<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران امن مذاکرات، پاکستان اہم ثالث کے طور پر ابھرنے لگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284257/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ مذاکرات کے میزبان کے طور پر پاکستان کا کردار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اس کی بڑھتی قربت اور پڑوسی ملک ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر ایک نسبتاً غیر جانبدار پلیئر کے طور پر اس کی شہرت کا مظہر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی عالمی شہرت کو ایسے عروج تک پہنچا سکتا ہے جو 1972 میں اس وقت حاصل نہیں ہوا جب پاکستان نے امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورہ چین کی راہ ہموار کرنے والے خفیہ سفارتی اقدامات میں ثالثی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصے پر محیط تعلقات کی مضبوطی کا ثمر ہوگا جس میں ہوشیار سفارت کاری اور کرپٹو ڈیلز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جو واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ براہ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے (ایک ایسے وقت میں جب اکثر دیگر ممالک کیلئے یہ راستے بند ہیں)، اس جنگ کے خاتمے سے براہ راست فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیائی ملک (پاکستان) ایران کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی شیعہ مسلم آبادی کا حامل ہے جہاں 28 فروری کو تنازع کے آغاز پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے اگلے روز ملک گیر احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ نگاروں اور سیکورٹی حکام کے مطابق ایران میں طویل مدتی جنگ کے اثرات پاکستان تک پھیلنے کا خطرہ اسلام آباد کے سب سے بڑے خدشات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جو کہ افغان طالبان کے ساتھ تنازع میں مصروف رہا ہے، اسے ایران جنگ کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی میں تعطل  کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے مڈل ایسٹ پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم وائنسٹائن نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان ایک ثالث کے طور پر غیر معمولی ساکھ رکھتا ہے کیونکہ اس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ قابلِ عمل تعلقات قائم ہیں جبکہ دونوں کے ساتھ ماضی کے تناؤ پر مبنی تعلقات اسے ایک ایسا فاصلہ فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے اسے ایک معتبر درمیانی کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر لیے ہیں۔ جنوری میں ڈیووس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہونے کے فوراً بعد پاکستان نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ٹرمپ خاندان سے منسلک ایک کرپٹو بزنس کے ساتھ سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ان کا USD1 اسٹیبل کوائن  استعمال کرنے کا معاہدہ کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے مندوب اسٹیو وٹکوف نے پاکستان کی قومی ایئر لائن کی ملکیت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِ نو تعمیر و ترقی کے معاہدے میں ثالثی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام کے پانچ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان اس تنازع کے آغاز سے ہی ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان کم از کم نصف درجن پیغامات کی ترسیل بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کی تصدیق سے قبل ایک پاکستانی اور ایک غیر ملکی ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام رواں ہفتے کے آخر تک اسلام آباد میں بات چیت کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی ونس، اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی ان مذاکرات میں شرکت متوقع ہے۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران وزیرِاعظم شہبازشریف اور پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ 30 سے زائد بات چیت کی ہے جن میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی نصف درجن گفتگو بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز دو اہم ملاقاتیں ہوئیں، یہ وہی دن تھا جب امریکہ نے تصدیق کی کہ ثالثی کی کوششیں جاری ہیں؛ یہ پیش رفت جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے ساتھ سامنے آئی ہے جس کی وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینئر ریذیڈنٹ فیلو کامران بخاری نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ-ایران مذاکرات کی میزبانی اسلام آباد کی اسٹریٹجک حیثیت میں ایک بڑے اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہاکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان مغربی ایشیا میں ایک بڑے امریکی اتحادی کے طور پر دوبارہ ابھر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تہران کے ساتھ تعلقات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامران بخاری کا کہنا ہے کہ ایران کے تمام پڑوسیوں میں پاکستان سب سے کم مخالف ملک ہے جبکہ اس کے اپنے تاریخی علاقائی حریف سعودی عرب کے ساتھ قریبی ترین تعلقات ہیں اور وہ واشنگٹن کا قابلِ اعتماد بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ذریعے ایران کے ساتھ ایک حساس سرحد کا حامل ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری شورش کا مرکز رہا ہے۔ جنوری 2024 میں دونوں پڑوسیوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئیں، تاہم اب تعلقات بحال ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اسے دیگر ممکنہ ثالثوں کے مقابلے میں زیادہ غیر جانبدار تصور کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائنسٹائن کا کہنا ہے کہ قطر جیسی خلیجی ریاستوں کے برعکس پاکستان میں امریکی فوجی اڈے نہیں ہیں اور وہ اپنی جگہ خود ایک فوجی طاقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے تاریخی ثالثی کے کردار پر بھی انحصار کر سکتا ہے - 1979 میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد سے واشنگٹن میں ایران کا غیر سرکاری سفارتی مشن پاکستانی سفارت خانے میں ہی قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کا ریاض کے ساتھ ستمبر میں طے پانے والا باہمی دفاعی معاہدہ جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہیں، موجودہ حساب کتاب میں کلیدی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی ایران میں امریکی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوئی اور تہران نے سعودی عرب پر حملہ کیا پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے ایران کو اس معاہدے کی یاد دہانی کرائی ہے اور وہ ایران کے ساتھ ثالثی کی کوشش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ مذاکرات کے میزبان کے طور پر پاکستان کا کردار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اس کی بڑھتی قربت اور پڑوسی ملک ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر ایک نسبتاً غیر جانبدار پلیئر کے طور پر اس کی شہرت کا مظہر ہے۔</strong></p>
