<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:56:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:56:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی مشکلات کے باعث حکومت کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹارگٹڈ فیول سبسڈی دینے کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284346/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے ملک میں جاری محدود مالیاتی گنجائش کے پیشِ نظر پیٹرولیم مصنوعات پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مخصوص طبقے کو سبسڈی فراہم کرنے کے طریقہ کار پر کام شروع کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں جمعہ کو وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت  اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں کے تناظر میں سبسڈی کے نئے نظام پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ایندھن کی سپلائی کی صورتحال مستحکم اور تسلی بخش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیکنالوجی پر مبنی ان حلوں پر تفصیلی بریفنگ دی جن کے ذریعے سبسڈی کی شفاف اور موثر ترسیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں شریک صوبائی قیادت نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایندھن کی بچت کے لیے عوامی رویوں میں تبدیلی پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والی کسی بھی کمی کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے۔ خیبر پختونخوا کے وزیرِ خزانہ مزمل اسلم نے پیٹرولیم سپلائی کے انتظام کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، جبکہ بلوچستان کے وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ مالیاتی گنجائش فی الوقت محدود ہے اور زیادہ تر انحصار پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والے ریونیو پر ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ موجودہ معاشی صورتحال کو ایک رکاوٹ کے بجائے ساختی اصلاحات کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکسیشن اور سبسڈی کے ڈیزائن میں ڈیٹا پر مبنی فیصلے کیے جائیں، تاکہ ریلیف کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور معاشی استحکام پر بھی حرف نہ آئے۔ تمام شرکاء نے ٹیکنالوجی کے ذریعے سبسڈی فریم ورک کو جلد حتمی شکل دینے اور وفاق و صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے ملک میں جاری محدود مالیاتی گنجائش کے پیشِ نظر پیٹرولیم مصنوعات پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مخصوص طبقے کو سبسڈی فراہم کرنے کے طریقہ کار پر کام شروع کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں جمعہ کو وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت  اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں کے تناظر میں سبسڈی کے نئے نظام پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ایندھن کی سپلائی کی صورتحال مستحکم اور تسلی بخش ہے۔</p>
<p>وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیکنالوجی پر مبنی ان حلوں پر تفصیلی بریفنگ دی جن کے ذریعے سبسڈی کی شفاف اور موثر ترسیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں شریک صوبائی قیادت نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایندھن کی بچت کے لیے عوامی رویوں میں تبدیلی پر زور دیا۔</p>
<p>پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والی کسی بھی کمی کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے۔ خیبر پختونخوا کے وزیرِ خزانہ مزمل اسلم نے پیٹرولیم سپلائی کے انتظام کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، جبکہ بلوچستان کے وزیرِ خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ مالیاتی گنجائش فی الوقت محدود ہے اور زیادہ تر انحصار پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والے ریونیو پر ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ موجودہ معاشی صورتحال کو ایک رکاوٹ کے بجائے ساختی اصلاحات کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے ہدایت کی کہ ٹیکسیشن اور سبسڈی کے ڈیزائن میں ڈیٹا پر مبنی فیصلے کیے جائیں، تاکہ ریلیف کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور معاشی استحکام پر بھی حرف نہ آئے۔ تمام شرکاء نے ٹیکنالوجی کے ذریعے سبسڈی فریم ورک کو جلد حتمی شکل دینے اور وفاق و صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284346</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 17:17:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/271705083a16cce.webp" type="image/webp" medium="image" height="678" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/271705083a16cce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
