<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:45:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جرمن صدر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284231/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مئیر نے منگل کے روز کہا ہے کہ روایتی اتحادی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں گہری دراڑ آ چکی ہے اور ایران کے خلاف امریکا اسرائیل کی جنگ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جس طرح 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں تھا، ویسے ہی ”20 جنوری 2025 سے پہلے کی صورتحال کی طرف واپس نہیں جا سکتے“، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار وائٹ ہاؤس میں آمد ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن وزارتِ خارجہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ”دراڑ بہت گہری ہے اور امریکی طاقت کی سیاست پر اعتماد دنیا بھر میں ختم ہو چکا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ شٹائن مئیر کا کردار زیادہ تر رسمی ہے، لیکن ان کے الفاظ جرمنی میں اہمیت رکھتے ہیں، جو ایران پر جنگ کی سرکاری مذمت نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مئیر، جو سابق وزیرِ خارجہ بھی رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ”ہمارا خارجہ پالیسی اس لیے زیادہ مؤثر نہیں ہو جاتی کہ ہم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہ کہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران پر جنگ میرے خیال میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور کسی بھی صورت میں یہ دلیل کہ امریکہ پر فوری حملے کا جواز موجود ہے، قابل قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز نے ایران کی قیادت پر سخت تنقید کی اور کئی امریکی-اسرائیلی جنگی اہداف کی حمایت کی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر برلن سے پہلے مشورہ لیا جاتا تو وہ اس جنگ کی مخالفت کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرز نے بار بار کہا کہ جرمنی کا مقصد یہ ہے کہ ”ایران مستقبل میں کوئی خطرہ نہ بنے“، مگر واضح کیا کہ جرمنی اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شٹائن مئیر نے اس فوجی مہم کو سیاستدانوں کے لیے تباہ کن غلطی اور واقعی غیر ضروری جنگ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”حقیقت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں امریکی انتظامیہ کے ساتھ معاملات میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا اور اپنے بنیادی مفادات پر توجہ دینی چاہیے۔ مگر حقیقت پسندی یہ بھی کہتی ہے کہ ہمیں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ”امریکی حکومت کا عالمی نظریہ ہمارے سے مختلف ہے، جو قائم قوانین، شراکت داری یا حاصل شدہ اعتماد کی پرواہ نہیں کرتا۔ ہم اسے بدل نہیں سکتے، ہمیں صرف اس کے ساتھ نمٹنا ہے۔ مگر میرا یقین یہ ہے: ہمیں اس نظریے کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مئیر نے منگل کے روز کہا ہے کہ روایتی اتحادی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں گہری دراڑ آ چکی ہے اور ایران کے خلاف امریکا اسرائیل کی جنگ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ جس طرح 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں تھا، ویسے ہی ”20 جنوری 2025 سے پہلے کی صورتحال کی طرف واپس نہیں جا سکتے“، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار وائٹ ہاؤس میں آمد ہوئی ہے۔</p>
<p>جرمن وزارتِ خارجہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ”دراڑ بہت گہری ہے اور امریکی طاقت کی سیاست پر اعتماد دنیا بھر میں ختم ہو چکا ہے۔“</p>
<p>اگرچہ شٹائن مئیر کا کردار زیادہ تر رسمی ہے، لیکن ان کے الفاظ جرمنی میں اہمیت رکھتے ہیں، جو ایران پر جنگ کی سرکاری مذمت نہیں کر رہا۔</p>
<p>جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مئیر، جو سابق وزیرِ خارجہ بھی رہ چکے ہیں، نے کہا کہ ”ہمارا خارجہ پالیسی اس لیے زیادہ مؤثر نہیں ہو جاتی کہ ہم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہ کہیں۔“</p>
<p>انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران پر جنگ میرے خیال میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور کسی بھی صورت میں یہ دلیل کہ امریکہ پر فوری حملے کا جواز موجود ہے، قابل قبول نہیں۔</p>
<p>اگرچہ جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز نے ایران کی قیادت پر سخت تنقید کی اور کئی امریکی-اسرائیلی جنگی اہداف کی حمایت کی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر برلن سے پہلے مشورہ لیا جاتا تو وہ اس جنگ کی مخالفت کرتا۔</p>
<p>مرز نے بار بار کہا کہ جرمنی کا مقصد یہ ہے کہ ”ایران مستقبل میں کوئی خطرہ نہ بنے“، مگر واضح کیا کہ جرمنی اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا۔</p>
<p>شٹائن مئیر نے اس فوجی مہم کو سیاستدانوں کے لیے تباہ کن غلطی اور واقعی غیر ضروری جنگ قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”حقیقت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں امریکی انتظامیہ کے ساتھ معاملات میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا اور اپنے بنیادی مفادات پر توجہ دینی چاہیے۔ مگر حقیقت پسندی یہ بھی کہتی ہے کہ ہمیں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ”امریکی حکومت کا عالمی نظریہ ہمارے سے مختلف ہے، جو قائم قوانین، شراکت داری یا حاصل شدہ اعتماد کی پرواہ نہیں کرتا۔ ہم اسے بدل نہیں سکتے، ہمیں صرف اس کے ساتھ نمٹنا ہے۔ مگر میرا یقین یہ ہے: ہمیں اس نظریے کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284231</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 18:58:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/241841214ad0bc2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/241841214ad0bc2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
