<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>منفی جھٹکوں کے اثرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284228/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے 2019 کے بعد غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں منفی جھٹکوں کے اثرات کا سامنا کیا ہے۔ یہ جھٹکے یا تو عالمی نوعیت کے تھے جنہوں نے ہر ملک کو متاثر کیا، یا پھر مقامی نوعیت کے تھے جن کے اثرات صرف قومی معیشت تک محدود رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون کا مقصد ان منفی جھٹکوں کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا اور یہ سمجھنا ہے کہ پاکستان عمومی طور پر دیگر ترقی پذیر معیشتوں، خصوصاً جنوبی ایشیا کے ممالک کے مقابلے میں زیادہ کمزور کیوں رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سات برسوں میں پہلا عالمی جھٹکا 2020 کے ابتدائی مہینوں میں وبا کووڈ-19 کے پھیلاؤ کی صورت میں سامنے آیا۔ اس بیماری کی اتنی وسیع پیمانے پر موجودگی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ دوسرا عالمی جھٹکا فروری 2022 میں شروع ہوا جب روس نے یوکرین پر بھرپور حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمت تقریباً 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر جولائی 2022 تک 115 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ایک تیسرے عالمی جھٹکے کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے ساتھ اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا نتیجہ ہے۔ تیل و گیس کے ذخائر، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان، نیز آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے تعطل کے باعث صرف تین ہفتوں کے اندر تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنگ سے قبل برینٹ کروڈ کی قیمت 64 ڈالر فی بیرل تھی جو بڑھ کر 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تین بڑے عالمی جھٹکوں کے علاوہ، گزشتہ سات برسوں کے دوران پاکستان کے اندر بھی منفی جھٹکے سامنے آئے ہیں۔ پہلا جھٹکا 2022-23 کے بدترین سیلاب تھے، جن سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 30 ارب ڈالر لگایا گیا۔ حال ہی میں 2025-26 کے ابتدائی مہینوں میں بھی سیلاب آئے ہیں۔ مزید برآں، پاکستان میں حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عملی طور پر افغانستان کے ساتھ ایک جنگ جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے کووڈ-19 کے اثرات کا مقداری جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس انتہائی متعدی بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے لوگوں کے درمیان جسمانی میل جول کم کرنے کی غرض سے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے، جن میں کام کی جگہوں کی بندش بھی شامل تھی۔ ان پابندیوں کے باوجود ملک میں کورونا کے تقریباً 16 لاکھ کیسز اور 30,664 اموات رپورٹ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وبا کا بنیادی اثر جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر پڑا۔ چونکہ اس کا آغاز 2020 کے اوائل میں ہوا، اس لیے 2020 کے کیلنڈر سال میں شرحِ نمو میں تبدیلی کا تخمینہ 2019 کے مقابلے میں لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن طور پر معلوم ہوا کہ پاکستان میں شرحِ نمو میں کمی جنوبی ایشیا کی دیگر معیشتوں کے مقابلے میں کم رہی۔ بھارت میں شرحِ نمو گر کر منفی 5.8 فیصد تک آ گئی، جبکہ سری لنکا میں یہ منفی 4.6 فیصد رہی۔ پاکستان میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں 1.3 فیصد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔ بنگلہ دیش واحد ملک تھا جہاں شرحِ نمو مثبت 3.5 فیصد رہی، اگرچہ اس میں بھی 4.4 فیصد پوائنٹس کی کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں تیل کے درآمدی بل میں اضافے کے باعث بیلنس آف پیمنٹس اور مجموعی معیشت پر اثرات مختلف ممالک میں خاصے مختلف رہے۔ سری لنکا نے اپریل 2022 میں عملاً ڈیفالٹ کر دیا، جبکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 2022 کے اختتام تک کم ہو کر صرف 6 ارب ڈالر رہ گئے۔ خوش قسمتی سے پاکستان بروقت آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی فیسلٹی کے آغاز کے باعث ڈیفالٹ سے بچنے میں کامیاب رہا۔ 