<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پروگرام کا جائزہ، آئی ایم ایف کے پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284246/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستانی حکام کے ساتھ اپنے جاری پروگرام کے اگلے جائزے کے لیے بات چیت کر رہا ہے، جس میں حالیہ اقتصادی رجحانات اور پاکستان کو درپیش ابھرتے ہوئے خطرات کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات آئی ایم ایف کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولی کوزاک نے واشنگٹن ڈی سی میں پریس بریفنگ میں کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی حالات میں تبدیلیاں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری بحران، ملک کے نازک اقتصادی منظرنامے پر اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولی کوزاک نے کہا کہ بات چیت میں وہ تمام عوامل زیر بحث آئیں گے جو پاکستان کی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، کھاد کی قیمتوں میں اضافہ، مالی حالات میں سختی اور ان سب کے مجموعی اثرات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹیم کی رپورٹ سنیں گے جب یہ بات چیت اپنے اختتام کو پہنچے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولی کوزاک نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف مشرق وسطیٰ کے تنازع کو خطے کے لیے نئے خطرات پیدا کرنے والا سمجھتا ہے، خاص طور پر اجناس کی قیمتوں کے حوالے سے، جیسے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، کھاد کی قیمتوں میں اضافہ اور خوراک کی ممکنہ مہنگائی۔ خطے کے کچھ ممالک درآمدات پر بہت زیادہ منحصر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان کے درآمدی اخراجات بڑھیں گے اور ادائیگی کے توازن پر دباؤ پڑے گا، جبکہ کچھ ممالک جو اجناس برآمد کرتے ہیں، انہیں زیادہ قیمتوں کی وجہ سے غیر ملکی زر مبادلہ میں فائدہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اب تک بڑے پیمانے پر رکاوٹیں سامنے آ چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز  بند ہونے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور بحری ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ خلیجی خطے اور ایران میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جس سے تیل اور گیس کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولی کوزاک نے تین بڑے خطرات کی نشاندہی کی:&lt;br&gt;1۔ اجناس کی قیمتوں پر اثرات اس بات پر منحصر ہیں کہ آبنائے ہرمز کب تک بند رہتی ہے اور خطے میں توانائی کی پیداوار کے بنیادی ڈھانچے کو کتنا نقصان پہنچا۔ کھاد کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے اور نقل و حمل میں رکاوٹیں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہیں۔&lt;br&gt;2۔ افراطِ زر اور افراطِ زر کی توقعات، جس پر مرکزی بینک نگاہ رکھیں گے۔ ہر 10 فیصد اضافے سے عالمی افراطِ زر میں تقریباً 40 بیسس پوائنٹس اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی پیداوار میں 0.1 سے 0.2 فیصد کمی آسکتی ہے۔&lt;br&gt;3۔ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں کمی اور بانڈ کی شرحیں بڑھ گئیں، جس سے ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولی کوزاک نے جی سی سی ممالک پر اثرات کے بارے میں کہا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق اقتصادی ترقی کمزور ہوگی اور مالی و خارجی عدم توازن متاثر ہوگا، اور یہ انحصار کرتا ہے کہ ملک کہاں واقع ہے اور برآمدات بحال کرنے کی صلاحیت کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی حالات اور مارکیٹس پر اثرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حصص مارکیٹ میں کمی اور جی سی سی ممالک میں بانڈ اسپریڈز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستانی حکام کے ساتھ اپنے جاری پروگرام کے اگلے جائزے کے لیے بات چیت کر رہا ہے، جس میں حالیہ اقتصادی رجحانات اور پاکستان کو درپیش ابھرتے ہوئے خطرات کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔</strong></p>
<p>یہ بات آئی ایم ایف کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولی کوزاک نے واشنگٹن ڈی سی میں پریس بریفنگ میں کہی۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی حالات میں تبدیلیاں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری بحران، ملک کے نازک اقتصادی منظرنامے پر اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>جولی کوزاک نے کہا کہ بات چیت میں وہ تمام عوامل زیر بحث آئیں گے جو پاکستان کی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، کھاد کی قیمتوں میں اضافہ، مالی حالات میں سختی اور ان سب کے مجموعی اثرات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹیم کی رپورٹ سنیں گے جب یہ بات چیت اپنے اختتام کو پہنچے گی۔</p>
<p>جولی کوزاک نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف مشرق وسطیٰ کے تنازع کو خطے کے لیے نئے خطرات پیدا کرنے والا سمجھتا ہے، خاص طور پر اجناس کی قیمتوں کے حوالے سے، جیسے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، کھاد کی قیمتوں میں اضافہ اور خوراک کی ممکنہ مہنگائی۔ خطے کے کچھ ممالک درآمدات پر بہت زیادہ منحصر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان کے درآمدی اخراجات بڑھیں گے اور ادائیگی کے توازن پر دباؤ پڑے گا، جبکہ کچھ ممالک جو اجناس برآمد کرتے ہیں، انہیں زیادہ قیمتوں کی وجہ سے غیر ملکی زر مبادلہ میں فائدہ ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اب تک بڑے پیمانے پر رکاوٹیں سامنے آ چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز  بند ہونے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور بحری ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ خلیجی خطے اور ایران میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جس سے تیل اور گیس کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>جولی کوزاک نے تین بڑے خطرات کی نشاندہی کی:<br>1۔ اجناس کی قیمتوں پر اثرات اس بات پر منحصر ہیں کہ آبنائے ہرمز کب تک بند رہتی ہے اور خطے میں توانائی کی پیداوار کے بنیادی ڈھانچے کو کتنا نقصان پہنچا۔ کھاد کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے اور نقل و حمل میں رکاوٹیں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہیں۔<br>2۔ افراطِ زر اور افراطِ زر کی توقعات، جس پر مرکزی بینک نگاہ رکھیں گے۔ ہر 10 فیصد اضافے سے عالمی افراطِ زر میں تقریباً 40 بیسس پوائنٹس اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی پیداوار میں 0.1 سے 0.2 فیصد کمی آسکتی ہے۔<br>3۔ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں کمی اور بانڈ کی شرحیں بڑھ گئیں، جس سے ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>جولی کوزاک نے جی سی سی ممالک پر اثرات کے بارے میں کہا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق اقتصادی ترقی کمزور ہوگی اور مالی و خارجی عدم توازن متاثر ہوگا، اور یہ انحصار کرتا ہے کہ ملک کہاں واقع ہے اور برآمدات بحال کرنے کی صلاحیت کیا ہے۔</p>
<p>مالی حالات اور مارکیٹس پر اثرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حصص مارکیٹ میں کمی اور جی سی سی ممالک میں بانڈ اسپریڈز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284246</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 10:26:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/25102409366880e.webp" type="image/webp" medium="image" height="905" width="1400">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/25102409366880e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
