر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ یہ اعلیٰ ترین تنظیم ایسے شواہد پر مبنی پالیسیاں تیار کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے جو پائیدار صنعتی توسیع، برآمدات میں اضافے اور کاروباری ماحول میں لچک کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284364</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 14:31:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/28142040fe86e47.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/28142040fe86e47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
