<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی خصوصی ایلچی وٹکوف اسلام آباد میں ہیں؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284239/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں۔ یہ دعویٰ ایک امریکی خبر رساں ادارے ڈراپ سائٹ نے کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر تحقیقاتی صحافیوں ریان گریم، جیریمی اسکاہل اور ناؤسیکا رینر کے زیر انتظام اس ادارے نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے نمائندے ممکنہ طور پر اسی ہفتے اسلام آباد میں ملاقات کر سکتے ہیں تاکہ اس تنازع کے ممکنہ حل پر بات چیت کی جا سکے جو اس سال 28 فروری کو شروع ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ اور اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے میں سے کسی نے بھی باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ یہ شہر مذاکرات کی میزبانی کرے گا، اور نہ ہی مذاکرات کے انعقاد کے بارے میں کوئی باضابطہ معاملہ طے پایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر ایرانی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مذاکرات کا امکان بہت کم ہے، تاہم اسلام آباد ممکنہ طور پر ان مقامات میں شامل ہو سکتا ہے جہاں بات چیت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی وزارت خارجہ سے سرکاری تفصیلات کے منتظر ہیں، ابھی تک کچھ بھی باضابطہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے بارے میں گہرا عدم اعتماد موجود ہے کیونکہ ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی حملے کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران دو مرتبہ حملوں کے بعد اعتماد بالکل ختم ہو چکا ہے۔ دھمکی آمیز اور آمرانہ انداز میں بات کرنے کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ ایران امریکہ کی مذاکرات کی درخواست کو ایک اور دھوکہ سمجھتا ہے تاکہ کمزوریاں تلاش کر کے حملوں کو مزید بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیو وٹکوف کی اسلام آباد آمد کی خبروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجھے دوسری جانب کے وفد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے وفد کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اگر امریکہ اور ایران چاہیں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اگر فریقین چاہیں تو اسلام آباد ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پاکستان مسلسل خطے میں امن اور استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔ تاہم اس عہدیدار نے دارالحکومت میں اسٹیو وٹکوف کی موجودگی کی خبروں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اس خبر کی اشاعت تک تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈراپ سائٹ کے مطابق پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کو ممکنہ طور پر مرکزی مذاکرات کار کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، نہ کہ اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کو۔ جیرڈ کشنر  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ ایلچی ہیں جنہوں نے پہلے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی قیادت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق جے ڈی وینس ایران پر امریکی فضائی حملوں کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں اور انہوں نے اس تنازع پر عوامی سطح پر زیادہ تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ایرانی وفد کی قیادت کے لیے ممکنہ امیدوار ہیں، تاہم انہوں نے عوامی طور پر مذاکرات کی خبروں کو جعلی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ تہران کو واشنگٹن پر بالکل اعتماد نہیں ہے اور وہ اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کو مذاکرات کار کے طور پر قبول نہیں کرے گا، جبکہ جے ڈی وینس کو نسبتاً قابل قبول شخصیت سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی حملے روکنے کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت بہت مضبوط رہی ہے اور تقریباً تمام نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم اس نے کہا ہے کہ چند دوست ممالک واشنگٹن کے پیغامات تہران تک پہنچا رہے ہیں۔ ڈراپ سائٹ کے مطابق پاکستان، عمان، ترکی اور مصر جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں۔ یہ دعویٰ ایک امریکی خبر رساں ادارے ڈراپ سائٹ نے کیا ہے۔</strong></p>
<p>سینئر تحقیقاتی صحافیوں ریان گریم، جیریمی اسکاہل اور ناؤسیکا رینر کے زیر انتظام اس ادارے نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے نمائندے ممکنہ طور پر اسی ہفتے اسلام آباد میں ملاقات کر سکتے ہیں تاکہ اس تنازع کے ممکنہ حل پر بات چیت کی جا سکے جو اس سال 28 فروری کو شروع ہوا تھا۔</p>
<p>تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ اور اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے میں سے کسی نے بھی باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ یہ شہر مذاکرات کی میزبانی کرے گا، اور نہ ہی مذاکرات کے انعقاد کے بارے میں کوئی باضابطہ معاملہ طے پایا ہے۔</p>
<p>ایک سینئر ایرانی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مذاکرات کا امکان بہت کم ہے، تاہم اسلام آباد ممکنہ طور پر ان مقامات میں شامل ہو سکتا ہے جہاں بات چیت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی وزارت خارجہ سے سرکاری تفصیلات کے منتظر ہیں، ابھی تک کچھ بھی باضابطہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے بارے میں گہرا عدم اعتماد موجود ہے کیونکہ ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی حملے کیے گئے تھے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران دو مرتبہ حملوں کے بعد اعتماد بالکل ختم ہو چکا ہے۔ دھمکی آمیز اور آمرانہ انداز میں بات کرنے کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ ایران امریکہ کی مذاکرات کی درخواست کو ایک اور دھوکہ سمجھتا ہے تاکہ کمزوریاں تلاش کر کے حملوں کو مزید بڑھایا جا سکے۔</p>
<p>اسٹیو وٹکوف کی اسلام آباد آمد کی خبروں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجھے دوسری جانب کے وفد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے وفد کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اگر امریکہ اور ایران چاہیں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اگر فریقین چاہیں تو اسلام آباد ہمیشہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پاکستان مسلسل خطے میں امن اور استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔ تاہم اس عہدیدار نے دارالحکومت میں اسٹیو وٹکوف کی موجودگی کی خبروں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔</p>
<p>اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اس خبر کی اشاعت تک تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا تھا۔</p>
<p>ڈراپ سائٹ کے مطابق پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کو ممکنہ طور پر مرکزی مذاکرات کار کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، نہ کہ اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کو۔ جیرڈ کشنر  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ ایلچی ہیں جنہوں نے پہلے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی قیادت کی تھی۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق جے ڈی وینس ایران پر امریکی فضائی حملوں کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں اور انہوں نے اس تنازع پر عوامی سطح پر زیادہ تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ایرانی وفد کی قیادت کے لیے ممکنہ امیدوار ہیں، تاہم انہوں نے عوامی طور پر مذاکرات کی خبروں کو جعلی قرار دیا ہے۔</p>
<p>ایک ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ تہران کو واشنگٹن پر بالکل اعتماد نہیں ہے اور وہ اسٹیو وٹکوف یا جیرڈ کشنر کو مذاکرات کار کے طور پر قبول نہیں کرے گا، جبکہ جے ڈی وینس کو نسبتاً قابل قبول شخصیت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی حملے روکنے کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت بہت مضبوط رہی ہے اور تقریباً تمام نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، تاہم اس نے کہا ہے کہ چند دوست ممالک واشنگٹن کے پیغامات تہران تک پہنچا رہے ہیں۔ ڈراپ سائٹ کے مطابق پاکستان، عمان، ترکی اور مصر جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284239</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 09:15:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمدنوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/25091328da8b69d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/25091328da8b69d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
