<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ بحران سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284352/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر پر شدید دباؤ آنے کا امکان ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تیزی سے بڑھ کر جی ڈی پی کے 5 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اس کا ہدف 2 فیصد طے کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے معاشی تجزیہ کاروں کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ملک کے درآمدی بل میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے جس سے زرمبادلہ ذخائر میں تیزی سے کمی آئے گی اور بیرونی شعبے کی مشکلات مزید سنگین ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر پر اس کے اثرات ناگزیر ہوں گے کیونکہ پاکستان کا ماہانہ پٹرولیم درآمدی بل جو اس وقت تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر ہے، اس میں 1 ارب امریکی ڈالر تک کے اضافے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 70 فیصد اضافہ پہلے ہی ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔ اس کی وجہ سے مالی سال کی بقیہ سہ ماہی  کے دوران درآمدی بل میں لگ بھگ 3 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے جس سے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس خسارے کا شکار ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق مشیرِ وزارتِ خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ سپلائی (رسد) میں تعطل کا کوئی خطرہ نہیں لیکن قیمتوں کا مسلسل بلند رہنا بیرونی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران جتنا طویل ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ  ذخائر پر دباؤ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں کمی لائے اور درآمدات کو متناسب بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک جارحانہ مگر منتخب درآمدی کمی کی پالیسی کی تجویز دی، جس میں ہفتے میں تین دن پٹرول پمپس کی بندش اور فیول راشننگ (تیل کی مقررہ مقدار میں فراہمی) شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک نے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر مقداری پابندیاں لگانا شروع کردی ہیں اور پاکستان کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے غیر ضروری درآمدات جیسے کہ کاروں اور موبائل فونز پر پابندی لگانے کی بھی سفارش کی جو کہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کے بڑے استعمال کنندگان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے روول اوور برقرار رہنے کا قوی امکان ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب پاکستان جاری جنگ میں ثالثی کا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جو زرمبادلہ  ذخائر کے لیے ایک سہارا  ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ معاشیات اور سابق مشیر وزارتِ خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا طویل ہوتا ہوا بحران پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو ایک ’نان لینیئر شاک انٹرایکشن چینل کے ذریعے متاثر کرے گا، جہاں تیل کی قیمتیں، ترسیلاتِ زر اور سرمائے کی نقل و حرکت  ایک دوسرے کے اثر کو مزید سنگین بنا دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 16.3 ارب امریکی ڈالر کے موجودہ ذخائر کے ساتھ، فوری دباؤ تیل کے مہنگے درآمدی بل اور بڑھتے  تجارتی خسارے سے آئے گا (جو ماہانہ تقریباً 3 ارب ڈالر اور جولائی سے فروری تک 25 ارب ڈالر رہا ہے)، جس سے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ایک بنیادی منظرنامے (تیل کی قیمتوں میں اضافہ مگر مستحکم ترسیلاتِ زر) کے تحت معاشی دباؤ قابو میں رہے گا، اگرچہ کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال معمولی حد تک خراب ہوگی۔ تاہم، ترسیلاتِ زر میں 5 فیصد کی کمی (2 ارب امریکی ڈالر) غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد کو نمایاں طور پر متاثر کرے گی، جس سے شرح مبادلہ (روپے کی قدر) پر دباؤ بڑھے گا اور ذخائر میں کمی آئے گی۔ اسی طرح، ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد کی کمی (4 ارب امریکی ڈالر) اور ساتھ ہی تیل کی بلند قیمتیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 2.5 سے 3.0 ارب ڈالر تک بڑھا سکتی ہیں، جو بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت  کو کافی حد تک کمزور کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر خاقان نجیب نے مزید واضح کیا کہ اصل نکتہ یہ ہے کہ زرمبادلہ  ذخائر کا دارومدار صرف تیل کی قیمتوں پر نہیں، بلکہ اس کے ترسیلاتِ زر اور فنانسنگ کی صورتحال کے ساتھ باہمی تعلق پر ہے۔ اگر ترسیلاتِ زر مستحکم رہتی ہیں، تو معاشی دباؤ قابو میں رہے گا، لیکن اگر تیل کی بلند قیمتوں کے ساتھ  ترسیلاتِ زر بھی کمزور پڑ جاتی ہیں تو ذخائر میں کمی کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو جائے گی جس سے بیرونی ادائیگیوں کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر پر شدید دباؤ آنے کا امکان ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تیزی سے بڑھ کر جی ڈی پی کے 5 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اس کا ہدف 2 فیصد طے کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے معاشی تجزیہ کاروں کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ملک کے درآمدی بل میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے جس سے زرمبادلہ ذخائر میں تیزی سے کمی آئے گی اور بیرونی شعبے کی مشکلات مزید سنگین ہو جائیں گی۔</p>
