<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:48:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 22:48:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے بجلی کے نئے ٹیرف پر مشاورت کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284322/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن نے صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک نئے اختیاری ٹائم آف یوز (ٹی او یو) ٹیرف میکانزم پر مشاورت کا آغاز کردیا ہے، اس منصوبے کا مقصد صنعتی اور زرعی صارفین کو فی یونٹ 6 روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کرنا اور بجلی کے شعبے کے فکسڈ اخراجات کی ریکوری میں بہتری لانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے حکام نے ایک بریفنگ سیشن کے دوران شرکاء کو مطلع کیا کہ مجوزہ اسکیم کے تحت صنعتی ٹیرف موجودہ 27.71 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 21.58 روپے فی یونٹ تک آسکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ صنعتوں کو فی یونٹ 6.13 روپے کا بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے وضاحت کی ہے کہ بجلی کا موجودہ ٹیرف اسٹرکچر فکسڈ چارجز (مقررہ اخراجات) پر نسبتاً کم بوجھ ڈالتا ہے جبکہ ویری ایبل ریٹس (استعمال کے مطابق نرخ) زیادہ وصول کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے صنعتیں زیادہ بجلی استعمال کرنے سے کتراتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت صنعتی شعبے سے ماہانہ تقریباً 1,250 روپے فی کلو واٹ فکسڈ چارجز وصول کیے جا رہے ہیں جو اس سیکٹر سے وابستہ کل فکسڈ اخراجات کا صرف 20 فیصد بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق بجلی کے اوسط نرخ بی ون  کیٹیگری کے لیے 26.23 روپے فی یونٹ، بی ون-ٹی او یو کے لیے 27.05 روپے، بی ٹو-ٹی او یو  کے لیے 24.83 روپے، بی تھری-ٹی او یو  کے لیے 25.47 روپے اور بی فور-ٹی او یو  صارفین کے لیے 25.16 روپے فی یونٹ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ایم سی کا موقف ہے کہ فکسڈ اور ویری ایبل چارجز کے درمیان عدم توازن صنعتوں کو بجلی کا استعمال کم رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ اس مسئلے کو فکسڈ چارجز میں اضافہ اور اس کے تناسب سے ویری ایبل ریٹس (فی یونٹ قیمت) میں کمی کر کے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فکسڈ چارجز کی ریکوری کے ذریعے کپیسٹی پیمنٹس کو محفوظ بنانا پاور سیکٹر کے مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ مجوزہ نظام اختیاری ہوگا اور اس کا اطلاق تمام ڈسکوز اور کے-الیکٹرک کے صنعتی و زرعی صارفین پر ہوگا، جس میں نئے اور پرانے کنکشنز کے ساتھ ساتھ نان-ٹی او یو  کیٹیگری سے منتقل ہونے والے صارفین بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ ڈھانچے میں زیادہ فکسڈ چارجز کے ساتھ ’ٹائم آف یوز کے تین سلیبز شامل کیے گئے ہیں، جو بجلی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے نسبتاً کم نرخ پیش کریں گے، بالخصوص آف پیک آورز اور شمسی توانائی  کی پیداوار کے اوقات کے دوران۔ اس اسکیم میں شرکت کرنے والے صارفین کے لیے اسمارٹ میٹرز کا ہونا لازمی ہوگا تاکہ ٹائم آف یوز پرائسنگ کی درست پیمائش اور اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسکیم کا انتخاب کرنے والے صارفین کو کم از کم چھ ماہ بعد ایک ماہ کے پیشگی نوٹس پر دوبارہ پرانے ٹیرف پر واپس جانے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فکسڈ اور ویری ایبل چارجز پر ہر تین ماہ بعد لاگت  کی بنیاد پر نظرثانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی عدم توازن کو دور کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر