<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے، یمن سے میزائل داغ دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284361/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل نے ہفتے کو کہا کہ اس نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کا سراغ لگایا ہے جو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد پہلا واقعہ ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کو توقع ہے کہ وہ فوجی کارروائیاں مہینوں کے بجائے ہفتوں میں ختم کردے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے ایک ماہ بعد یہ تنازع اب پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے توانائی کی سپلائی میں تاریخ کا سب سے بڑا تعطل پیدا کردیا ہے جس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا اور افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات کو ہوا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کو تہران میں دوبارہ اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، وہیں اس نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کی بھی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگ پھیلنے کا خدشہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند گھنٹے قبل یمن کے حوثیوں نے کہا کہ اگر ایران اور مزاحمتی بلاک کے خلاف اس کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو وہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ مداخلت کس شکل میں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ میں حوثیوں کی شمولیت سے اس تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ وہ یمن کی سرحدوں سے بہت دور اہداف کو نشانہ بنانے اور جزیرہ نما عرب اور بحیرہ احمر کے گرد بحری تجارتی راستوں کو درہم برہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں حماس کی حمایت میں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے فرانس میں جی سیون کے ہم منصبوں سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ واشنگٹن اس فوجی آپریشن میں اپنے طے شدہ وقت کے مطابق یا اس سے بھی آگے ہے اور توقع ہے کہ اسے مناسب وقت پرجو کہ مہینوں کے بجائے ہفتوں کی بات ہے ختم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ نے امریکہ اور اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان خلیج پیدا کردی ہے جو اب تک اس تنازع سے الگ تھلگ رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حمایت کی اس کمی کے مغرب کے سب سے اہم اتحاد، نیٹو  پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو میامی میں ایک انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم ہمیشہ ان (اتحادیوں) کے لیے موجود رہے لیکن اب ان کے موجودہ رویے کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ ہمیں اب ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر وہ ہمارے لیے نہیں کھڑے، تو ہم ان کے لیے کیوں کھڑے ہوں؟ وہ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹو کا چارٹر، جس کی قیادت طویل عرصے سے امریکہ کر رہا ہے یہ کہتا ہے کہ کسی بھی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے تحت وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے کہا کہ یورپی اور ایشیائی ممالک جو آبنائے ہرمز  کے ذریعے ہونے والی تجارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، انہیں اس راستے کی بحالی اور حفاظت کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ انہوں نے کہا کہ امریکہ زمینی افواج کے بغیر اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خطے میں کچھ دستے تعینات کیے جارہے ہیں تاکہ صدر کو  زیادہ اختیارات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے بہترین موقع فراہم کیا جا سکے، اگر وہ پیدا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن نے ہزاروں میرینزپر مشتمل دو دستے خطے کی جانب روانہ کردیے ہیں جن میں سے پہلا دستہ ایک بہت بڑے بحری جنگی جہازپر سوار ہو کر آنے والے چند دنوں میں پہنچنے والا ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے ہزاروں ایلیٹ ایئربورن  فوجیوں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان فوجی دستوں کی آمد نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ جنگ ایک طویل زمینی معرکے کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طرف حملوں میں تیزی، دوسری جانب ٹرمپ کی مذاکرات کی باتیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی جبکہ عالمی خام تیل کا بینچ مارک برینٹ کروڈ 112 ڈالر سے تجاوز کر گیا جو جنگ کے آغاز سے اب تک 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں جہاں صدر ٹرمپ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سیاسی طور پر دباؤ کا شکار ہیں، امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق کیلیفورنیا میں ڈیزل کی اوسط قیمت 7.17 ڈالر فی گیلن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اس غیر مقبول جنگ کو ختم کرنے کے لیے بے تاب نظر آ رہے ہیں، اور انہوں نے اس ہفتے ان مذاکرات پر زور دیا جنہیں انہوں نے سفارتی حل کے لیے تعمیراتی مذاکرات قرار دیا، باوجود اس کے کہ تہران کی جانب سے بارہا ان دعوؤں کی تردید کی گئی کہ ایسی کوئی بات چیت شروع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے دی گئی مہلت میں 10 دن کی توسیع کردی ہے، بصورتِ دیگر اسے اپنے سویلین انرجی گرڈ (بجلی اور توانائی کے نظام) پر حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ حملے فی الحال رکے ہوئے ہیں لیکن پورے خطے میں میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب میں ایک فضائی اڈے پر ایرانی حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوگئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے جب کہ خلیج کے اطراف ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے ہفتے کو کہا کہ اس نے ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں کا سراغ لگایا جب کہ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دارالحکومت دمشق کی فضاؤں میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے جو ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے نتیجے میں ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی ہفتہ کی صبح میزائل حملوں کی اطلاع دی ہے جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ابوظہبی کے کیزاد اقتصادی زون کے قریب ایک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح ایران کے شمال مغربی شہر زنجان میں ایک رہائشی یونٹ پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے اور سات زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تہران میں واقع ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر اسٹیل کی دو فیکٹریوں اور ایک پاور پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ امریکی صدر کی جانب سے سفارت کاری کے لیے دی گئی مہلت  کے منافی ہے۔ ایران اسرائیلی جرائم کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل نے ہفتے کو کہا کہ اس نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کا سراغ لگایا ہے جو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد پہلا واقعہ ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کو توقع ہے کہ وہ فوجی کارروائیاں مہینوں کے بجائے ہفتوں میں ختم کردے گا۔</strong></p>