<p>سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر پر اس کے اثرات ناگزیر ہوں گے کیونکہ پاکستان کا ماہانہ پٹرولیم درآمدی بل جو اس وقت تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر ہے، اس میں 1 ارب امریکی ڈالر تک کے اضافے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 70 فیصد اضافہ پہلے ہی ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔ اس کی وجہ سے مالی سال کی بقیہ سہ ماہی  کے دوران درآمدی بل میں لگ بھگ 3 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے جس سے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس خسارے کا شکار ہو جائے گا۔</p>
<p>سابق مشیرِ وزارتِ خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ سپلائی (رسد) میں تعطل کا کوئی خطرہ نہیں لیکن قیمتوں کا مسلسل بلند رہنا بیرونی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران جتنا طویل ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ  ذخائر پر دباؤ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں کمی لائے اور درآمدات کو متناسب بنائے۔</p>
<p>انہوں نے ایک جارحانہ مگر منتخب درآمدی کمی کی پالیسی کی تجویز دی، جس میں ہفتے میں تین دن پٹرول پمپس کی بندش اور فیول راشننگ (تیل کی مقررہ مقدار میں فراہمی) شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک نے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر مقداری پابندیاں لگانا شروع کردی ہیں اور پاکستان کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے غیر ضروری درآمدات جیسے کہ کاروں اور موبائل فونز پر پابندی لگانے کی بھی سفارش کی جو کہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کے بڑے استعمال کنندگان ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے روول اوور برقرار رہنے کا قوی امکان ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب پاکستان جاری جنگ میں ثالثی کا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جو زرمبادلہ  ذخائر کے لیے ایک سہارا  ثابت ہوگا۔</p>
<p>ماہرِ معاشیات اور سابق مشیر وزارتِ خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا طویل ہوتا ہوا بحران پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو ایک ’نان لینیئر شاک انٹرایکشن چینل کے ذریعے متاثر کرے گا، جہاں تیل کی قیمتیں، ترسیلاتِ زر اور سرمائے کی نقل و حرکت  ایک دوسرے کے اثر کو مزید سنگین بنا دیں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 16.3 ارب امریکی ڈالر کے موجودہ ذخائر کے ساتھ، فوری دباؤ تیل کے مہنگے درآمدی بل اور بڑھتے  تجارتی خسارے سے آئے گا (جو ماہانہ تقریباً 3 ارب ڈالر اور جولائی سے فروری تک 25 ارب ڈالر رہا ہے)، جس سے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوگی۔</p>
<p>’ایک بنیادی منظرنامے (تیل کی قیمتوں میں اضافہ مگر مستحکم ترسیلاتِ زر) کے تحت معاشی دباؤ قابو میں رہے گا، اگرچہ کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال معمولی حد تک خراب ہوگی۔ تاہم، ترسیلاتِ زر میں 5 فیصد کی کمی (2 ارب امریکی ڈالر) غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمد کو نمایاں طور پر متاثر کرے گی، جس سے شرح مبادلہ (روپے کی قدر) پر دباؤ بڑھے گا اور ذخائر میں کمی آئے گی۔ اسی طرح، ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد کی کمی (4 ارب امریکی ڈالر) اور ساتھ ہی تیل کی بلند قیمتیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 2.5 سے 3.0 ارب ڈالر تک بڑھا سکتی ہیں، جو بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت  کو کافی حد تک کمزور کر دے گا۔</p>
<p>ڈاکٹر خاقان نجیب نے مزید واضح کیا کہ اصل نکتہ یہ ہے کہ زرمبادلہ  ذخائر کا دارومدار صرف تیل کی قیمتوں پر نہیں، بلکہ اس کے ترسیلاتِ زر اور فنانسنگ کی صورتحال کے ساتھ باہمی تعلق پر ہے۔ اگر ترسیلاتِ زر مستحکم رہتی ہیں، تو معاشی دباؤ قابو میں رہے گا، لیکن اگر تیل کی بلند قیمتوں کے ساتھ  ترسیلاتِ زر بھی کمزور پڑ جاتی ہیں تو ذخائر میں کمی کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو جائے گی جس سے بیرونی ادائیگیوں کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284352</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 11:22:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/28111951deb655f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/28111951deb655f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