واجب الادا اجزاء جیسے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ ، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ  اور ڈیٹ سروسنگ سرچارج  پرانے طریقہ کار کے تحت بلوں کا حصہ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ اسکیم کے تحت، فکسڈ چارجز کا حساب منظور شدہ لوڈ  کے 50 فیصد یا اصل میکسیمم ڈیمانڈ انڈیکیٹر میں سے جو بھی زیادہ ہو، اس کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ تاہم صنعت کے نمائندوں نے کئی تحفظات اٹھائے ہیں اور اس پیکیج کو مزید بہتر بنانے کے لیے ترامیم تجویز کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عامر شیخ، ریحان جاوید اور عارف بلوانی سمیت معروف صنعتکاروں نے تجویز دی ہے کہ فکسڈ چارجز کا حساب مجوزہ 50 فیصد کے بجائے منظور شدہ لوڈ کے 25 فیصد یا ایم ڈی آئی میں سے جو بھی زیادہ ہو، اس کی بنیاد پر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا استدلال تھا کہ فکسڈ چارجز پہلے ہی کافی زیادہ ہیں اور کپیسٹی پیمنٹس کو مناسب طور پر پورا کر رہے ہیں، لہٰذا فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ  کے علاوہ مزید کوئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ نافذ نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ نظام کی خامیاں اجاگر کرتے ہوئے صنعتی نمائندوں نے بتایا کہ 22,000 میگاواٹ کے منظور شدہ صنعتی لوڈ کے مقابلے میں اصل کھپت صرف 3,000 میگاواٹ کے قریب ہے جس کے نتیجے میں ’لوڈ فیکٹر‘ محض 13 فیصد رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایم ڈی آئی کی بنیاد پر لوڈ فیکٹر 33 سے 35 فیصد ہے جو بلنگ کے لیے زیادہ درست بنیاد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتکاروں نے اسکیم سے نکلنے کے معاملے میں بھی لچک کا مطالبہ کیا ہے اور تجویز دی ہے کہ برآمدی طلب میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ایگزٹ پیریڈ کو چھ ماہ کے بجائے کم کر کے ایک ماہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف میں فرق کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز نے نشاندہی کی کہ زیادہ وولٹیج والے صارفین (B3 اور B4 کیٹیگریز) کے لیے سسٹم کی لاگت اور نقصانات  کم ہوتے ہیں، اس لیے بی ون اور بی ٹو  کیٹیگریز کے مقابلے میں ان سے فکسڈ ریٹس کم وصول کیے جانے چاہئیں تاکہ توانائی کے موثر استعمال کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتکاروں نے مزید سفارش کی ہے کہ سولر آورز (شمسی توانائی کے اوقات) کو صبح 9 سے شام 4 بجے کے بجائے شام 5 بجے تک بڑھایا جائے، اور ان اوقات میں 6.23 روپے فی یونٹ کا ٹیرف تجویز کیا ہے تاکہ سسٹم کے ڈک کرو کو بہتر طریقے سے مینج کیا جا سکے۔ صنعتی نمائندوں کا استدلال تھا کہ مجوزہ ڈھانچہ 35 سے 45 فیصد لوڈ فیکٹر پر بہت کم بچت فراہم کرتا ہے اور تقریباً 60 فیصد لوڈ فیکٹر پر جا کر برابر  ہوتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ فکسڈ چارجز میں 1,000 روپے فی کلو واٹ کمی کر کے اس پیکیج کو مزید پرکشش بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منیجنگ ڈائریکٹر پی پی ایم سی عابد لودھی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ اسکیم ریونیو نیوٹرل بنیادوں پر تیار کی گئی ہے، یعنی اس سے حکومت کی آمدنی میں کوئی کمی نہیں ہوگی، اس لیے اس کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تجویز کو حتمی شکل دینے کے بعد نیپرا  سے منظوری لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مشاورت کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حتمی ڈیزائن کا مقصد ایک متوازن نتیجہ کو یقینی بنانا ہے۔ پی پی ایم سی  کے مطابق اسکیم کا مقصد یہ ہے کہ ایک طبقے کو دوسرے کی قیمت پر فائدہ نہ پہنچایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن نے صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک نئے اختیاری ٹائم آف یوز (ٹی او یو) ٹیرف میکانزم پر مشاورت کا آغاز کردیا ہے، اس منصوبے کا مقصد صنعتی اور زرعی صارفین کو فی یونٹ 6 روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کرنا اور بجلی کے شعبے کے فکسڈ اخراجات کی ریکوری میں بہتری لانا ہے۔</strong></p>
