<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس گر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284317/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100  انڈیکس میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام  ساڑھے 4  بجے مارکیٹ کا نمائندہ انڈیکس 151,707.51 کی سطح پر موجود تھا، جو کہ گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 1,200.45 پوائنٹس یا 0.79 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز  اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔ انڈیکس کے ہیوی ویٹ حصص جن میں سینرجی، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل اور نیشنل بینک  شامل ہیں مندی کے ساتھ  ریڈ زون میں ٹریڈ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ عید پر کیا گیا عارضی وقفہ ختم ہوگیا ہے اور افغانستان میں متعین اہداف کے خلاف فوجی آپریشنز دوبارہ شروع کردیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپیٹل نے جمعہ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مغربی سرحد پر کشیدگی میں یہ اضافہ امن کے پیامبر کے طور پر بننے والے تاثر کو کم کر رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو علاقائی سلامتی سے جڑے مستقل خطرات کی یاد دہانی کرا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں رہی جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور جاری عالمی غیر یقینی صورتحال نے تمام شعبوں میں بڑے پیمانے پر گراوٹ کو جنم دیا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 5,405.48 پوائنٹس یا 3.41 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ 152,907.97 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی عالمی مندی کی لپیٹ میں آگئیں اور وال اسٹریٹ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گراوٹ کا شکار ہوئیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کے طویل مدتی بحران کے خطرے نے قرض لینے کی لاگت میں شدید اضافہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے کچھ حد تک راحت محسوس کی ہے جس میں انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے کے الٹی میٹم میں مزید 10 دن کی توسیع کردی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی ابتدائی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن میں پانچ دن کا اضافہ کیا تھا۔ اس خبر کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 1 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 107.07 ڈالر فی بیرل پر آگئی جبکہ گزشتہ رات اس کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تیل کی قیمتوں میں ہونے والی یہ کمی معمولی رہی۔ ان رپورٹس نے کہ صدر ٹرمپ مزید فوجی دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، جنگ کے زمینی تنازع میں تبدیل ہونے کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں اس بات کا بھی کوئی یقین نہیں ہے کہ آیا آبنائے ہرمزکو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جلد دوبارہ کھولا جا سکے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے تنازع ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز کو یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں وال اسٹریٹ فیوچرز میں 0.2 فیصد کی معمولی بہتری دیکھی گئی۔ گزشتہ رات نیسڈیک کمپوزٹ میں 2.4 فیصد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جو کہ 29 اکتوبر کی ریکارڈ سطح سے تقریباً 11 فیصد کم ہے۔ اس بڑی گراوٹ نے تصدیق کردی ہے کہ نیسڈیک اس وقت سے کریکشن کے مرحلے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 1.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور یہ ہفتہ وار بنیادوں پر 3 فیصد کی گراوٹ کی جانب گامزن ہے۔ جاپان کا نکی انڈیکس 1.3 فیصد گر گیا، جس سے اس کی ہفتہ وار کمی 0.9 فیصد ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد اس کا ہفتہ وار نقصان حیران کن طور پر 8.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ چین کے بلیو چپ حصص میں 1 فیصد کی کمی ہوئی، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کی سطح پر موجود تھا، جو کہ گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 1,200.45 پوائنٹس یا 0.79 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز  اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔ انڈیکس کے ہیوی ویٹ حصص جن میں سینرجی، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل اور نیشنل بینک  شامل ہیں مندی کے ساتھ  ریڈ زون میں ٹریڈ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ عید پر کیا گیا عارضی وقفہ ختم ہوگیا ہے اور افغانستان میں متعین اہداف کے خلاف فوجی آپریشنز دوبارہ شروع کردیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپیٹل نے جمعہ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مغربی سرحد پر کشیدگی میں یہ اضافہ امن کے پیامبر کے طور پر بننے والے تاثر کو کم کر رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو علاقائی سلامتی سے جڑے مستقل خطرات کی یاد دہانی کرا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں رہی جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور جاری عالمی غیر یقینی صورتحال نے تمام شعبوں میں بڑے پیمانے پر گراوٹ کو جنم دیا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 5,405.48 پوائنٹس یا 3.41 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ 152,907.97 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی عالمی مندی کی لپیٹ میں آگئیں اور وال اسٹریٹ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گراوٹ کا شکار ہوئیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کے طویل مدتی بحران کے خطرے نے قرض لینے کی لاگت میں شدید اضافہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے کچھ حد تک راحت محسوس کی ہے جس میں انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے کے الٹی میٹم میں مزید 10 دن کی توسیع کردی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی ابتدائی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن میں پانچ دن کا اضافہ کیا تھا۔ اس خبر کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 1 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 107.07 ڈالر فی بیرل پر آگئی جبکہ گزشتہ رات اس کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تیل کی قیمتوں میں ہونے والی یہ کمی معمولی رہی۔ ان رپورٹس نے کہ صدر ٹرمپ مزید فوجی دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، جنگ کے زمینی تنازع میں تبدیل ہونے کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں اس بات کا بھی کوئی یقین نہیں ہے کہ آیا آبنائے ہرمزکو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جلد دوبارہ کھولا جا سکے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے تنازع ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز کو یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں وال اسٹریٹ فیوچرز میں 0.2 فیصد کی معمولی بہتری دیکھی گئی۔ گزشتہ رات نیسڈیک کمپوزٹ میں 2.4 فیصد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جو کہ 29 اکتوبر کی ریکارڈ سطح سے تقریباً 11 فیصد کم ہے۔ اس بڑی گراوٹ نے تصدیق کردی ہے کہ نیسڈیک اس وقت سے کریکشن کے مرحلے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 1.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور یہ ہفتہ وار بنیادوں پر 3 فیصد کی گراوٹ کی جانب گامزن ہے۔ جاپان کا نکی انڈیکس 1.3 فیصد گر گیا، جس سے اس کی ہفتہ وار کمی 0.9 فیصد ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد اس کا ہفتہ وار نقصان حیران کن طور پر 8.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ چین کے بلیو چپ حصص میں 1 فیصد کی کمی ہوئی، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی اور روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 0.01 پیسے مستحکم ہوا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.17 کی سطح پر بند ہوئی، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹ کے آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم (والیم) پچھلے سیشن کے 521.63 ملین سے کم ہو کر 435.51 ملین شیئرز رہا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 27.14 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 23.99 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کے الیکٹرک لمیٹڈ 56.99 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی، جس کے بعد ایف نیٹ ایکویٹیز 27.18 ملین اور  ٹی پی ایل ریٹ فنڈ ون 19.73 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے روز مجموعی طور پر 478 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 126 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 287 میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 65 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/271744203bb8531.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/271744203bb8531.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100  انڈیکس میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>شام  ساڑھے 4  بجے مارکیٹ کا نمائندہ انڈیکس 151,707.51 کی سطح پر موجود تھا، جو کہ گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 1,200.45 پوائنٹس یا 0.79 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز  اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔ انڈیکس کے ہیوی ویٹ حصص جن میں سینرجی، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل اور نیشنل بینک  شامل ہیں مندی کے ساتھ  ریڈ زون میں ٹریڈ ہوئے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ عید پر کیا گیا عارضی وقفہ ختم ہوگیا ہے اور افغانستان میں متعین اہداف کے خلاف فوجی آپریشنز دوبارہ شروع کردیے گئے ہیں۔</p>
<p>بہتری کیپیٹل نے جمعہ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مغربی سرحد پر کشیدگی میں یہ اضافہ امن کے پیامبر کے طور پر بننے والے تاثر کو کم کر رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو علاقائی سلامتی سے جڑے مستقل خطرات کی یاد دہانی کرا رہا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں رہی جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور جاری عالمی غیر یقینی صورتحال نے تمام شعبوں میں بڑے پیمانے پر گراوٹ کو جنم دیا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 5,405.48 پوائنٹس یا 3.41 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ 152,907.97 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی عالمی مندی کی لپیٹ میں آگئیں اور وال اسٹریٹ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گراوٹ کا شکار ہوئیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کے طویل مدتی بحران کے خطرے نے قرض لینے کی لاگت میں شدید اضافہ کردیا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے کچھ حد تک راحت محسوس کی ہے جس میں انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے کے الٹی میٹم میں مزید 10 دن کی توسیع کردی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی ابتدائی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن میں پانچ دن کا اضافہ کیا تھا۔ اس خبر کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 1 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 107.07 ڈالر فی بیرل پر آگئی جبکہ گزشتہ رات اس کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم تیل کی قیمتوں میں ہونے والی یہ کمی معمولی رہی۔ ان رپورٹس نے کہ صدر ٹرمپ مزید فوجی دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، جنگ کے زمینی تنازع میں تبدیل ہونے کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں اس بات کا بھی کوئی یقین نہیں ہے کہ آیا آبنائے ہرمزکو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جلد دوبارہ کھولا جا سکے گا یا نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے تنازع ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز کو یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>ایشیا میں وال اسٹریٹ فیوچرز میں 0.2 فیصد کی معمولی بہتری دیکھی گئی۔ گزشتہ رات نیسڈیک کمپوزٹ میں 2.4 فیصد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جو کہ 29 اکتوبر کی ریکارڈ سطح سے تقریباً 11 فیصد کم ہے۔ اس بڑی گراوٹ نے تصدیق کردی ہے کہ نیسڈیک اس وقت سے کریکشن کے مرحلے میں ہے۔</p>
