<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ، مشرق وسطیٰ میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی آمد متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284237/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے اور توقع ہے کہ امریکی فوج کی ایلیٹ 82ویں ایئربورن ڈویژن کے ہزاروں اہلکار خطے میں بھیجے جائیں گے۔ اس پیش رفت سے متعلق دو باخبر ذرائع نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں زیر غور ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی بات بھی کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز اس سے قبل 18 مارچ کو رپورٹ کر چکا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہزاروں اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے، جس سے ایسے عسکری آپشنز بھی شامل ہو سکتے ہیں جن میں ایرانی سرزمین کے اندر فوجی کارروائی کا امکان موجود ہو۔ اگر ایسا ہوا تو اس تنازع میں مزید شدت آ سکتی ہے، جو پہلے ہی چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ فوجی دستے امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں واقع فورٹ بریگ میں تعینات ہیں۔ تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں مشرق وسطیٰ کے کس مقام پر بھیجا جائے گا یا وہ کب خطے میں پہنچیں گے۔ امریکی فوج نے اس معاملے پر سوالات وائٹ ہاؤس کو بھیج دیے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ فوجی تعیناتی سے متعلق تمام اعلانات پینٹاگون کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ہمیشہ تمام عسکری آپشنز موجود ہوتے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق فی الحال ایران کے اندر براہ راست فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں ممکنہ مستقبل کی کارروائیوں کے لیے تیاری بڑھائی جا رہی ہے۔ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ پینٹاگون 3,000 سے 4,000 کے درمیان فوجیوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 20 مارچ کو رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ نے ہزاروں میرینز اور بحری اہلکاروں کو یو ایس ایس باکسر نامی ایمفیبیئس اسالٹ جہاز کے ذریعے مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اضافی نفری کی آمد سے قبل خطے میں تقریباً 50,000 امریکی فوجی پہلے ہی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایرانی بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی کو مؤخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے ہیں۔ تاہم ایران نے ان مذاکرات کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک امریکہ ایران کے اندر 9,000 اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 290 زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 255 اہلکار دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں جبکہ 10 بدستور شدید زخمی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق امریکی فوج ایران کے خلاف مختلف عسکری آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے جن میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سنبھالنا اور ممکنہ طور پر ایرانی ساحلی علاقوں پر فوج تعینات کرنا شامل ہے۔ اسی طرح ایران کے جزیرے خارگ پر بھی زمینی فوج بھیجنے کے امکانات زیر غور آئے ہیں، جو ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;82ویں ایئربورن ڈویژن دنیا کی تیز رفتار تعیناتی والی فورسز میں شمار ہوتی ہے جو حکم ملنے کے 18 گھنٹوں کے اندر کارروائی کے لیے روانہ ہو سکتی ہے اور پیراشوٹ حملوں میں مہارت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی زمینی فوج کے استعمال سے صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکی عوام میں ایران کے خلاف اس مہم کی حمایت محدود ہے اور ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے نئے تنازعات میں نہ الجھانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری ہونے والے رائٹرز اور ایپسوس کے سروے کے مطابق 35 فیصد امریکی شہری ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہیں، جو گزشتہ ہفتے 37 فیصد تھی، جبکہ 61 فیصد افراد ان حملوں کی مخالفت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے اور توقع ہے کہ امریکی فوج کی ایلیٹ 82ویں ایئربورن ڈویژن کے ہزاروں اہلکار خطے میں بھیجے جائیں گے۔ اس پیش رفت سے متعلق دو باخبر ذرائع نے منگل کو رائٹرز کو بتایا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں زیر غور ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی بات بھی کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>رائٹرز اس سے قبل 18 مارچ کو رپورٹ کر چکا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہزاروں اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے، جس سے ایسے عسکری آپشنز بھی شامل ہو سکتے ہیں جن میں ایرانی سرزمین کے اندر فوجی کارروائی کا امکان موجود ہو۔ اگر ایسا ہوا تو اس تنازع میں مزید شدت آ سکتی ہے، جو پہلے ہی چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ فوجی دستے امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں واقع فورٹ بریگ میں تعینات ہیں۔ تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں مشرق وسطیٰ کے کس مقام پر بھیجا جائے گا یا وہ کب خطے میں پہنچیں گے۔ امریکی فوج نے اس معاملے پر سوالات وائٹ ہاؤس کو بھیج دیے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ فوجی تعیناتی سے متعلق تمام اعلانات پینٹاگون کرے گا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ہمیشہ تمام عسکری آپشنز موجود ہوتے ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق فی الحال ایران کے اندر براہ راست فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں ممکنہ مستقبل کی کارروائیوں کے لیے تیاری بڑھائی جا رہی ہے۔ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ پینٹاگون 3,000 سے 4,000 کے درمیان فوجیوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل 20 مارچ کو رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ نے ہزاروں میرینز اور بحری اہلکاروں کو یو ایس ایس باکسر نامی ایمفیبیئس اسالٹ جہاز کے ذریعے مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اضافی نفری کی آمد سے قبل خطے میں تقریباً 50,000 امریکی فوجی پہلے ہی موجود تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایرانی بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی کو مؤخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت رہے ہیں۔ تاہم ایران نے ان مذاکرات کی تردید کی ہے۔</p>
<p>امریکی فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک امریکہ ایران کے اندر 9,000 اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 290 زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 255 اہلکار دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں جبکہ 10 بدستور شدید زخمی ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق امریکی فوج ایران کے خلاف مختلف عسکری آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے جن میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سنبھالنا اور ممکنہ طور پر ایرانی ساحلی علاقوں پر فوج تعینات کرنا شامل ہے۔ اسی طرح ایران کے جزیرے خارگ پر بھی زمینی فوج بھیجنے کے امکانات زیر غور آئے ہیں، جو ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے۔</p>
<p>82ویں ایئربورن ڈویژن دنیا کی تیز رفتار تعیناتی والی فورسز میں شمار ہوتی ہے جو حکم ملنے کے 18 گھنٹوں کے اندر کارروائی کے لیے روانہ ہو سکتی ہے اور پیراشوٹ حملوں میں مہارت رکھتی ہے۔</p>
<p>تاہم امریکی زمینی فوج کے استعمال سے صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکی عوام میں ایران کے خلاف اس مہم کی حمایت محدود ہے اور ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے نئے تنازعات میں نہ الجھانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔</p>
<p>منگل کو جاری ہونے والے رائٹرز اور ایپسوس کے سروے کے مطابق 35 فیصد امریکی شہری ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہیں، جو گزشتہ ہفتے 37 فیصد تھی، جبکہ 61 فیصد افراد ان حملوں کی مخالفت کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284237</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 14:51:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/251451399e334e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/251451399e334e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