<p>پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کے حکام نے ایک بریفنگ سیشن کے دوران شرکاء کو مطلع کیا کہ مجوزہ اسکیم کے تحت صنعتی ٹیرف موجودہ 27.71 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 21.58 روپے فی یونٹ تک آسکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ صنعتوں کو فی یونٹ 6.13 روپے کا بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔</p>
<p>حکام نے وضاحت کی ہے کہ بجلی کا موجودہ ٹیرف اسٹرکچر فکسڈ چارجز (مقررہ اخراجات) پر نسبتاً کم بوجھ ڈالتا ہے جبکہ ویری ایبل ریٹس (استعمال کے مطابق نرخ) زیادہ وصول کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے صنعتیں زیادہ بجلی استعمال کرنے سے کتراتی ہیں۔</p>
<p>اس وقت صنعتی شعبے سے ماہانہ تقریباً 1,250 روپے فی کلو واٹ فکسڈ چارجز وصول کیے جا رہے ہیں جو اس سیکٹر سے وابستہ کل فکسڈ اخراجات کا صرف 20 فیصد بنتے ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق بجلی کے اوسط نرخ بی ون  کیٹیگری کے لیے 26.23 روپے فی یونٹ، بی ون-ٹی او یو کے لیے 27.05 روپے، بی ٹو-ٹی او یو  کے لیے 24.83 روپے، بی تھری-ٹی او یو  کے لیے 25.47 روپے اور بی فور-ٹی او یو  صارفین کے لیے 25.16 روپے فی یونٹ ہیں۔</p>
<p>پی پی ایم سی کا موقف ہے کہ فکسڈ اور ویری ایبل چارجز کے درمیان عدم توازن صنعتوں کو بجلی کا استعمال کم رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ اس مسئلے کو فکسڈ چارجز میں اضافہ اور اس کے تناسب سے ویری ایبل ریٹس (فی یونٹ قیمت) میں کمی کر کے حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فکسڈ چارجز کی ریکوری کے ذریعے کپیسٹی پیمنٹس کو محفوظ بنانا پاور سیکٹر کے مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ مجوزہ نظام اختیاری ہوگا اور اس کا اطلاق تمام ڈسکوز اور کے-الیکٹرک کے صنعتی و زرعی صارفین پر ہوگا، جس میں نئے اور پرانے کنکشنز کے ساتھ ساتھ نان-ٹی او یو  کیٹیگری سے منتقل ہونے والے صارفین بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>مجوزہ ڈھانچے میں زیادہ فکسڈ چارجز کے ساتھ ’ٹائم آف یوز کے تین سلیبز شامل کیے گئے ہیں، جو بجلی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے نسبتاً کم نرخ پیش کریں گے، بالخصوص آف پیک آورز اور شمسی توانائی  کی پیداوار کے اوقات کے دوران۔ اس اسکیم میں شرکت کرنے والے صارفین کے لیے اسمارٹ میٹرز کا ہونا لازمی ہوگا تاکہ ٹائم آف یوز پرائسنگ کی درست پیمائش اور اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>اس اسکیم کا انتخاب کرنے والے صارفین کو کم از کم چھ ماہ بعد ایک ماہ کے پیشگی نوٹس پر دوبارہ پرانے ٹیرف پر واپس جانے کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>فکسڈ اور ویری ایبل چارجز پر ہر تین ماہ بعد لاگت  کی بنیاد پر نظرثانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی عدم توازن کو دور کیا جا سکے۔</p>
<p>دیگر واجب الادا اجزاء جیسے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ ، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ  اور ڈیٹ سروسنگ سرچارج  پرانے طریقہ کار کے تحت بلوں کا حصہ رہیں گے۔</p>
