<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:25:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ تنازع: پاکستان کی خلیجی ممالک اور دیگر خطوں کے ساتھ تجارت متاثر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284315/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع کے باعث خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو پاکستان کی براہِ راست برآمدات میں 1.5 ارب ڈالر سے 2 ارب ڈالر تک کمی کا خدشہ ہے جب کہ درآمدات جن میں زیادہ تر توانائی (پٹرولیم و گیس) شامل ہے میں 3 ارب ڈالر تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس  نے اپنے حالیہ پالیسی ویو پوائنٹ میں جس کے مصنفین ماہرِ معاشیات پروفیسر ڈاکٹر سید حسنات شاہ اور ریسرچ اکانومسٹ واجد اسلام ہیں، یہ بیان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی اب محض ایک علاقائی سیاسی تنازع نہیں رہی بلکہ ایک عالمی معاشی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع نے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کردیا جس کی وجہ سے خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور دیگر خطوں کے ساتھ پاکستان کی براہِ راست اور بالواسطہ تجارت میں خلل پڑا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی مقامی پیداوار اور عالمی برآمدات کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں توانائی کی بھاری قیمتیں پاکستان کے درآمدی بل میں 4.5 ارب ڈالر تک کا اضافہ کرسکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے جاری کھاتوں کے خسارے اور بیرونی قرضوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کی صورتحال کو بھی مزید خراب کر سکتا ہے، کیونکہ برآمدی آمدن اور ترسیلاتِ زر میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ ایک بار پھر ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدی تجارت کی صورتحال پہلے ہی تناؤ کا شکار ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحدی تجارت کو مزید کم کر سکتی ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں کا مطلب دوہرے ہندسے کی مہنگائی کی واپسی بھی ہے جو مالی سال 2025  کے دوران حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ختم کر دے گی۔ ان خطرات کو کم کرنے اور توانائی کی مستحکم فراہمی برقرار رکھنے کے لیے  تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ کہ پاکستان کو تیل کی درآمدات کو بحیرہ احمر میں واقع ینبع  بندرگاہ کی طرف موڑ دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو تیل کی درآمدات میں تنوع لانے کی بھی ضرورت ہے اور اسے سی پیک 2.0 کو ایک مضبوط متبادل تجارتی منڈی کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کے لیے یہ اقدامات انتہائی اہم ہیں۔ یہ بحران تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پیداواری شعبے کے لیے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے جہاں بقا کا انحصار بیرونی معاونت کے بجائے مسابقت، جدت اور کارکردگی پر زیادہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم تجارتی راستوں کی بندش اور توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تنازع کو ایک عالمی معاشی بحران میں بدل دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے نہ صرف خلیجی خطے میں بین الاقوامی تجارت کو روک دیا ہے بلکہ توانائی کی عالمی سپلائی چین (رسد کے نظام) کو بھی درہم برہم کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران پاکستان جیسے دیگر ممالک کو منفی اور غیر متناسب طور پر متاثر کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو یہ ترقی پذیر ممالک کے بیرونی شعبے کے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع کے باعث خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو پاکستان کی براہِ راست برآمدات میں 1.5 ارب ڈالر سے 2 ارب ڈالر تک کمی کا خدشہ ہے جب کہ درآمدات جن میں زیادہ تر توانائی (پٹرولیم و گیس) شامل ہے میں 3 ارب ڈالر تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس  نے اپنے حالیہ پالیسی ویو پوائنٹ میں جس کے مصنفین ماہرِ معاشیات پروفیسر ڈاکٹر سید حسنات شاہ اور ریسرچ اکانومسٹ واجد اسلام ہیں، یہ بیان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی اب محض ایک علاقائی سیاسی تنازع نہیں رہی بلکہ ایک عالمی معاشی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔</p>
<p>اس تنازع نے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کردیا جس کی وجہ سے خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور دیگر خطوں کے ساتھ پاکستان کی براہِ راست اور بالواسطہ تجارت میں خلل پڑا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی مقامی پیداوار اور عالمی برآمدات کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں توانائی کی بھاری قیمتیں پاکستان کے درآمدی بل میں 4.5 ارب ڈالر تک کا اضافہ کرسکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے جاری کھاتوں کے خسارے اور بیرونی قرضوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یہ بحران پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کی صورتحال کو بھی مزید خراب کر سکتا ہے، کیونکہ برآمدی آمدن اور ترسیلاتِ زر میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ ایک بار پھر ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدی تجارت کی صورتحال پہلے ہی تناؤ کا شکار ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحدی تجارت کو مزید کم کر سکتی ہے۔ تیل کی بلند قیمتوں کا مطلب دوہرے ہندسے کی مہنگائی کی واپسی بھی ہے جو مالی سال 2025  کے دوران حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ختم کر دے گی۔ ان خطرات کو کم کرنے اور توانائی کی مستحکم فراہمی برقرار رکھنے کے لیے  تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ کہ پاکستان کو تیل کی درآمدات کو بحیرہ احمر میں واقع ینبع  بندرگاہ کی طرف موڑ دینا چاہیے۔</p>
<p>پاکستان کو تیل کی درآمدات میں تنوع لانے کی بھی ضرورت ہے اور اسے سی پیک 2.0 کو ایک مضبوط متبادل تجارتی منڈی کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کے لیے یہ اقدامات انتہائی اہم ہیں۔ یہ بحران تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پیداواری شعبے کے لیے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے جہاں بقا کا انحصار بیرونی معاونت کے بجائے مسابقت، جدت اور کارکردگی پر زیادہ ہوگا۔</p>
<p>اہم تجارتی راستوں کی بندش اور توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تنازع کو ایک عالمی معاشی بحران میں بدل دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے نہ صرف خلیجی خطے میں بین الاقوامی تجارت کو روک دیا ہے بلکہ توانائی کی عالمی سپلائی چین (رسد کے نظام) کو بھی درہم برہم کردیا ہے۔</p>
<p>یہ بحران پاکستان جیسے دیگر ممالک کو منفی اور غیر متناسب طور پر متاثر کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو یہ ترقی پذیر ممالک کے بیرونی شعبے کے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284315</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 10:13:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/2710121443b1811.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/2710121443b1811.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
