<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نے ایران جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284238/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی اور حتمی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار اور اس اعزاز کا خواہاں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کا خیرمقدم اور مکمل حمایت کرتا ہے کیونکہ یہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے اس پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی ٹیگ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے اس پیغام کے چند ہی منٹ بعد صدر ٹرمپ نے اسے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگر امریکہ اور ایران اس پر متفق ہوں تو پاکستان جاری تنازع کے جامع حل کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے اور ان کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی میڈیا میں یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ آئندہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان ممکنہ براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک مقام کے طور پر زیر غور لایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارت کاری کے ذریعے کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی میڈیا کو خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مؤقف اپنی طویل المدتی پالیسی کے مطابق عالمی تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد خطے میں استحکام کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ممکنہ مذاکرات کے بارے میں خبروں پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی ثالثی ایک حساس عمل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری اور مذاکرات میں اکثر بعض معاملات کو رازداری کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے اور فیصلوں اور نتائج سے متعلق سرکاری اعلانات کا انتظار کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ فعال سفارتی روابط رکھنے کے باعث پاکستان کے کردار میں عالمی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے منگل کو متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فوری کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا جن میں تین پاکستانی شہری بھی شامل ہیں اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے عید کی مبارکباد کا تبادلہ بھی کیا اور رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور علاقائی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی اور حتمی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار اور اس اعزاز کا خواہاں ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کا خیرمقدم اور مکمل حمایت کرتا ہے کیونکہ یہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے اس پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی ٹیگ کیا۔</p>
<p>وزیراعظم کے اس پیغام کے چند ہی منٹ بعد صدر ٹرمپ نے اسے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کر دیا۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگر امریکہ اور ایران اس پر متفق ہوں تو پاکستان جاری تنازع کے جامع حل کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے اور ان کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی میڈیا میں یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ آئندہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کے درمیان ممکنہ براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک مقام کے طور پر زیر غور لایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں بڑھتے ہوئے بحران کے حل کے لیے سفارت کاری کے ذریعے کوششوں کے عزم کا اعادہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی میڈیا کو خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔</p>
<p>وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مؤقف اپنی طویل المدتی پالیسی کے مطابق عالمی تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد خطے میں استحکام کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ممکنہ مذاکرات کے بارے میں خبروں پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی ثالثی ایک حساس عمل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری اور مذاکرات میں اکثر بعض معاملات کو رازداری کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے اور فیصلوں اور نتائج سے متعلق سرکاری اعلانات کا انتظار کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ فعال سفارتی روابط رکھنے کے باعث پاکستان کے کردار میں عالمی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>ادھر دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے منگل کو متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فوری کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا جن میں تین پاکستانی شہری بھی شامل ہیں اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے عید کی مبارکباد کا تبادلہ بھی کیا اور رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور علاقائی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284238</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 09:05:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمدنوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/250902495338c69.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/250902495338c69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