<p>مجوزہ اسکیم کے تحت، فکسڈ چارجز کا حساب منظور شدہ لوڈ  کے 50 فیصد یا اصل میکسیمم ڈیمانڈ انڈیکیٹر میں سے جو بھی زیادہ ہو، اس کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ تاہم صنعت کے نمائندوں نے کئی تحفظات اٹھائے ہیں اور اس پیکیج کو مزید بہتر بنانے کے لیے ترامیم تجویز کی ہیں۔</p>
<p>عامر شیخ، ریحان جاوید اور عارف بلوانی سمیت معروف صنعتکاروں نے تجویز دی ہے کہ فکسڈ چارجز کا حساب مجوزہ 50 فیصد کے بجائے منظور شدہ لوڈ کے 25 فیصد یا ایم ڈی آئی میں سے جو بھی زیادہ ہو، اس کی بنیاد پر کیا جائے۔</p>
<p>ان کا استدلال تھا کہ فکسڈ چارجز پہلے ہی کافی زیادہ ہیں اور کپیسٹی پیمنٹس کو مناسب طور پر پورا کر رہے ہیں، لہٰذا فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ  کے علاوہ مزید کوئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ نافذ نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>موجودہ نظام کی خامیاں اجاگر کرتے ہوئے صنعتی نمائندوں نے بتایا کہ 22,000 میگاواٹ کے منظور شدہ صنعتی لوڈ کے مقابلے میں اصل کھپت صرف 3,000 میگاواٹ کے قریب ہے جس کے نتیجے میں ’لوڈ فیکٹر‘ محض 13 فیصد رہ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایم ڈی آئی کی بنیاد پر لوڈ فیکٹر 33 سے 35 فیصد ہے جو بلنگ کے لیے زیادہ درست بنیاد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>صنعتکاروں نے اسکیم سے نکلنے کے معاملے میں بھی لچک کا مطالبہ کیا ہے اور تجویز دی ہے کہ برآمدی طلب میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ایگزٹ پیریڈ کو چھ ماہ کے بجائے کم کر کے ایک ماہ کیا جائے۔</p>
<p>ٹیرف میں فرق کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز نے نشاندہی کی کہ زیادہ وولٹیج والے صارفین (B3 اور B4 کیٹیگریز) کے لیے سسٹم کی لاگت اور نقصانات  کم ہوتے ہیں، اس لیے بی ون اور بی ٹو  کیٹیگریز کے مقابلے میں ان سے فکسڈ ریٹس کم وصول کیے جانے چاہئیں تاکہ توانائی کے موثر استعمال کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔</p>
<p>صنعتکاروں نے مزید سفارش کی ہے کہ سولر آورز (شمسی توانائی کے اوقات) کو صبح 9 سے شام 4 بجے کے بجائے شام 5 بجے تک بڑھایا جائے، اور ان اوقات میں 6.23 روپے فی یونٹ کا ٹیرف تجویز کیا ہے تاکہ سسٹم کے ڈک کرو کو بہتر طریقے سے مینج کیا جا سکے۔ صنعتی نمائندوں کا استدلال تھا کہ مجوزہ ڈھانچہ 35 سے 45 فیصد لوڈ فیکٹر پر بہت کم بچت فراہم کرتا ہے اور تقریباً 60 فیصد لوڈ فیکٹر پر جا کر برابر  ہوتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ فکسڈ چارجز میں 1,000 روپے فی کلو واٹ کمی کر کے اس پیکیج کو مزید پرکشش بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>منیجنگ ڈائریکٹر پی پی ایم سی عابد لودھی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ اسکیم ریونیو نیوٹرل بنیادوں پر تیار کی گئی ہے، یعنی اس سے حکومت کی آمدنی میں کوئی کمی نہیں ہوگی، اس لیے اس کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تجویز کو حتمی شکل دینے کے بعد نیپرا  سے منظوری لی جائے گی۔</p>
<p>حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مشاورت کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حتمی ڈیزائن کا مقصد ایک متوازن نتیجہ کو یقینی بنانا ہے۔ پی پی ایم سی  کے مطابق اسکیم کا مقصد یہ ہے کہ ایک طبقے کو دوسرے کی قیمت پر فائدہ نہ پہنچایا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284322</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 12:00:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/27115714eda244a.webp" type="image/webp" medium="image" height="476" width="737">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/27115714eda244a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
