<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی بڑھتی قیمتیں کرنٹ اکاؤنٹ پر کیا اثر ڈالیں گی؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284300/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر پہنچا دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کے کمزور بیرونی کھاتے پر نئے خدشات جنم لے رہے ہیں، جبکہ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اگر تنازع جاری رہا تو صورتحال تیزی سے خراب ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ساختی کمزوریوں اور درآمدی ایندھن پر بھاری انحصار کے باعث پاکستان توانائی کے جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر کے ہیڈ آف ریسرچ علی خضر نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی توانائی سے جی ڈی پی کی کارکردگی خطے کے دیگر ممالک، بشمول بنگلہ دیش اور بھارت، کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس کی وجہ سے معیشت قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اہم صنعتیں، جیسے ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور کھاد، توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسی لیے پاکستان میں توانائی کی قیمتوں کے جھٹکے زیادہ شدید ہوتے ہیں کیونکہ ہم توانائی کے استعمال میں غیر مؤثر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی خضر نے بتایا کہ توانائی کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں پہلے ہی تقریباً 60 فیصد بڑھ چکی ہیں، اور خبردار کیا کہ موجودہ سطح پر اس مالی سال کے دوران پاکستان کا تیل درآمدی بل تقریباً 50 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اندازہ لگایا کہ تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے سے ملک کے سالانہ تیل کے بل میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ پر فوری دباؤ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان نے مقامی گیس کی پیداوار میں بہتری کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار کچھ کم کیا ہے، تاہم علی خضر نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اب بھی ماہانہ 3 سے 4 کارگو درکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں یہ کارگو نہ ملے تو ہماری معاشی نمو متاثر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی آمدن کے حوالے سے بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ علی خضر نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع ترسیلات زر کو 15 سے 20 فیصد تک کم کر سکتا ہے، کیونکہ اقتصادی غیر یقینی صورتحال بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کو متاثر کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر اس تنازع سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی ملازمتیں متاثر ہوئیں، جو ترسیلات زر کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، تو ترسیلات پر نمایاں اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق فروری 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر 3.3 ارب ڈالر رہیں، جبکہ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی ترسیلات 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کے حوالے سے  علی خضر نے کہا کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام پر انحصار اب بھی انتہائی اہم ہے، اور اس کی شرائط پوری کرنے کے لیے ممکنہ طور پر روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ بیرونی کھاتے کو مستحکم رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کے خدشات کا اظہار اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم درآمدات پاکستان کے کل درآمدی بل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہیں، جو معیشت کی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب تیل کی قیمت پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ حقیقت میں ظاہر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ 60 ڈالر فی بیرل کے قریب قیمتیں قابلِ برداشت ہوتی ہیں، مگر موجودہ اضافہ بیرونی توازن کو نمایاں طور پر کمزور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ حساسیت کے مطابق تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سالانہ تقریباً 1.8 سے 2 ارب ڈالر تک بڑھا دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ سطح پر مجموعی اثر تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ کر دیتی ہے، خاص طور پر اگر بلند قیمتیں برقرار رہیں اور تنازع کے باعث فریٹ لاگت اور سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی برقرار رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/261329560996069.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/261329560996069.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے فروری 2026 میں 427 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مجموعی بنیادوں پر جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران ملک کو 700 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد حنیف نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس بار ترسیلات زر ممکنہ طور پر وہی سہارا فراہم نہیں کر پائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی افرادی قوت کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ میں مقیم ہے، اس لیے طویل تنازع لیبر مارکیٹس کو متاثر کر سکتا ہے، ادائیگیوں میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے یا نئی بھرتیوں کی رفتار سست کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ترسیلات زر کی آمد کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ماضی کے تیل کی قیمتوں کے ادوار کے مقابلے میں ترسیلات زر بطور حفاظتی سہارا کم مؤثر ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں سعد حنیف نے کہا کہ اگرچہ آئی ایم ایف سے آنے والی رقوم اور دیگر کثیرالجہتی اداروں کی معاونت قلیل مدت میں لیکویڈیٹی فراہم کر سکتی ہے اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ بنیادی طور پر مالیاتی ضروریات پوری کرتی ہیں، نہ کہ ساختی عدم توازن کو ختم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فِچ ریٹنگز نے وسیع تر علاقائی خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایشیا پیسیفک معیشتیں، بشمول پاکستان، طویل تنازع کے باعث بڑھتے ہوئے منفی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی کے مطابق وہ ممالک جو خالص طور پر فوسل فیول کے بڑے درآمد کنندہ ہیں، جیسے بھارت، جنوبی کوریا، پاکستان، فلپائن، مالدیپ اور تھائی لینڈ، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور شپنگ میں رکاوٹوں کے برقرار رہنے کی صورت میں بیرونی توازن اور حقیقی آمدنی میں سب سے زیادہ بگاڑ کا سامنا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تیل درآمدات مشرق وسطیٰ سے آتی ہیں، جبکہ ملک کے پاس تیل کے ذخائر (اسٹریٹجک اور کمرشل) 30 دن سے بھی کم مدت کے لیے موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے، ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کا منظرنامہ تیزی سے خراب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد حنیف نے کہا کہ ایسی صورتحال میں جہاں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار رہے اور تیل کی قیمتیں بلند رہیں، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ دباؤ میں رہنے کا امکان ہے، جبکہ دونوں اہم سہارا دینے والے عوامل، یعنی ترسیلات زر اور بیرونی مالی معاونت، معمول کے مقابلے میں زیادہ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر پہنچا دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کے کمزور بیرونی کھاتے پر نئے خدشات جنم لے رہے ہیں، جبکہ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اگر تنازع جاری رہا تو صورتحال تیزی سے خراب ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ساختی کمزوریوں اور درآمدی ایندھن پر بھاری انحصار کے باعث پاکستان توانائی کے جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر کے ہیڈ آف ریسرچ علی خضر نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی توانائی سے جی ڈی پی کی کارکردگی خطے کے دیگر ممالک، بشمول بنگلہ دیش اور بھارت، کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس کی وجہ سے معیشت قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اہم صنعتیں، جیسے ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور کھاد، توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، جس سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسی لیے پاکستان میں توانائی کی قیمتوں کے جھٹکے زیادہ شدید ہوتے ہیں کیونکہ ہم توانائی کے استعمال میں غیر مؤثر ہیں۔</p>
