<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی مارکیٹ میں توانائی کی بڑھتی قیمتیں ملکی معیشت کے لیے خطرہ، اسٹیٹ بینک اجلاس کے منٹس جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284338/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپنی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کی کارروائی (منٹس) میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ قلیل مدت میں پاکستان کے تجارتی توازن اور مہنگائی کی شرح  پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے منٹس کے مطابق گزشتہ اجلاس سے لے کر 6 مارچ 2026 تک، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 28.1 فیصد اور ایل این جی کی قیمتوں میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر سپلائی کے حوالے سے خدشات اور خطے میں بحری تجارتی راستوں میں پیدا ہونے والے تعطل کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے منٹس میں کہا گیا ہے کہ ان عوامل (توانائی کی قیمتوں میں اضافے) کے باعث گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی  کے اجلاس کے بعد سے ملک کی ٹرمز آف ٹریڈ کی صورت حال خراب ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے شروع میں مرکزی بینک نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، یہ فیصلہ مارکیٹ کی ان توقعات کے عین مطابق تھا جن میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے پیش نظر مرکزی بینک موجودہ صورتحال کو برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے عملے نے اپنے منٹس میں بیرونی شعبے کے مستقبل کے منظر نامے پر بحث کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ جاری جیو پولیٹیکل پیش رفت مختلف ذرائع سے پاکستان کے بیرونی شعبے کو متاثر کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منٹس میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر عالمی منڈی میں تیل کی اونچی قیمتوں اور بحری مال برداری کے اخراجات  میں اضافے سے بالترتیب توانائی کے درآمدی بل میں اضافے اور سروسز اکاؤنٹ کے خسارے میں بگاڑ کی توقع ہے۔ جبکہ علاقائی تجارتی راستوں میں تعطل کی وجہ سے برآمدات کو بھی کچھ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے عملے نے آگاہ کیا ہے کہ مالی سال 2026 کے دوران ورکرز ریمیٹنسز (ترسیلاتِ زر) کے مستحکم رہنے کی توقع ہے جبکہ عید کے موسمی اثرات کی وجہ سے ان میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے  مطابق ابھرتے ہوئے چیلنجز کے باوجود بینک کے عملے نے یہ اندازہ لگایا کہ بنیادی منظرنامے کے تحت مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی سابقہ پیش گوئی کی گئی حد کے اندر رہنے کا امکان ہے۔ اس تخمینے اور منصوبہ بند سرکاری رقوم کی متوقع وصولی کے تناظر میں یہ توقع ہے کہ جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ  ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے منظرنامے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے عملے نے آگاہ کیا کہ افراطِ زر  میں سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ تیزی سے اضافے کی توقع ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں بڑھوتری اور بجلی کے ٹیرف کا لو بیس ایفیکٹ  شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اعلامیے میں مزید کہا گیا  کہ ان میں سے کچھ دباؤ کو خوراک کی اہم اشیاء کی بہتر فراہمی اور ربیع کے سیزن کے لیے زرعی پیداوار کے بہتر امکانات کے ذریعے جزوی طور پر متوازن کیے جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی  کے منٹس میں نوٹ کیا گیا کہ مالی سال 2026 کے بقیہ مہینوں کے دوران مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے اوپر رہنے کی توقع ہے۔ تاہم اعلامیے کے مطابق مستقبل کا منظرنامہ عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مقامی سطح پر توانائی کے نرخوں میں غیر متوقع تبدیلیوں اور جیو پولیٹیکل پیشرفت کے باعث بدستور شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے 10 میں سے 8 ارکان کی اکثریتی رائے سے پالیسی ریٹ کو غیر تبدیل شدہ رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ دو ارکان نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپنی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کی کارروائی (منٹس) میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ قلیل مدت میں پاکستان کے تجارتی توازن اور مہنگائی کی شرح  پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔</strong></p>
<p>اجلاس کے منٹس کے مطابق گزشتہ اجلاس سے لے کر 6 مارچ 2026 تک، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 28.1 فیصد اور ایل این جی کی قیمتوں میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر سپلائی کے حوالے سے خدشات اور خطے میں بحری تجارتی راستوں میں پیدا ہونے والے تعطل کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے منٹس میں کہا گیا ہے کہ ان عوامل (توانائی کی قیمتوں میں اضافے) کے باعث گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی  کے اجلاس کے بعد سے ملک کی ٹرمز آف ٹریڈ کی صورت حال خراب ہو گئی ہے۔</p>
<p>رواں ماہ کے شروع میں مرکزی بینک نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، یہ فیصلہ مارکیٹ کی ان توقعات کے عین مطابق تھا جن میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے پیش نظر مرکزی بینک موجودہ صورتحال کو برقرار رکھے گا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے عملے نے اپنے منٹس میں بیرونی شعبے کے مستقبل کے منظر نامے پر بحث کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ جاری جیو پولیٹیکل پیش رفت مختلف ذرائع سے پاکستان کے بیرونی شعبے کو متاثر کرسکتی ہے۔</p>
<p>منٹس میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر عالمی منڈی میں تیل کی اونچی قیمتوں اور بحری مال برداری کے اخراجات  میں اضافے سے بالترتیب توانائی کے درآمدی بل میں اضافے اور سروسز اکاؤنٹ کے خسارے میں بگاڑ کی توقع ہے۔ جبکہ علاقائی تجارتی راستوں میں تعطل کی وجہ سے برآمدات کو بھی کچھ دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے عملے نے آگاہ کیا ہے کہ مالی سال 2026 کے دوران ورکرز ریمیٹنسز (ترسیلاتِ زر) کے مستحکم رہنے کی توقع ہے جبکہ عید کے موسمی اثرات کی وجہ سے ان میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے  مطابق ابھرتے ہوئے چیلنجز کے باوجود بینک کے عملے نے یہ اندازہ لگایا کہ بنیادی منظرنامے کے تحت مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی سابقہ پیش گوئی کی گئی حد کے اندر رہنے کا امکان ہے۔ اس تخمینے اور منصوبہ بند سرکاری رقوم کی متوقع وصولی کے تناظر میں یہ توقع ہے کہ جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ  ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔</p>
<p>مہنگائی کے منظرنامے پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے عملے نے آگاہ کیا کہ افراطِ زر  میں سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ تیزی سے اضافے کی توقع ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں بڑھوتری اور بجلی کے ٹیرف کا لو بیس ایفیکٹ  شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم اعلامیے میں مزید کہا گیا  کہ ان میں سے کچھ دباؤ کو خوراک کی اہم اشیاء کی بہتر فراہمی اور ربیع کے سیزن کے لیے زرعی پیداوار کے بہتر امکانات کے ذریعے جزوی طور پر متوازن کیے جانے کی توقع ہے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی  کے منٹس میں نوٹ کیا گیا کہ مالی سال 2026 کے بقیہ مہینوں کے دوران مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے اوپر رہنے کی توقع ہے۔ تاہم اعلامیے کے مطابق مستقبل کا منظرنامہ عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مقامی سطح پر توانائی کے نرخوں میں غیر متوقع تبدیلیوں اور جیو پولیٹیکل پیشرفت کے باعث بدستور شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے 10 میں سے 8 ارکان کی اکثریتی رائے سے پالیسی ریٹ کو غیر تبدیل شدہ رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ دو ارکان نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284338</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 15:04:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/27143851ec84575.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/27143851ec84575.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