<p>امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے ایک ماہ بعد یہ تنازع اب پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے توانائی کی سپلائی میں تاریخ کا سب سے بڑا تعطل پیدا کردیا ہے جس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا اور افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات کو ہوا دی ہے۔</p>
<p>جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کو تہران میں دوبارہ اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے، وہیں اس نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کی بھی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p><strong>جنگ پھیلنے کا خدشہ</strong></p>
<p>چند گھنٹے قبل یمن کے حوثیوں نے کہا کہ اگر ایران اور مزاحمتی بلاک کے خلاف اس کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو وہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ مداخلت کس شکل میں ہوگی۔</p>
<p>جنگ میں حوثیوں کی شمولیت سے اس تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا کیونکہ وہ یمن کی سرحدوں سے بہت دور اہداف کو نشانہ بنانے اور جزیرہ نما عرب اور بحیرہ احمر کے گرد بحری تجارتی راستوں کو درہم برہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں حماس کی حمایت میں کیا تھا۔</p>
<p>امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے فرانس میں جی سیون کے ہم منصبوں سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ واشنگٹن اس فوجی آپریشن میں اپنے طے شدہ وقت کے مطابق یا اس سے بھی آگے ہے اور توقع ہے کہ اسے مناسب وقت پرجو کہ مہینوں کے بجائے ہفتوں کی بات ہے ختم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>اس جنگ نے امریکہ اور اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان خلیج پیدا کردی ہے جو اب تک اس تنازع سے الگ تھلگ رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حمایت کی اس کمی کے مغرب کے سب سے اہم اتحاد، نیٹو  پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>جمعہ کو میامی میں ایک انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم ہمیشہ ان (اتحادیوں) کے لیے موجود رہے لیکن اب ان کے موجودہ رویے کو دیکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ ہمیں اب ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر وہ ہمارے لیے نہیں کھڑے، تو ہم ان کے لیے کیوں کھڑے ہوں؟ وہ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔</p>
<p>نیٹو کا چارٹر، جس کی قیادت طویل عرصے سے امریکہ کر رہا ہے یہ کہتا ہے کہ کسی بھی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے تحت وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔</p>
<p>مارکو روبیو نے کہا کہ یورپی اور ایشیائی ممالک جو آبنائے ہرمز  کے ذریعے ہونے والی تجارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، انہیں اس راستے کی بحالی اور حفاظت کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔</p>
<p>اگرچہ انہوں نے کہا کہ امریکہ زمینی افواج کے بغیر اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خطے میں کچھ دستے تعینات کیے جارہے ہیں تاکہ صدر کو  زیادہ اختیارات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے بہترین موقع فراہم کیا جا سکے، اگر وہ پیدا ہوں۔</p>
<p>واشنگٹن نے ہزاروں میرینزپر مشتمل دو دستے خطے کی جانب روانہ کردیے ہیں جن میں سے پہلا دستہ ایک بہت بڑے بحری جنگی جہازپر سوار ہو کر آنے والے چند دنوں میں پہنچنے والا ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے ہزاروں ایلیٹ ایئربورن  فوجیوں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔</p>
<p>ان فوجی دستوں کی آمد نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ جنگ ایک طویل زمینی معرکے کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔</p>
<p>ایک طرف حملوں میں تیزی، دوسری جانب ٹرمپ کی مذاکرات کی باتیں</p>
<p>جمعہ کو اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی جبکہ عالمی خام تیل کا بینچ مارک برینٹ کروڈ 112 ڈالر سے تجاوز کر گیا جو جنگ کے آغاز سے اب تک 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔</p>
<p>امریکہ میں جہاں صدر ٹرمپ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سیاسی طور پر دباؤ کا شکار ہیں، امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق کیلیفورنیا میں ڈیزل کی اوسط قیمت 7.17 ڈالر فی گیلن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ اس غیر مقبول جنگ کو ختم کرنے کے لیے بے تاب نظر آ رہے ہیں، اور انہوں نے اس ہفتے ان مذاکرات پر زور دیا جنہیں انہوں نے سفارتی حل کے لیے تعمیراتی مذاکرات قرار دیا، باوجود اس کے کہ تہران کی جانب سے بارہا ان دعوؤں کی تردید کی گئی کہ ایسی کوئی بات چیت شروع ہوئی ہے۔</p>
<p>جمعرات کو ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے دی گئی مہلت میں 10 دن کی توسیع کردی ہے، بصورتِ دیگر اسے اپنے سویلین انرجی گرڈ (بجلی اور توانائی کے نظام) پر حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>اگرچہ یہ حملے فی الحال رکے ہوئے ہیں لیکن پورے خطے میں میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>جمعہ کو ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب میں ایک فضائی اڈے پر ایرانی حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوگئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے جب کہ خلیج کے اطراف ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے ہفتے کو کہا کہ اس نے ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں کا سراغ لگایا جب کہ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دارالحکومت دمشق کی فضاؤں میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے جو ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے نتیجے میں ہوئے ہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی ہفتہ کی صبح میزائل حملوں کی اطلاع دی ہے جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ابوظہبی کے کیزاد اقتصادی زون کے قریب ایک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح ایران کے شمال مغربی شہر زنجان میں ایک رہائشی یونٹ پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے اور سات زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تہران میں واقع ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر اسٹیل کی دو فیکٹریوں اور ایک پاور پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ امریکی صدر کی جانب سے سفارت کاری کے لیے دی گئی مہلت  کے منافی ہے۔ ایران اسرائیلی جرائم کی بھاری قیمت وصول کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284361</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 13:40:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/28131419bd26865.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/28131419bd26865.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
