<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی وزیراعظم کی آئی ای اے سے مزید اضافی تیل جاری کرنے کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284261/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو تیل کے اسٹریٹجک ذخائر سے مزید تیل جاری کرنے کے لیے ادارہ تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات ٹوکیو میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے ایجنسی سے درخواست کی کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ طویل ہونے کی صورت میں اضافی تیل جاری کرنے کی تیاری کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماہ کے آغاز میں انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ رکن ممالک اپنے ذخائر سے مجموعی طور پر 400 ملین بیرل تیل جاری کریں گے تاکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی منڈیوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا مشترکہ تیل اجرا قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاتح بیرول کا کہنا تھا کہ ایجنسی کے پاس اب بھی وافر مقدار میں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ ان کے مطابق 400 ملین بیرل تیل مجموعی ذخائر کا صرف 20 فیصد ہے جبکہ 80 فیصد ذخائر اب بھی محفوظ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید تیل جاری کیا جا سکتا ہے، تاہم امید ہے کہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ بیرول کے مطابق دنیا اس وقت توانائی کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خطرات کا سامنا کر رہی ہے لیکن انٹرنیشنل انرجی ایجنسی عالمی توانائی کے تحفظ کے نگہبان کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 95 فیصد مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے۔ اسی لیے حکومت نے گزشتہ ہفتے نجی شعبے کے پٹرولیم ذخائر میں سے 15 دن کے برابر تیل جاری کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ جمعرات سے سرکاری ذخائر سے بھی تیل نکالنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ جاپان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے ساتھ مشترکہ تیل ذخائر بھی موجود ہیں جنہیں ہنگامی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو تیل کے اسٹریٹجک ذخائر سے مزید تیل جاری کرنے کے لیے ادارہ تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات ٹوکیو میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے ایجنسی سے درخواست کی کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ طویل ہونے کی صورت میں اضافی تیل جاری کرنے کی تیاری کی جائے۔</strong></p>
<p>اس ماہ کے آغاز میں انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ رکن ممالک اپنے ذخائر سے مجموعی طور پر 400 ملین بیرل تیل جاری کریں گے تاکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی منڈیوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا مشترکہ تیل اجرا قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>فاتح بیرول کا کہنا تھا کہ ایجنسی کے پاس اب بھی وافر مقدار میں تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ ان کے مطابق 400 ملین بیرل تیل مجموعی ذخائر کا صرف 20 فیصد ہے جبکہ 80 فیصد ذخائر اب بھی محفوظ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید تیل جاری کیا جا سکتا ہے، تاہم امید ہے کہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ بیرول کے مطابق دنیا اس وقت توانائی کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خطرات کا سامنا کر رہی ہے لیکن انٹرنیشنل انرجی ایجنسی عالمی توانائی کے تحفظ کے نگہبان کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>جاپان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 95 فیصد مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے۔ اسی لیے حکومت نے گزشتہ ہفتے نجی شعبے کے پٹرولیم ذخائر میں سے 15 دن کے برابر تیل جاری کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ جمعرات سے سرکاری ذخائر سے بھی تیل نکالنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ جاپان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے ساتھ مشترکہ تیل ذخائر بھی موجود ہیں جنہیں ہنگامی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284261</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 15:20:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/251517366202238.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/251517366202238.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
