<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284353/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت پٹرولیم مصنوعات کے لیے ایک ٹارگٹڈ سبسڈی فریم ورک (مخصوص طبقے کے لیے امدادی ڈھانچہ) کو حتمی شکل دینے کے لیے تیار ہے جس میں تکنیکی حل بروئے کار لائے جائیں گے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں جمعہ کو پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کا آغاز پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ سے ہوا۔ اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال مستحکم اور کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے بھی پٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی میکانزم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تجویز کردہ تکنیکی حل پر ایک جامع بریفنگ دی جس کا محور شفافیت اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے پٹرول پر سبسڈی کی نئی ایپلیکیشن چلانے کے لیے 24,000 موبائل فونز خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد سبسڈی والے ایندھن کی منصفانہ اور کنٹرول شدہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ڈیوائسز ملک بھر کے پٹرول پمپس پر نصب کی جائیں گی، جس سے اہل صارفین مقررہ کوٹے کے اندر سستا ایندھن حاصل کر سکیں گے۔ وزارتِ آئی ٹی نے مقامی موبائل فون مینوفیکچررز اور اسمبلرز سے اظہارِ دلچسپی طلب کرلی ہے۔ اس سلسلے میں صرف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی  سے منظور شدہ ڈیوائسز پر ہی غور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق، نیشنل آئی ٹی بورڈ ان فونز کی قیمتوں کا تعین کرے گا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں  ان کی خریداری اور تقسیم کے عمل کی ذمہ دار ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر کے 12,000 پٹرول پمپس پر مجموعی طور پر 24,000 موبائل فونز نصب کیے جائیں گے، جہاں ہر پمپ پر دو نوزلز کو خصوصی طور پر سبسڈی پروگرام کے لیے مختص کیا جائے گا۔ وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے تیار کردہ موبائل ایپلی کیشن آزمائش کے آخری مراحل میں ہے، جو اہل صارفین کو ڈیجیٹل واؤچرز جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر، اس پروگرام کے تحت موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک سبسڈی والا پیٹرول فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ 800 سی سی (800cc) تک کی گاڑیوں کو اس میں شامل کرنے کی تجویز ابھی زیرِ غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں کو سراہا، اور ساتھ ہی ایندھن کی بچت کو فروغ دینے کے لیے رویاتی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتِ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے پٹرولیم قیمتوں کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں متعدد پالیسی منظرنامے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے تیل کی فراہمی کی صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے پر وفاقی وزیر خزانہ  محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پٹرولیم سپلائی کے انتظام میں پاکستان کی کارکردگی خطے کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے وزیر خزانہ، کان کنی اور معدنی ترقی میر شعیب نوشیروانی نے بھی اجلاس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے شرکاء کو مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالیاتی گنجائش انتہائی محدود ہے جو بنیادی طور پر صرف پٹرولیم لیوی  سے حاصل ہونے والی آمدنی تک منحصر ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی قسم کے ریلیف کے اقدامات کو انتہائی احتیاط سے ترتیب دینا ہوگا تاکہ میکرو اکنامک استحکام (مجموعی معاشی استحکام) برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال کو ایک رکاوٹ کے بجائے ساختی اصلاحات کے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے ٹیکسیشن اور سبسڈی کے ڈیزائن میں ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ شفافیت، کارکردگی اور ریلیف کی بہتر فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے ذمہ دارانہ کھپت کے رویوں کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی کہ پالیسی اقدامات مالی طور پر دانشمندانہ رہیں جبکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء نے تکنیکی حل استعمال کرتے ہوئے ٹارگٹڈ سبسڈی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت پٹرولیم مصنوعات کے لیے ایک ٹارگٹڈ سبسڈی فریم ورک (مخصوص طبقے کے لیے امدادی ڈھانچہ) کو حتمی شکل دینے کے لیے تیار ہے جس میں تکنیکی حل بروئے کار لائے جائیں گے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے صدر اور وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں جمعہ کو پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔</p>
<p>اجلاس کا آغاز پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ سے ہوا۔ اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال مستحکم اور کافی ہے۔</p>
<p>وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے بھی پٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی میکانزم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تجویز کردہ تکنیکی حل پر ایک جامع بریفنگ دی جس کا محور شفافیت اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا تھا۔</p>
<p>حکومت نے پٹرول پر سبسڈی کی نئی ایپلیکیشن چلانے کے لیے 24,000 موبائل فونز خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا مقصد سبسڈی والے ایندھن کی منصفانہ اور کنٹرول شدہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ڈیوائسز ملک بھر کے پٹرول پمپس پر نصب کی جائیں گی، جس سے اہل صارفین مقررہ کوٹے کے اندر سستا ایندھن حاصل کر سکیں گے۔ وزارتِ آئی ٹی نے مقامی موبائل فون مینوفیکچررز اور اسمبلرز سے اظہارِ دلچسپی طلب کرلی ہے۔ اس سلسلے میں صرف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی  سے منظور شدہ ڈیوائسز پر ہی غور کیا جائے گا۔</p>
<p>حکام کے مطابق، نیشنل آئی ٹی بورڈ ان فونز کی قیمتوں کا تعین کرے گا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں  ان کی خریداری اور تقسیم کے عمل کی ذمہ دار ہوں گی۔</p>
<p>ملک بھر کے 12,000 پٹرول پمپس پر مجموعی طور پر 24,000 موبائل فونز نصب کیے جائیں گے، جہاں ہر پمپ پر دو نوزلز کو خصوصی طور پر سبسڈی پروگرام کے لیے مختص کیا جائے گا۔ وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے تیار کردہ موبائل ایپلی کیشن آزمائش کے آخری مراحل میں ہے، جو اہل صارفین کو ڈیجیٹل واؤچرز جاری کرے گی۔</p>
<p>ابتدائی طور پر، اس پروگرام کے تحت موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک سبسڈی والا پیٹرول فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ 800 سی سی (800cc) تک کی گاڑیوں کو اس میں شامل کرنے کی تجویز ابھی زیرِ غور ہے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں کو سراہا، اور ساتھ ہی ایندھن کی بچت کو فروغ دینے کے لیے رویاتی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>حکومتِ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے پٹرولیم قیمتوں کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں متعدد پالیسی منظرنامے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے تیل کی فراہمی کی صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے پر وفاقی وزیر خزانہ  محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پٹرولیم سپلائی کے انتظام میں پاکستان کی کارکردگی خطے کے کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی ہے۔</p>
<p>بلوچستان کے وزیر خزانہ، کان کنی اور معدنی ترقی میر شعیب نوشیروانی نے بھی اجلاس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے شرکاء کو مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالیاتی گنجائش انتہائی محدود ہے جو بنیادی طور پر صرف پٹرولیم لیوی  سے حاصل ہونے والی آمدنی تک منحصر ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی قسم کے ریلیف کے اقدامات کو انتہائی احتیاط سے ترتیب دینا ہوگا تاکہ میکرو اکنامک استحکام (مجموعی معاشی استحکام) برقرار رہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال کو ایک رکاوٹ کے بجائے ساختی اصلاحات کے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے ٹیکسیشن اور سبسڈی کے ڈیزائن میں ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ شفافیت، کارکردگی اور ریلیف کی بہتر فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے ذمہ دارانہ کھپت کے رویوں کو فروغ دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی کہ پالیسی اقدامات مالی طور پر دانشمندانہ رہیں جبکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔</p>
<p>شرکاء نے تکنیکی حل استعمال کرتے ہوئے ٹارگٹڈ سبسڈی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284353</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 11:48:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/2811391332d7f90.webp" type="image/webp" medium="image" height="590" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/2811391332d7f90.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
