<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہباز شریف کی ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم کو امریکہ ایران ثالثی کوششوں پر بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284294/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملائیشین ہم منصب داتو سری انور ابراہیم کو حالیہ سفارتی کوششوں پر اعتماد میں لیا، جس میں امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے قائدین کے ساتھ ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی قیادت کے لیے تعاون کے مضبوط پیغام اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی زیرِ قیادت ثالثی کی کوششوں کی توثیق پر ملائیشین وزیراعظم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اعلامیے کے مطابق وزیراعظم انور ابراہیم نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہا اور انہیں مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی بات چیت سے بھی آگاہ کیا، جس میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ وزیراعظم ہاؤس کے مطابق انہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کے لیے ملائیشیا کے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ملائیشین وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی مخلصانہ اور حقیقی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیراعظم ہاؤس نے مزید بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وزیراعظم نے چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ سے ملاقات کی اور خطے میں استحکام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مثبت کردار پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے بڑھتے ہوئے بحران کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا بی نے میڈیا کے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے، جن میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ پاکستان علاقائی بحران کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کے اہم مقامات میں سے ایک بن کر ابھر سکتا ہے کہا کہ پاکستان کا نقطہ نظر بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اس کی دیرینہ پالیسی  پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد خطے میں استحکام کے لیے سفارتی روابط کو ہی واحد قابلِ عمل راستہ سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملائیشین ہم منصب داتو سری انور ابراہیم کو حالیہ سفارتی کوششوں پر اعتماد میں لیا، جس میں امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے قائدین کے ساتھ ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی قیادت کے لیے تعاون کے مضبوط پیغام اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی زیرِ قیادت ثالثی کی کوششوں کی توثیق پر ملائیشین وزیراعظم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>ایک اعلامیے کے مطابق وزیراعظم انور ابراہیم نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہا اور انہیں مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی بات چیت سے بھی آگاہ کیا، جس میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ وزیراعظم ہاؤس کے مطابق انہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کے لیے ملائیشیا کے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے ملائیشین وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی مخلصانہ اور حقیقی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیراعظم ہاؤس نے مزید بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>اس سے قبل وزیراعظم نے چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ سے ملاقات کی اور خطے میں استحکام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے مثبت کردار پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے بڑھتے ہوئے بحران کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا بی نے میڈیا کے ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے، جن میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ پاکستان علاقائی بحران کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کے اہم مقامات میں سے ایک بن کر ابھر سکتا ہے کہا کہ پاکستان کا نقطہ نظر بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اس کی دیرینہ پالیسی  پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد خطے میں استحکام کے لیے سفارتی روابط کو ہی واحد قابلِ عمل راستہ سمجھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284294</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Mar 2026 14:37:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/261330424b5eb72.webp" type="image/webp" medium="image" height="392" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/261330424b5eb72.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