<p>علی خضر نے بتایا کہ توانائی کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں پہلے ہی تقریباً 60 فیصد بڑھ چکی ہیں، اور خبردار کیا کہ موجودہ سطح پر اس مالی سال کے دوران پاکستان کا تیل درآمدی بل تقریباً 50 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اندازہ لگایا کہ تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے سے ملک کے سالانہ تیل کے بل میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ پر فوری دباؤ پڑتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان نے مقامی گیس کی پیداوار میں بہتری کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار کچھ کم کیا ہے، تاہم علی خضر نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اب بھی ماہانہ 3 سے 4 کارگو درکار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں یہ کارگو نہ ملے تو ہماری معاشی نمو متاثر ہوگی۔</p>
<p>بیرونی آمدن کے حوالے سے بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ علی خضر نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع ترسیلات زر کو 15 سے 20 فیصد تک کم کر سکتا ہے، کیونکہ اقتصادی غیر یقینی صورتحال بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کو متاثر کرے گی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر اس تنازع سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی ملازمتیں متاثر ہوئیں، جو ترسیلات زر کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، تو ترسیلات پر نمایاں اثر پڑے گا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق فروری 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر 3.3 ارب ڈالر رہیں، جبکہ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی ترسیلات 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>پالیسی کے حوالے سے  علی خضر نے کہا کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام پر انحصار اب بھی انتہائی اہم ہے، اور اس کی شرائط پوری کرنے کے لیے ممکنہ طور پر روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ بیرونی کھاتے کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p>اسی طرح کے خدشات کا اظہار اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم درآمدات پاکستان کے کل درآمدی بل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہیں، جو معیشت کی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب تیل کی قیمت پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ حقیقت میں ظاہر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ 60 ڈالر فی بیرل کے قریب قیمتیں قابلِ برداشت ہوتی ہیں، مگر موجودہ اضافہ بیرونی توازن کو نمایاں طور پر کمزور کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ حساسیت کے مطابق تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سالانہ تقریباً 1.8 سے 2 ارب ڈالر تک بڑھا دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ سطح پر مجموعی اثر تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ کر دیتی ہے، خاص طور پر اگر بلند قیمتیں برقرار رہیں اور تنازع کے باعث فریٹ لاگت اور سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی برقرار رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/261329560996069.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/261329560996069.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان نے فروری 2026 میں 427 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا۔</p>
<p>تاہم مجموعی بنیادوں پر جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران ملک کو 700 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا رہا۔</p>
<p>سعد حنیف نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس بار ترسیلات زر ممکنہ طور پر وہی سہارا فراہم نہیں کر پائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی افرادی قوت کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ میں مقیم ہے، اس لیے طویل تنازع لیبر مارکیٹس کو متاثر کر سکتا ہے، ادائیگیوں میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے یا نئی بھرتیوں کی رفتار سست کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ترسیلات زر کی آمد کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اس سے ماضی کے تیل کی قیمتوں کے ادوار کے مقابلے میں ترسیلات زر بطور حفاظتی سہارا کم مؤثر ہو جائیں گی۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں سعد حنیف نے کہا کہ اگرچہ آئی ایم ایف سے آنے والی رقوم اور دیگر کثیرالجہتی اداروں کی معاونت قلیل مدت میں لیکویڈیٹی فراہم کر سکتی ہے اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم یہ بنیادی طور پر مالیاتی ضروریات پوری کرتی ہیں، نہ کہ ساختی عدم توازن کو ختم کرتی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب فِچ ریٹنگز نے وسیع تر علاقائی خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایشیا پیسیفک معیشتیں، بشمول پاکستان، طویل تنازع کے باعث بڑھتے ہوئے منفی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی کے مطابق وہ ممالک جو خالص طور پر فوسل فیول کے بڑے درآمد کنندہ ہیں، جیسے بھارت، جنوبی کوریا، پاکستان، فلپائن، مالدیپ اور تھائی لینڈ، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور شپنگ میں رکاوٹوں کے برقرار رہنے کی صورت میں بیرونی توازن اور حقیقی آمدنی میں سب سے زیادہ بگاڑ کا سامنا کریں گے۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تیل درآمدات مشرق وسطیٰ سے آتی ہیں، جبکہ ملک کے پاس تیل کے ذخائر (اسٹریٹجک اور کمرشل) 30 دن سے بھی کم مدت کے لیے موجود ہیں۔</p>
<p>چونکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے، ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کا منظرنامہ تیزی سے خراب ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سعد حنیف نے کہا کہ ایسی صورتحال میں جہاں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار رہے اور تیل کی قیمتیں بلند رہیں، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ دباؤ میں رہنے کا امکان ہے، جبکہ دونوں اہم سہارا دینے والے عوامل، یعنی ترسیلات زر اور بیرونی مالی معاونت، معمول کے مقابلے میں زیادہ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284300</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Mar 2026 15:51:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/26154725a0af1f4.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1536">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/26154725a0af1f4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
