<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم قیمتیں: امید کا بھاری معاشی بوجھ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284340/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ شروع ہوئے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ پاکستان ان پہلے ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پینک بٹن (ہنگامی صورتحال کا اشارہ) دباتے ہوئے قبل از وقت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ کچھ حلقوں نے اسے حد سے زیادہ  قرار دیا جب کہ دوسروں نے اسے وقت کی ضرورت سمجھا۔ اب ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان بدستور پینک بٹن ہی دبا رہا ہے، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار یہ غلط دبائے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش حد کے اندر موجود ہیں، اس کے باوجود مختلف اقسام کے لاک ڈاؤن کی باتیں سامنے آرہی ہیں اور اسکول پہلے ہی بند کیے جاچکے ہیں، یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب گزشتہ دو ہفتوں سے خام تیل کی قیمتیں بڑی حد تک 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے رہی ہیں، چونکہ (فریقین کے درمیان) مذاکرات محض میڈیا کی قیاس آرائیوں تک محدود ہیں اور ایک فریق کسی بھی قسم کی بات چیت کی دو ٹوک تردید کررہا ہے، اس لیے مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز بدستور عملی طور پر بند ہے۔ اگر یہ جنگ کل بھی ختم ہو جائے، تب بھی تیل کی پیداواری سطح کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔ مارکیٹ میں پہلے ہی ایک نئے اسٹریٹ پریمیم کے حوالے سے بحث شروع ہوچکی ہے کیونکہ ایران نے مؤثر طریقے سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے پانچویں حصے (20 فیصد) کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/27060930063d181.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/27060930063d181.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس (عالمی) پس منظر میں پاکستانی حکام نے مسلسل تین ہفتوں سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ صارفین تک منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج حکومت چلانے والے تمام افراد نے 2022 میں پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کی شدید مخالفت کی تھی اور وہ مخالفت درست بھی تھی۔ جو عمل اس وقت (معیشت کے لیے) تباہ کن تھا، اب بھی ویسا ہی ثابت ہونے کا خطرہ ہے۔ ’وائٹ آئل پر پریمیم 21 ڈالر فی بیرل (38 روپے فی لیٹر) تک پہنچ چکا ہے جو کہ گزشتہ 10 سال کی اوسط سے تقریباً دس گنا زیادہ ہے، اور بینچ مارک قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ پاکستان اس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 176 روپے فی لٹر اور پٹرول پر 78 روپے فی لٹر کا بھاری بوجھ پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی مد میں خود برداشت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم لیوی اس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 105 روپے اور پٹرول  پر 55 روپے فی لٹر برقرار ہے۔ اس کے باوجود، (عالمی اور مقامی قیمت میں) 94 روپے فی لٹر کا بڑا فرق باقی ہے۔ اگر ایندھن کی طلب میں نمایاں کمی بھی آ جائے مثلاً 1.4 ارب لٹر ماہانہ سے کم ہو کر 1 ارب لٹر رہ جائے، تب بھی خالص سبسڈی ماہانہ 100 ارب روپے تک جا پہنچے گی اور یہ تخمینہ پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن کو شامل کیے بغیر ہے۔ پاکستان کے پاس اتنے بڑے معاشی جھٹکے کو برداشت کرنے کے لیے کوئی مالیاتی گنجائش  موجود نہیں ہے۔ کفایت شعاری کی کوئی بھی مہم اس خسارے کو پورا نہیں کرسکتی۔ یہاں تک کہ ترقیاتی اخراجات میں مجوزہ 10 فیصد کٹوتی بھی صرف ایک ماہ سے زیادہ کا ریلیف فراہم نہیں کر سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (حکومت کا موجودہ) منصوبہ صرف اس امید پر ٹکا ہے کہ جنگ ختم ہو جائے گی لیکن یاد رہے کہ امید کوئی حکمتِ عملی نہیں ہوتی۔ سرکاری حکام اب اس اقدام کو متوازن قرار دے رہے ہیں جبکہ ٹھیک چار سال پہلے (2022 میں) اسی طرزِ عمل کو تباہ کن قرار دیا گیا تھا۔ اگر یہ جنگ ایک مہینہ اور کھینچ گئی تو حکومت ایک ایسا مالیاتی گڑھا  پیدا کر دے گی جسے بھرنا ناممکن ہوگا اور اس کے باوجود حکومت کو قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ہی پڑے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دانش مندی کا مظاہرہ کیا جائے، یا شاید اسلام آباد ان حقائق کو بہتر طور پر سمجھ لے: اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ شروع ہوئے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ پاکستان ان پہلے ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پینک بٹن (ہنگامی صورتحال کا اشارہ) دباتے ہوئے قبل از وقت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ کچھ حلقوں نے اسے حد سے زیادہ  قرار دیا جب کہ دوسروں نے اسے وقت کی ضرورت سمجھا۔ اب ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان بدستور پینک بٹن ہی دبا رہا ہے، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار یہ غلط دبائے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش حد کے اندر موجود ہیں، اس کے باوجود مختلف اقسام کے لاک ڈاؤن کی باتیں سامنے آرہی ہیں اور اسکول پہلے ہی بند کیے جاچکے ہیں، یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب گزشتہ دو ہفتوں سے خام تیل کی قیمتیں بڑی حد تک 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے رہی ہیں، چونکہ (فریقین کے درمیان) مذاکرات محض میڈیا کی قیاس آرائیوں تک محدود ہیں اور ایک فریق کسی بھی قسم کی بات چیت کی دو ٹوک تردید کررہا ہے، اس لیے مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان نظر نہیں آتا۔</p>
<p>آبنائے ہرمز بدستور عملی طور پر بند ہے۔ اگر یہ جنگ کل بھی ختم ہو جائے، تب بھی تیل کی پیداواری سطح کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔ مارکیٹ میں پہلے ہی ایک نئے اسٹریٹ پریمیم کے حوالے سے بحث شروع ہوچکی ہے کیونکہ ایران نے مؤثر طریقے سے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے پانچویں حصے (20 فیصد) کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/27060930063d181.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/27060930063d181.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس (عالمی) پس منظر میں پاکستانی حکام نے مسلسل تین ہفتوں سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ صارفین تک منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج حکومت چلانے والے تمام افراد نے 2022 میں پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دینے کی شدید مخالفت کی تھی اور وہ مخالفت درست بھی تھی۔ جو عمل اس وقت (معیشت کے لیے) تباہ کن تھا، اب بھی ویسا ہی ثابت ہونے کا خطرہ ہے۔ ’وائٹ آئل پر پریمیم 21 ڈالر فی بیرل (38 روپے فی لیٹر) تک پہنچ چکا ہے جو کہ گزشتہ 10 سال کی اوسط سے تقریباً دس گنا زیادہ ہے، اور بینچ مارک قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ پاکستان اس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 176 روپے فی لٹر اور پٹرول پر 78 روپے فی لٹر کا بھاری بوجھ پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی مد میں خود برداشت کر رہا ہے۔</p>
<p>پٹرولیم لیوی اس وقت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 105 روپے اور پٹرول  پر 55 روپے فی لٹر برقرار ہے۔ اس کے باوجود، (عالمی اور مقامی قیمت میں) 94 روپے فی لٹر کا بڑا فرق باقی ہے۔ اگر ایندھن کی طلب میں نمایاں کمی بھی آ جائے مثلاً 1.4 ارب لٹر ماہانہ سے کم ہو کر 1 ارب لٹر رہ جائے، تب بھی خالص سبسڈی ماہانہ 100 ارب روپے تک جا پہنچے گی اور یہ تخمینہ پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن کو شامل کیے بغیر ہے۔ پاکستان کے پاس اتنے بڑے معاشی جھٹکے کو برداشت کرنے کے لیے کوئی مالیاتی گنجائش  موجود نہیں ہے۔ کفایت شعاری کی کوئی بھی مہم اس خسارے کو پورا نہیں کرسکتی۔ یہاں تک کہ ترقیاتی اخراجات میں مجوزہ 10 فیصد کٹوتی بھی صرف ایک ماہ سے زیادہ کا ریلیف فراہم نہیں کر سکے گی۔</p>
<p>ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (حکومت کا موجودہ) منصوبہ صرف اس امید پر ٹکا ہے کہ جنگ ختم ہو جائے گی لیکن یاد رہے کہ امید کوئی حکمتِ عملی نہیں ہوتی۔ سرکاری حکام اب اس اقدام کو متوازن قرار دے رہے ہیں جبکہ ٹھیک چار سال پہلے (2022 میں) اسی طرزِ عمل کو تباہ کن قرار دیا گیا تھا۔ اگر یہ جنگ ایک مہینہ اور کھینچ گئی تو حکومت ایک ایسا مالیاتی گڑھا  پیدا کر دے گی جسے بھرنا ناممکن ہوگا اور اس کے باوجود حکومت کو قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ہی پڑے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دانش مندی کا مظاہرہ کیا جائے، یا شاید اسلام آباد ان حقائق کو بہتر طور پر سمجھ لے: اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ!</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284340</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 15:37:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/27153415e43e64c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/27153415e43e64c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
