<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی تجارت اور سرمایہ کاری: پاکستان ایک محفوظ اور مستحکم منزل کے طور پر ابھر رہا ہے، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284360/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کے پیٹرن ان چیف خرم مختار نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹرانس شپمنٹ کے لیے ایک محفوظ، مستحکم اور تیزی سے پرکشش منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں انہوں نے نوٹ کیا کہ ملک کی بندرگاہوں پر حالیہ پیش رفت ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے جہاں کارگو ہینڈلنگ اور ٹرانس شپمنٹ کے حجم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم مختار نے وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری کی فعال قیادت کو سراہتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا کہ وزارتِ بحری امور، وزارتِ تجارت، پورٹ اتھارٹیز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان ایک مربوط کوشش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بحری تجارت میں کارکردگی کو بہتر بنانے، درآمدات و برآمدات میں سہولت فراہم کرنے اور پاکستان کو ایک قابلِ عمل ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر مستحکم کرنے کے لیے اصلاحات پر غور و خوض کے سلسلے میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی اہم فیصلے پہلے ہی لیے جا چکے ہیں، جن میں مسابقت بڑھانے کے لیے بندرگاہ کے چارجز میں کمی، بندرگاہوں پر طویل عرصے سے زیرِ التوا کارگو کی صفائی اور ٹرانس شپمنٹ کو فعال طور پر فروغ دینے کے لیے پالیسی اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم مختار نے مزید کہا کہ بحری اور لاجسٹک نظام میں قابلِ عمل سفارشات کو حتمی شکل دینے اور ساختی اصلاحات کے نفاذ کے لیے مخصوص ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن  نے پاکستان کی بحری اور تجارتی سپلائی چین میں کارکردگی، شفافیت اور پیش گوئی کو بہتر بنانے کے لیے کلیدی ساختی مداخلتوں کا ایک مجموعہ بھی تجویز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تجاویز میں ایک مرکزی مانیٹرنگ اور رسپانس یونٹ کا قیام شامل ہے جو پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے درآمدی و برآمدی کارگو کے بہاؤ کی نگرانی کرے گا۔ یہ یونٹ ایک ریئل ٹائم کنٹرول ٹاور کے طور پر کام کرے گا تاکہ رکاوٹوں  کی نشاندہی کی جاسکے اور مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے بندرگاہوں، ٹرمینل آپریٹرز، شپنگ لائنز اور دیگر متعلقہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے سروس لیول کے معیارکے تعین اور ان کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا ہے جو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق ہوں تاکہ ڈویل ٹائم کو کم کیا جا سکے اور مسابقت میں اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں اس نے شپنگ لائنز کی جانب سے ایڈوانس مینی فیسٹ فائل کرنے کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے جس کے سخت نفاذ سے پہلے تین ہفتوں کا عبوری دورانیہ دیا جائے تاکہ بہتر منصوبہ بندی، رش میں کمی اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم مختار نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ان اقدامات پر مربوط انداز میں عمل درآمد کیا جائے تو اس سے تجارت میں سہولت  میں نمایاں بہتری آئے گی، لاجسٹک کی خرابیاں دور ہوں گی اور ایک قابلِ اعتماد برآمدی اور ’ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ریمارکس دیے کہ پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور پالیسی کے تسلسل، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور بروقت عمل درآمد کے ساتھ، موجودہ تیزی کو معیشت اور برآمدی شعبے کے لیے طویل مدتی مستقل فوائد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کے پیٹرن ان چیف خرم مختار نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹرانس شپمنٹ کے لیے ایک محفوظ، مستحکم اور تیزی سے پرکشش منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان میں انہوں نے نوٹ کیا کہ ملک کی بندرگاہوں پر حالیہ پیش رفت ایک مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے جہاں کارگو ہینڈلنگ اور ٹرانس شپمنٹ کے حجم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p>خرم مختار نے وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری کی فعال قیادت کو سراہتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا کہ وزارتِ بحری امور، وزارتِ تجارت، پورٹ اتھارٹیز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان ایک مربوط کوشش جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بحری تجارت میں کارکردگی کو بہتر بنانے، درآمدات و برآمدات میں سہولت فراہم کرنے اور پاکستان کو ایک قابلِ عمل ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر مستحکم کرنے کے لیے اصلاحات پر غور و خوض کے سلسلے میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی اہم فیصلے پہلے ہی لیے جا چکے ہیں، جن میں مسابقت بڑھانے کے لیے بندرگاہ کے چارجز میں کمی، بندرگاہوں پر طویل عرصے سے زیرِ التوا کارگو کی صفائی اور ٹرانس شپمنٹ کو فعال طور پر فروغ دینے کے لیے پالیسی اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>خرم مختار نے مزید کہا کہ بحری اور لاجسٹک نظام میں قابلِ عمل سفارشات کو حتمی شکل دینے اور ساختی اصلاحات کے نفاذ کے لیے مخصوص ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔</p>
<p>پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن  نے پاکستان کی بحری اور تجارتی سپلائی چین میں کارکردگی، شفافیت اور پیش گوئی کو بہتر بنانے کے لیے کلیدی ساختی مداخلتوں کا ایک مجموعہ بھی تجویز کیا ہے۔</p>
<p>ان تجاویز میں ایک مرکزی مانیٹرنگ اور رسپانس یونٹ کا قیام شامل ہے جو پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے درآمدی و برآمدی کارگو کے بہاؤ کی نگرانی کرے گا۔ یہ یونٹ ایک ریئل ٹائم کنٹرول ٹاور کے طور پر کام کرے گا تاکہ رکاوٹوں  کی نشاندہی کی جاسکے اور مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے بندرگاہوں، ٹرمینل آپریٹرز، شپنگ لائنز اور دیگر متعلقہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے سروس لیول کے معیارکے تعین اور ان کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا ہے جو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق ہوں تاکہ ڈویل ٹائم کو کم کیا جا سکے اور مسابقت میں اضافہ ہو۔</p>
<p>مزید برآں اس نے شپنگ لائنز کی جانب سے ایڈوانس مینی فیسٹ فائل کرنے کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے جس کے سخت نفاذ سے پہلے تین ہفتوں کا عبوری دورانیہ دیا جائے تاکہ بہتر منصوبہ بندی، رش میں کمی اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>خرم مختار نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ان اقدامات پر مربوط انداز میں عمل درآمد کیا جائے تو اس سے تجارت میں سہولت  میں نمایاں بہتری آئے گی، لاجسٹک کی خرابیاں دور ہوں گی اور ایک قابلِ اعتماد برآمدی اور ’ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے ریمارکس دیے کہ پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور پالیسی کے تسلسل، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور بروقت عمل درآمد کے ساتھ، موجودہ تیزی کو معیشت اور برآمدی شعبے کے لیے طویل مدتی مستقل فوائد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284360</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 13:13:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/281311408f3660d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/281311408f3660d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
