<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:41:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:41:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درآمدی پرتعیش اور غیر ضروری اشیاء پر ٹیکسز کی شرح مالیت کے 60 فیصد تک پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284354/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;درآمدی پرتعیش اشیاء یا غیر ضروری مصنوعات پر عائد ٹیکسز کی شرح ان کی مالیت کے 60 فیصد تک ہے جبکہ دیگر درآمدات پر یہ شرح 30 فیصد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابطہ کرنے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک اہلکار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ان درآمدی اشیاء پر درآمدی مرحلے  پر بھاری ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں جن میں 25 فیصد سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، 5 سے 55 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی، 1 سے 5 فیصد تک ود ہولڈنگ ٹیکس اور 2 سے 7 فیصد تک ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی ٹیکسوں کے دائرہ کار میں درآمدی ڈیری مصنوعات، پراسیس شدہ خوراک، مشروبات، اشیائے خورونوش بشمول کنفیکشنری (میٹھائیاں اور بسکٹ وغیرہ)، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس، گھریلو استعمال کی اشیاء (ہوم اپلائنسز)، ٹوائلٹریز (صابن، شیمپو وغیرہ) اور دیگر پرتعیش و غیر ضروری اشیاء شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسٹمز ڈیوٹی درآمدی اشیاء کی مالیت  پر وصول کی جاتی ہے جبکہ سیلز ٹیکس ان اشیاء کی درآمدی قیمت کے 25 فیصد کی شرح سے عائد ہوتا ہے جو ان کی درآمد کے وقت اور پھر مقامی مارکیٹ میں سپلائی یا ان کی ریٹیل قیمت (پرچون قیمت) پر لاگو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ٹیکس نظام کے تحت پرتعیش اور غیر ضروری اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا مجموعی اثر 50 سے 60 فیصد تک بنتا ہے۔ تاہم، ایف بی آر حکام کے مطابق درآمدی پرتعیش گاڑیوں کی صورت میں ان ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا مجموعی بوجھ 300 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت سالانہ بنیادوں پر درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹیز اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیز میں بتدریج کمی کر رہی ہے جس سے کچھ درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اگلے مالی سال میں بھی 25 فیصد سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 25-2024 میں سیلز ٹیکس (درآمدات) کی مجموعی وصولی 2,281.9 ارب روپے رہی جو پچھلے مالی سال (24-2023) کے 1,863.9 ارب روپے کے مقابلے میں 22.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں ریٹیلرز گروسرز گروپ کے سیکرٹری جنرل فرید قریشی نے بتایا کہ فی الحال درآمدی اشیاء کی قیمتیں مستحکم ہیں، کیونکہ رمضان اور عید کے بعد ابھی معاشی سرگرمیوں نے مکمل طور پر رفتار نہیں پکڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی سپلائرز کو ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑے گا، مقامی مصنوعات کی قیمتیں تقریباً 10 فیصد اور درآمد شدہ اشیاء کی قیمتیں 20 فیصد سے زائد بڑھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل آؤٹ لیٹس کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ درآمدی کاسمیٹک اشیاء کی قیمتوں میں مصنوعات کے لحاظ سے 10 سے 40 فیصد تک اضافے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ کاسمیٹکس کی قیمتوں میں بھی 10 سے 15 فیصد اضافے کی توقع ہے کیونکہ ان کا زیادہ تر خام مال چین اور مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر کے ایک سروے کے مطابق ڈائپرز اور درآمدی صابن کی قیمتوں میں پہلے ہی 10 سے 16 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک ہول سیلر (تھوک فروش) نے بتایا کہ ڈائپرز کا چینی پیکٹ جو ہمیں تقریباً 800 روپے میں ملتا تھا، اب 900 روپے میں دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>درآمدی پرتعیش اشیاء یا غیر ضروری مصنوعات پر عائد ٹیکسز کی شرح ان کی مالیت کے 60 فیصد تک ہے جبکہ دیگر درآمدات پر یہ شرح 30 فیصد ہے۔</strong></p>
<p>رابطہ کرنے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک اہلکار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ان درآمدی اشیاء پر درآمدی مرحلے  پر بھاری ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں جن میں 25 فیصد سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، 5 سے 55 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی، 1 سے 5 فیصد تک ود ہولڈنگ ٹیکس اور 2 سے 7 فیصد تک ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں۔</p>
<p>اضافی ٹیکسوں کے دائرہ کار میں درآمدی ڈیری مصنوعات، پراسیس شدہ خوراک، مشروبات، اشیائے خورونوش بشمول کنفیکشنری (میٹھائیاں اور بسکٹ وغیرہ)، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس، گھریلو استعمال کی اشیاء (ہوم اپلائنسز)، ٹوائلٹریز (صابن، شیمپو وغیرہ) اور دیگر پرتعیش و غیر ضروری اشیاء شامل ہیں۔</p>
<p>کسٹمز ڈیوٹی درآمدی اشیاء کی مالیت  پر وصول کی جاتی ہے جبکہ سیلز ٹیکس ان اشیاء کی درآمدی قیمت کے 25 فیصد کی شرح سے عائد ہوتا ہے جو ان کی درآمد کے وقت اور پھر مقامی مارکیٹ میں سپلائی یا ان کی ریٹیل قیمت (پرچون قیمت) پر لاگو ہوتا ہے۔</p>
<p>موجودہ ٹیکس نظام کے تحت پرتعیش اور غیر ضروری اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا مجموعی اثر 50 سے 60 فیصد تک بنتا ہے۔ تاہم، ایف بی آر حکام کے مطابق درآمدی پرتعیش گاڑیوں کی صورت میں ان ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا مجموعی بوجھ 300 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔</p>
<p>حکومت سالانہ بنیادوں پر درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹیز اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹیز میں بتدریج کمی کر رہی ہے جس سے کچھ درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اگلے مالی سال میں بھی 25 فیصد سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی برقرار رہے گی۔</p>
<p>مالی سال 25-2024 میں سیلز ٹیکس (درآمدات) کی مجموعی وصولی 2,281.9 ارب روپے رہی جو پچھلے مالی سال (24-2023) کے 1,863.9 ارب روپے کے مقابلے میں 22.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں ریٹیلرز گروسرز گروپ کے سیکرٹری جنرل فرید قریشی نے بتایا کہ فی الحال درآمدی اشیاء کی قیمتیں مستحکم ہیں، کیونکہ رمضان اور عید کے بعد ابھی معاشی سرگرمیوں نے مکمل طور پر رفتار نہیں پکڑی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی سپلائرز کو ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑے گا، مقامی مصنوعات کی قیمتیں تقریباً 10 فیصد اور درآمد شدہ اشیاء کی قیمتیں 20 فیصد سے زائد بڑھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ریٹیل آؤٹ لیٹس کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ درآمدی کاسمیٹک اشیاء کی قیمتوں میں مصنوعات کے لحاظ سے 10 سے 40 فیصد تک اضافے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ کاسمیٹکس کی قیمتوں میں بھی 10 سے 15 فیصد اضافے کی توقع ہے کیونکہ ان کا زیادہ تر خام مال چین اور مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر کے ایک سروے کے مطابق ڈائپرز اور درآمدی صابن کی قیمتوں میں پہلے ہی 10 سے 16 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک ہول سیلر (تھوک فروش) نے بتایا کہ ڈائپرز کا چینی پیکٹ جو ہمیں تقریباً 800 روپے میں ملتا تھا، اب 900 روپے میں دستیاب ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284354</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 12:05:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/281203107abbdac.webp" type="image/webp" medium="image" height="677" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/281203107abbdac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
