<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:24:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:24:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ابتدائی منفی ردعمل کے باوجود ایران کا امریکی تجویز پر غور جاری ہے، سینئر ایرانی اہلکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284271/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے خلیج میں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز پر ابتدائی طور پر منفی ردعمل ظاہر کیا تھا، لیکن بدھ کو رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ تہران اب بھی اس پر غور کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی سطح پر ایرانی عہدیدار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کے امکانات پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ تاہم، پاکستان کو باضابطہ جواب دینے میں تاخیر، جس نے واشنگٹن کی جانب سے 15 نکاتی منصوبہ ایران تک پہنچایا، یہ اشارہ دیتی ہے کہ تہران کے کچھ افراد اس پر سنجیدگی سے غور کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق اگرچہ ابتدائی ردعمل ”مثبت نہیں“ تھا، مگر یہ تجویز ابھی بھی زیرِ جائزہ ہے، جو ایران کے پریس ٹی وی کی اس رپورٹ سے متصادم معلوم ہوتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے اسے مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا اور اب بھی باضابطہ جواب کا انتظار ہے۔ دوسرے پاکستانی ذرائع کے مطابق ”ایرانیوں نے کہا ہے کہ وہ آج رات جواب دیں گے۔ میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ انہوں نے نہ کہا، لیکن ہمیں ایران سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ملی۔ سب کچھ زیرِ زمین ہے اور رابطہ مشکل ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سینئر ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی کہ تہران کو امریکی تجویز موصول ہو چکی ہے اور اگر مذاکرات ہوئے تو وہ پاکستان یا ترکی میں ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی 15 نکاتی منصوبے کی رپورٹ کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار تقریباً چار ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے سے پُرامید ہیں، جس میں ہزاروں ہلاک اور عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس نے امریکی تجویز ایران تک پہنچائی اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فالو اپ کیا، تاہم اب تک کوئی باضابطہ جواب یا مذاکرات کی تاریخ و مقام طے نہیں پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی کابینہ کے تین ذرائع کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کو امریکی منصوبے پر بریفنگ دی گئی، جس میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنا، افزودگی روکنا، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنا اور خطے کے اتحادیوں کی مالی معاونت ختم کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پینٹاگون خلیجی خطے میں مزید ہزاروں فضائی اہلکار بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ ٹرمپ کو زمینی کارروائی کے مزید آپشنز میسر ہوں۔ پہلے میرین دستے کے ایک بڑے ایمفیبیئس حملہ آور جہاز پر ماہ کے آخر تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی شرکت میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے اور ترکی بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم ایران نے اب تک کسی بھی مذاکرات کی عوامی تصدیق نہیں کی اور اس کی موقف کی سختی میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جوائنٹ ملٹری کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایرانی ریاستی ٹی وی پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”کیا آپ کی اندرونی جدوجہد کا مرحلہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ آپ اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟ ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہمارے جیسے لوگ آپ سے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ترجمان خارجہ اسماعیل بغائی نے بھارت میں ٹی وی پر کہا کہ نیوکلیئر مذاکرات پہلے ہی جاری تھے جب ٹرمپ نے حملہ کیا، جسے انہوں نے ”سفارتی دھوکہ“ قرار دیا اور کہا کہ مزید مذاکرات بے معنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ”ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہیں۔ کوئی بھی امریکی سفارتکاری پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کو شبہ ہے کہ ایران شرائط قبول کرے گا اور اس بات کا خدشہ ہے کہ امریکی مذاکرات کار کسی بھی مذاکرات میں رعایت دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے خلیج میں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی تجویز پر ابتدائی طور پر منفی ردعمل ظاہر کیا تھا، لیکن بدھ کو رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ تہران اب بھی اس پر غور کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔</strong></p>
<p>عوامی سطح پر ایرانی عہدیدار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کے امکانات پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ تاہم، پاکستان کو باضابطہ جواب دینے میں تاخیر، جس نے واشنگٹن کی جانب سے 15 نکاتی منصوبہ ایران تک پہنچایا، یہ اشارہ دیتی ہے کہ تہران کے کچھ افراد اس پر سنجیدگی سے غور کر سکتے ہیں۔</p>
<p>سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق اگرچہ ابتدائی ردعمل ”مثبت نہیں“ تھا، مگر یہ تجویز ابھی بھی زیرِ جائزہ ہے، جو ایران کے پریس ٹی وی کی اس رپورٹ سے متصادم معلوم ہوتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے اسے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>ایک سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا اور اب بھی باضابطہ جواب کا انتظار ہے۔ دوسرے پاکستانی ذرائع کے مطابق ”ایرانیوں نے کہا ہے کہ وہ آج رات جواب دیں گے۔ میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ انہوں نے نہ کہا، لیکن ہمیں ایران سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ملی۔ سب کچھ زیرِ زمین ہے اور رابطہ مشکل ہے۔“</p>
<p>ایک اور سینئر ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی کہ تہران کو امریکی تجویز موصول ہو چکی ہے اور اگر مذاکرات ہوئے تو وہ پاکستان یا ترکی میں ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>امریکی 15 نکاتی منصوبے کی رپورٹ کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار تقریباً چار ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے سے پُرامید ہیں، جس میں ہزاروں ہلاک اور عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس نے امریکی تجویز ایران تک پہنچائی اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے فالو اپ کیا، تاہم اب تک کوئی باضابطہ جواب یا مذاکرات کی تاریخ و مقام طے نہیں پایا۔</p>
<p>اسرائیلی کابینہ کے تین ذرائع کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کو امریکی منصوبے پر بریفنگ دی گئی، جس میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنا، افزودگی روکنا، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنا اور خطے کے اتحادیوں کی مالی معاونت ختم کرنا شامل ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پینٹاگون خلیجی خطے میں مزید ہزاروں فضائی اہلکار بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ ٹرمپ کو زمینی کارروائی کے مزید آپشنز میسر ہوں۔ پہلے میرین دستے کے ایک بڑے ایمفیبیئس حملہ آور جہاز پر ماہ کے آخر تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>پاکستان نے اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی شرکت میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے اور ترکی بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات پہنچانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم ایران نے اب تک کسی بھی مذاکرات کی عوامی تصدیق نہیں کی اور اس کی موقف کی سختی میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ایران کی جوائنٹ ملٹری کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایرانی ریاستی ٹی وی پر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”کیا آپ کی اندرونی جدوجہد کا مرحلہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ آپ اپنے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؟ ہم جیسے لوگ آپ جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہمارے جیسے لوگ آپ سے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔ نہ اب، نہ کبھی۔“</p>
<p>ایران کے ترجمان خارجہ اسماعیل بغائی نے بھارت میں ٹی وی پر کہا کہ نیوکلیئر مذاکرات پہلے ہی جاری تھے جب ٹرمپ نے حملہ کیا، جسے انہوں نے ”سفارتی دھوکہ“ قرار دیا اور کہا کہ مزید مذاکرات بے معنی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ”ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہیں۔ کوئی بھی امریکی سفارتکاری پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔“</p>
<p>ایک سینئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کو شبہ ہے کہ ایران شرائط قبول کرے گا اور اس بات کا خدشہ ہے کہ امریکی مذاکرات کار کسی بھی مذاکرات میں رعایت دے سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284271</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Mar 2026 15:09:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/2520195967307a7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/2520195967307a7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