<p>اگر یہ مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کی عالمی شہرت کو ایسے عروج تک پہنچا سکتا ہے جو 1972 میں اس وقت حاصل نہیں ہوا جب پاکستان نے امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورہ چین کی راہ ہموار کرنے والے خفیہ سفارتی اقدامات میں ثالثی کی تھی۔</p>
<p>یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصے پر محیط تعلقات کی مضبوطی کا ثمر ہوگا جس میں ہوشیار سفارت کاری اور کرپٹو ڈیلز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>پاکستان جو واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ براہ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے (ایک ایسے وقت میں جب اکثر دیگر ممالک کیلئے یہ راستے بند ہیں)، اس جنگ کے خاتمے سے براہ راست فائدہ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہوگا۔</p>
<p>جنوبی ایشیائی ملک (پاکستان) ایران کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی شیعہ مسلم آبادی کا حامل ہے جہاں 28 فروری کو تنازع کے آغاز پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے اگلے روز ملک گیر احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے۔</p>
<p>تجزیہ نگاروں اور سیکورٹی حکام کے مطابق ایران میں طویل مدتی جنگ کے اثرات پاکستان تک پھیلنے کا خطرہ اسلام آباد کے سب سے بڑے خدشات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>پاکستان جو کہ افغان طالبان کے ساتھ تنازع میں مصروف رہا ہے، اسے ایران جنگ کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی میں تعطل  کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے مڈل ایسٹ پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم وائنسٹائن نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان ایک ثالث کے طور پر غیر معمولی ساکھ رکھتا ہے کیونکہ اس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ قابلِ عمل تعلقات قائم ہیں جبکہ دونوں کے ساتھ ماضی کے تناؤ پر مبنی تعلقات اسے ایک ایسا فاصلہ فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے اسے ایک معتبر درمیانی کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p><strong>صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی</strong></p>
<p>پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر لیے ہیں۔ جنوری میں ڈیووس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے روانہ ہونے کے فوراً بعد پاکستان نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔</p>
<p>پاکستان نے ٹرمپ خاندان سے منسلک ایک کرپٹو بزنس کے ساتھ سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ان کا USD1 اسٹیبل کوائن  استعمال کرنے کا معاہدہ کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے مندوب اسٹیو وٹکوف نے پاکستان کی قومی ایئر لائن کی ملکیت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرِ نو تعمیر و ترقی کے معاہدے میں ثالثی کی ہے۔</p>
<p>پاکستانی حکام کے پانچ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان اس تنازع کے آغاز سے ہی ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان کم از کم نصف درجن پیغامات کی ترسیل بھی شامل ہے۔</p>
<p>منگل کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کی تصدیق سے قبل ایک پاکستانی اور ایک غیر ملکی ذرائع نے بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام رواں ہفتے کے آخر تک اسلام آباد میں بات چیت کرسکتے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی ونس، اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی ان مذاکرات میں شرکت متوقع ہے۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران وزیرِاعظم شہبازشریف اور پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ 30 سے زائد بات چیت کی ہے جن میں ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی نصف درجن گفتگو بھی شامل ہے۔</p>
<p>پیر کے روز دو اہم ملاقاتیں ہوئیں، یہ وہی دن تھا جب امریکہ نے تصدیق کی کہ ثالثی کی کوششیں جاری ہیں؛ یہ پیش رفت جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے ساتھ سامنے آئی ہے جس کی وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینئر ریذیڈنٹ فیلو کامران بخاری نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ-ایران مذاکرات کی میزبانی اسلام آباد کی اسٹریٹجک حیثیت میں ایک بڑے اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہاکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان مغربی ایشیا میں ایک بڑے امریکی اتحادی کے طور پر دوبارہ ابھر رہا ہے۔</p>
<p><strong>تہران کے ساتھ تعلقات</strong></p>
<p>کامران بخاری کا کہنا ہے کہ ایران کے تمام پڑوسیوں میں پاکستان سب سے کم مخالف ملک ہے جبکہ اس کے اپنے تاریخی علاقائی حریف سعودی عرب کے ساتھ قریبی ترین تعلقات ہیں اور وہ واشنگٹن کا قابلِ اعتماد بھی ہے۔</p>
<p>پاکستان اپنے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ذریعے ایران کے ساتھ ایک حساس سرحد کا حامل ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری شورش کا مرکز رہا ہے۔ جنوری 2024 میں دونوں پڑوسیوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئیں، تاہم اب تعلقات بحال ہوچکے ہیں۔</p>
<p>ایران اسے دیگر ممکنہ ثالثوں کے مقابلے میں زیادہ غیر جانبدار تصور کرسکتا ہے۔</p>
<p>وائنسٹائن کا کہنا ہے کہ قطر جیسی خلیجی ریاستوں کے برعکس پاکستان میں امریکی فوجی اڈے نہیں ہیں اور وہ اپنی جگہ خود ایک فوجی طاقت ہے۔</p>
<p>پاکستان اپنے تاریخی ثالثی کے کردار پر بھی انحصار کر سکتا ہے - 1979 میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد سے واشنگٹن میں ایران کا غیر سرکاری سفارتی مشن پاکستانی سفارت خانے میں ہی قائم ہے۔</p>
<p>اسلام آباد کا ریاض کے ساتھ ستمبر میں طے پانے والا باہمی دفاعی معاہدہ جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہیں، موجودہ حساب کتاب میں کلیدی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔</p>
<p>جیسے ہی ایران میں امریکی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوئی اور تہران نے سعودی عرب پر حملہ کیا پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے ایران کو اس معاہدے کی یاد دہانی کرائی ہے اور وہ ایران کے ساتھ ثالثی کی کوشش کررہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284257</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 12:51:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/251209571b88065.webp" type="image/webp" medium="image" height="1253" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/251209571b88065.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
