<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ بانٹنے کے ساتھ راشننگ کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284339/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی سپلائی کے باعث پاکستان کے حکام کو ایک انتہائی تکلیف دہ، مشکل اور آزمائشی صورتحال کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکام دو آپشنز پر بڑی احتیاط سے غور کررہے ہیں: پہلا یہ کہ بڑھتی ہوئی لاگت کو پورا کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کیا جائے اور دوسرا یہ کہ ایندھن کی کھپت کی راشننگ (محدود پیمانے پر فراہمی) کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیمتوں کا بوجھ، چاہے جزوی طور پر ہی سہی، عوام تک منتقل کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ راشننگ کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ حکومت کو یہ دونوں اقدامات کرنے کی ضرورت پڑے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ادائیگیوں   کیے بغیر بھاری سبسڈیز کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو یہ عمل ایندھن کی فراہمی کے استحکام کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے، چاہے ملک میں کافی اسٹاکس اور درآمدی آرڈرز ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ رپورٹ کے مطابق پہلے ہفتے میں پرائس ڈیفرینشل کلیم  یعنی قیمتوں کے فرق کا دعویٰ 23 ارب روپے تھا جو اگلے ہفتے بڑھ کر 48 ارب روپے ہو گیا اور تیسرے ہفتے تک یہ کل بوجھ یقیناً 100 ارب روپے کی حد عبور کرچکا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ حکومت ناگزیر فیصلے (قیمتوں میں اضافے) میں جتنی تاخیر کرے گی، مجموعی قیمتوں اور معیشت پر اس کے اثرات اتنے ہی شدید ہوں گے، لہٰذا اگر آبنائے ہرمز مکمل یا جزوی طور پر بند رہتا ہے اور تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر ہی برقرار رہتی ہیں، تو ایسی صورت میں ہنگامی منصوبوں کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتی۔ بہترین آپشن یہ ہے کہ پٹرولیم قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کردیا جائے، جیسا کہ ایچ او بی سی  اور مٹی کے تیل کے معاملے میں کیا گیا ہے جو بالترتیب امیر اور غریب طبقے کے زیرِ استعمال ہیں۔ اگر کوئی سبسڈی فراہم کرنی بھی ہے تو وہ براہِ راست ہونی چاہیے۔ محض ایچ او بی سی پر پٹرولیم لیوی بڑھانے سے کام نہیں چلے گا، کیونکہ گزشتہ سال اس کی کھپت کل پٹرول کا صرف 5 فیصد تھی۔ ایچ او بی سی کی قیمتیں زیادہ ہونے سے کچھ صارفین پٹرول کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں جس کا مطلب مزید سبسڈی والی کھپت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ایچ او بی سی  کی قیمتوں میں اضافہ کرنا شاید ایک پرکشش سرخی  تو بن جائے لیکن اس سے صارفین کی اکثریت کو دی جانے والی سبسڈی کی تلافی کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق نہ رکھنے کی وجہ سے ان کی طلب میں کوئی کمی نہیں آرہی۔ اگرچہ کفایت شعاری کے اقدامات سے کچھ فرق پڑسکتا ہے لیکن یہ اقدامات سبسڈی کے بوجھ کو تشویشناک حد تک بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مزید (سخت اقدامات) کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ (عالمی قیمتوں کا) اثر صارفین تک منتقل کرے اور مزید کسی بھی قسم کی بلینکٹ سبسڈی (بغیر کسی تخصیص کے سب کے لیے رعایت) دینے سے گریز کرے۔ یہ اقدام اس معیشت کے میکرو اکنامک استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے جو بیرونی قیمتوں کے جھٹکوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں کے حوالے سے انتہائی حساس ہے۔ 2022 کے بحران کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ وہی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہیے۔ ملک کے پاس ایسی سبسڈیز فراہم کرنے کے لیے مزید مالی گنجائش موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کی کھپت کی راشننگ (محدود پیمانے پر فراہمی) پر کام کرنا ایک درست حکمتِ عملی ہے۔ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز اور دیگر راستوں کے ذریعے تیل کی سپلائی کو یقینی بنا رکھا ہے۔ تاہم، ملک کے پاس وہ معاشی بفرز موجود نہیں ہیں کہ وہ ایسے درآمدی بل کا بوجھ برداشت کرسکے جس میں موجودہ قیمتوں پر 65 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے بشرطیکہ ایندھن کی کھپت موجودہ سطح پر ہی برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا یہ وسیع تر قومی مفاد میں ہے کہ قیمتوں کا بوجھ صارفین تک منتقل کیا جائے اور درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے ایندھن کی کھپت کی راشننگ  کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت شناختی کارڈ پر مبنی اقدامات کے ذریعے دو/تین پہیوں والی اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی کھپت کم کرنے کے منصوبوں پر غور کررہی ہے۔ ہماری نظر میں کوٹے کی الاٹمنٹ کے لیے شناختی کارڈ کو بنیاد بنانا نامناسب ہوگا، کیونکہ کارپوریٹ ادارے اور دیگر قانونی شخصیات بھی گاڑیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اگر اس کوٹے کا تعلق گاڑیوں کی رجسٹریشن سے ہو تو یہ زیادہ قابلِ انتظام ہوگا۔ ہر نظام میں خامیاں ہو سکتی ہیں، لیکن مؤخر الذکر (رجسٹریشن والا نظام) میں بدعنوانی کا امکان واضح طور پر کم ہے اور اس پر عمل درآمد بھی کم پیچیدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ سلووینیا موجودہ (توانائی کی) صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایندھن کی راشننگ نافذ کرنے والی یورپی یونین کی پہلی رکن ریاست بن گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سلووینیا میں نجی گاڑیوں کے مالکان کے لیے روزانہ ایندھن کی ایک مخصوص مقدار مقرر کر دی گئی ہے۔ تاہم، کاروباری اداروں اور کسانوں کے لیے ایندھن کا کوٹہ زیادہ رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں ہم سلووینیا کی اس فیول راشننگ حکمتِ عملی کی براہِ راست یا آنکھیں بند کر کے نقل کیے بغیر اس سے ایک دو سبق حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی سپلائی کے باعث پاکستان کے حکام کو ایک انتہائی تکلیف دہ، مشکل اور آزمائشی صورتحال کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکام دو آپشنز پر بڑی احتیاط سے غور کررہے ہیں: پہلا یہ کہ بڑھتی ہوئی لاگت کو پورا کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کیا جائے اور دوسرا یہ کہ ایندھن کی کھپت کی راشننگ (محدود پیمانے پر فراہمی) کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیمتوں کا بوجھ، چاہے جزوی طور پر ہی سہی، عوام تک منتقل کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ راشننگ کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ حکومت کو یہ دونوں اقدامات کرنے کی ضرورت پڑے گی۔</strong></p>
<p>اگر حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ادائیگیوں   کیے بغیر بھاری سبسڈیز کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو یہ عمل ایندھن کی فراہمی کے استحکام کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے، چاہے ملک میں کافی اسٹاکس اور درآمدی آرڈرز ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ رپورٹ کے مطابق پہلے ہفتے میں پرائس ڈیفرینشل کلیم  یعنی قیمتوں کے فرق کا دعویٰ 23 ارب روپے تھا جو اگلے ہفتے بڑھ کر 48 ارب روپے ہو گیا اور تیسرے ہفتے تک یہ کل بوجھ یقیناً 100 ارب روپے کی حد عبور کرچکا ہوگا۔</p>
<p>یہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ حکومت ناگزیر فیصلے (قیمتوں میں اضافے) میں جتنی تاخیر کرے گی، مجموعی قیمتوں اور معیشت پر اس کے اثرات اتنے ہی شدید ہوں گے، لہٰذا اگر آبنائے ہرمز مکمل یا جزوی طور پر بند رہتا ہے اور تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر ہی برقرار رہتی ہیں، تو ایسی صورت میں ہنگامی منصوبوں کی ضرورت ہے۔</p>