<p>جمعہ کو جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 1.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور یہ ہفتہ وار بنیادوں پر 3 فیصد کی گراوٹ کی جانب گامزن ہے۔ جاپان کا نکی انڈیکس 1.3 فیصد گر گیا، جس سے اس کی ہفتہ وار کمی 0.9 فیصد ہو گئی۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد اس کا ہفتہ وار نقصان حیران کن طور پر 8.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ چین کے بلیو چپ حصص میں 1 فیصد کی کمی ہوئی، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد گرگیا۔</p>
<p>کی سطح پر موجود تھا، جو کہ گزشتہ سیشن کے مقابلے میں 1,200.45 پوائنٹس یا 0.79 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز  اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔ انڈیکس کے ہیوی ویٹ حصص جن میں سینرجی، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل اور نیشنل بینک  شامل ہیں مندی کے ساتھ  ریڈ زون میں ٹریڈ ہوئے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ عید پر کیا گیا عارضی وقفہ ختم ہوگیا ہے اور افغانستان میں متعین اہداف کے خلاف فوجی آپریشنز دوبارہ شروع کردیے گئے ہیں۔</p>
<p>بہتری کیپیٹل نے جمعہ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مغربی سرحد پر کشیدگی میں یہ اضافہ امن کے پیامبر کے طور پر بننے والے تاثر کو کم کر رہا ہے اور سرمایہ کاروں کو علاقائی سلامتی سے جڑے مستقل خطرات کی یاد دہانی کرا رہا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں رہی جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور جاری عالمی غیر یقینی صورتحال نے تمام شعبوں میں بڑے پیمانے پر گراوٹ کو جنم دیا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 5,405.48 پوائنٹس یا 3.41 فیصد کی بڑی کمی کے ساتھ 152,907.97 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی عالمی مندی کی لپیٹ میں آگئیں اور وال اسٹریٹ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے گراوٹ کا شکار ہوئیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کے طویل مدتی بحران کے خطرے نے قرض لینے کی لاگت میں شدید اضافہ کردیا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے کچھ حد تک راحت محسوس کی ہے جس میں انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے کے الٹی میٹم میں مزید 10 دن کی توسیع کردی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اپنی ابتدائی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن میں پانچ دن کا اضافہ کیا تھا۔ اس خبر کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں 1 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 107.07 ڈالر فی بیرل پر آگئی جبکہ گزشتہ رات اس کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم تیل کی قیمتوں میں ہونے والی یہ کمی معمولی رہی۔ ان رپورٹس نے کہ صدر ٹرمپ مزید فوجی دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، جنگ کے زمینی تنازع میں تبدیل ہونے کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں اس بات کا بھی کوئی یقین نہیں ہے کہ آیا آبنائے ہرمزکو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جلد دوبارہ کھولا جا سکے گا یا نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے تنازع ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز کو یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>ایشیا میں وال اسٹریٹ فیوچرز میں 0.2 فیصد کی معمولی بہتری دیکھی گئی۔ گزشتہ رات نیسڈیک کمپوزٹ میں 2.4 فیصد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جو کہ 29 اکتوبر کی ریکارڈ سطح سے تقریباً 11 فیصد کم ہے۔ اس بڑی گراوٹ نے تصدیق کردی ہے کہ نیسڈیک اس وقت سے کریکشن کے مرحلے میں ہے۔</p>
<p>جمعہ کو جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 1.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور یہ ہفتہ وار بنیادوں پر 3 فیصد کی گراوٹ کی جانب گامزن ہے۔ جاپان کا نکی انڈیکس 1.3 فیصد گر گیا، جس سے اس کی ہفتہ وار کمی 0.9 فیصد ہو گئی۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد اس کا ہفتہ وار نقصان حیران کن طور پر 8.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ چین کے بلیو چپ حصص میں 1 فیصد کی کمی ہوئی، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد گرگیا۔</p>
<p>دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی اور روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 0.01 پیسے مستحکم ہوا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.17 کی سطح پر بند ہوئی، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹ کے آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم (والیم) پچھلے سیشن کے 521.63 ملین سے کم ہو کر 435.51 ملین شیئرز رہا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 27.14 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 23.99 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>مارکیٹ میں کے الیکٹرک لمیٹڈ 56.99 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی، جس کے بعد ایف نیٹ ایکویٹیز 27.18 ملین اور  ٹی پی ایل ریٹ فنڈ ون 19.73 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>جمعہ کے روز مجموعی طور پر 478 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 126 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 287 میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 65 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/271744203bb8531.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/271744203bb8531.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284317</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 18:40:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/27102813cb619cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/27102813cb619cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