<p>حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتی۔ بہترین آپشن یہ ہے کہ پٹرولیم قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کردیا جائے، جیسا کہ ایچ او بی سی  اور مٹی کے تیل کے معاملے میں کیا گیا ہے جو بالترتیب امیر اور غریب طبقے کے زیرِ استعمال ہیں۔ اگر کوئی سبسڈی فراہم کرنی بھی ہے تو وہ براہِ راست ہونی چاہیے۔ محض ایچ او بی سی پر پٹرولیم لیوی بڑھانے سے کام نہیں چلے گا، کیونکہ گزشتہ سال اس کی کھپت کل پٹرول کا صرف 5 فیصد تھی۔ ایچ او بی سی کی قیمتیں زیادہ ہونے سے کچھ صارفین پٹرول کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں جس کا مطلب مزید سبسڈی والی کھپت ہوگا۔</p>
<p>صرف ایچ او بی سی  کی قیمتوں میں اضافہ کرنا شاید ایک پرکشش سرخی  تو بن جائے لیکن اس سے صارفین کی اکثریت کو دی جانے والی سبسڈی کی تلافی کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق نہ رکھنے کی وجہ سے ان کی طلب میں کوئی کمی نہیں آرہی۔ اگرچہ کفایت شعاری کے اقدامات سے کچھ فرق پڑسکتا ہے لیکن یہ اقدامات سبسڈی کے بوجھ کو تشویشناک حد تک بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔</p>
<p>اب مزید (سخت اقدامات) کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ (عالمی قیمتوں کا) اثر صارفین تک منتقل کرے اور مزید کسی بھی قسم کی بلینکٹ سبسڈی (بغیر کسی تخصیص کے سب کے لیے رعایت) دینے سے گریز کرے۔ یہ اقدام اس معیشت کے میکرو اکنامک استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے جو بیرونی قیمتوں کے جھٹکوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں کے حوالے سے انتہائی حساس ہے۔ 2022 کے بحران کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ وہی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہیے۔ ملک کے پاس ایسی سبسڈیز فراہم کرنے کے لیے مزید مالی گنجائش موجود نہیں ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کی کھپت کی راشننگ (محدود پیمانے پر فراہمی) پر کام کرنا ایک درست حکمتِ عملی ہے۔ پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز اور دیگر راستوں کے ذریعے تیل کی سپلائی کو یقینی بنا رکھا ہے۔ تاہم، ملک کے پاس وہ معاشی بفرز موجود نہیں ہیں کہ وہ ایسے درآمدی بل کا بوجھ برداشت کرسکے جس میں موجودہ قیمتوں پر 65 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے بشرطیکہ ایندھن کی کھپت موجودہ سطح پر ہی برقرار رہے۔</p>
<p>لہٰذا یہ وسیع تر قومی مفاد میں ہے کہ قیمتوں کا بوجھ صارفین تک منتقل کیا جائے اور درآمدی بل کو قابو میں رکھنے کے لیے ایندھن کی کھپت کی راشننگ  کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت شناختی کارڈ پر مبنی اقدامات کے ذریعے دو/تین پہیوں والی اور چار پہیوں والی گاڑیوں کی کھپت کم کرنے کے منصوبوں پر غور کررہی ہے۔ ہماری نظر میں کوٹے کی الاٹمنٹ کے لیے شناختی کارڈ کو بنیاد بنانا نامناسب ہوگا، کیونکہ کارپوریٹ ادارے اور دیگر قانونی شخصیات بھی گاڑیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اگر اس کوٹے کا تعلق گاڑیوں کی رجسٹریشن سے ہو تو یہ زیادہ قابلِ انتظام ہوگا۔ ہر نظام میں خامیاں ہو سکتی ہیں، لیکن مؤخر الذکر (رجسٹریشن والا نظام) میں بدعنوانی کا امکان واضح طور پر کم ہے اور اس پر عمل درآمد بھی کم پیچیدہ ہے۔</p>
<p>آخر میں یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ سلووینیا موجودہ (توانائی کی) صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایندھن کی راشننگ نافذ کرنے والی یورپی یونین کی پہلی رکن ریاست بن گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سلووینیا میں نجی گاڑیوں کے مالکان کے لیے روزانہ ایندھن کی ایک مخصوص مقدار مقرر کر دی گئی ہے۔ تاہم، کاروباری اداروں اور کسانوں کے لیے ایندھن کا کوٹہ زیادہ رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں ہم سلووینیا کی اس فیول راشننگ حکمتِ عملی کی براہِ راست یا آنکھیں بند کر کے نقل کیے بغیر اس سے ایک دو سبق حاصل کرسکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284339</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 15:17:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/27151321cba2870.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/27151321cba2870.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