2021 اور 2022 کے درمیان پاکستان کا مجموعی درآمدی بل 36 فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔ سری لنکا اور پاکستان دونوں کی کرنسیوں کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی—پاکستان میں 37 فیصد سے زائد جبکہ سری لنکا میں 52 فیصد تک۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب 2022 کے اوائل میں شروع ہونے والے بڑے تیل کے جھٹکے کی طرف آتے ہیں، جو روس اور یوکرین، دو بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک—کے درمیان جنگ کے بعد سامنے آیا۔ اس جھٹکے کے اثرات کا انحصار اس وقت ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح پر تھا۔ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ذخائر بھارت کے پاس تھے، جو تقریباً 10 ماہ کی درآمدات کے برابر تھے۔ بنگلہ دیش کے پاس بھی کافی ذخائر موجود تھے، جو 6.3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔ اس کے برعکس سری لنکا اور پاکستان وہ دو ممالک تھے جہاں ذخائر نسبتاً کم تھے۔ پاکستان کے پاس تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ذخائر تھے، جبکہ سری لنکا کے پاس یہ صرف 1.6 ماہ کے برابر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مہنگائی کی شرح میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ سری لنکا میں 2022 میں مہنگائی 49.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پاکستان میں نسبتاً تاخیر سے اثرات ظاہر ہوئے اور 2023 میں یہ 30.8 فیصد تک جا پہنچی۔ دونوں ممالک میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو بھی منفی ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف عالمی اور قومی منفی جھٹکوں کے باعث 2018 کے بعد پاکستان میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2020 میں کووڈ-19 کے باعث یہ منفی 1.3 فیصد ہو گئی۔ بعد ازاں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سیلابوں کے نتیجے میں 2023 میں جی ڈی پی میں 0.4 فیصد کمی واقع ہوئی۔ درحقیقت 2019 سے 2025 کے دوران پاکستان کی اوسط سالانہ شرحِ نمو صرف 2.5 فیصد رہی، جو 1950 کی دہائی کے بعد کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس 2019 سے پہلے اوسط شرحِ نمو 4.8 فیصد رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018 کے بعد شرحِ نمو میں اس بڑی کمی کی وجہ صرف منفی جھٹکے ہی نہیں بلکہ مناسب پالیسی اقدامات اور اصلاحات نہ کرنے میں ناکامی بھی ہے، جس سے ان جھٹکوں کے اثرات کم کیے جا سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت دنیا ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قلت کی صورتحال سے دوچار ہے۔ تیل کی قیمت پہلے ہی 72 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، اور اگر تنازع جاری رہا تو اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار توانائی کی درآمدات میں کمی کے باعث جی ڈی پی پر اثرات زیادہ شدید ہونے کا امکان ہے۔ مہنگائی پر اثر کا انحصار روپے کی قدر میں تبدیلی، بنیادی اشیا و خدمات کی قلت کے باعث قیمتوں میں اضافے، اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں عمومی اضافے پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت نسبتاً بہتر زرمبادلہ کے ذخائر، یعنی 16 ارب ڈالر سے زائد موجود ہیں، اور ایک جاری آئی ایم ایف پروگرام کی معاونت بھی حاصل ہے۔ تاہم یہ صورتحال حکومت کی کارکردگی کا بھی امتحان ہوگی کہ وہ محدود مالی وسائل کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے جیسے منفی جھٹکے کو کس طرح سنبھالتی ہے۔ 2018 کے بعد سے پاکستان میں بے روزگاری اور غربت میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، لہٰذا مزید بگاڑ سے بچنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے 2019 کے بعد غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں منفی جھٹکوں کے اثرات کا سامنا کیا ہے۔ یہ جھٹکے یا تو عالمی نوعیت کے تھے جنہوں نے ہر ملک کو متاثر کیا، یا پھر مقامی نوعیت کے تھے جن کے اثرات صرف قومی معیشت تک محدود رہے۔</strong></p>
<p>اس مضمون کا مقصد ان منفی جھٹکوں کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا اور یہ سمجھنا ہے کہ پاکستان عمومی طور پر دیگر ترقی پذیر معیشتوں، خصوصاً جنوبی ایشیا کے ممالک کے مقابلے میں زیادہ کمزور کیوں رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ سات برسوں میں پہلا عالمی جھٹکا 2020 کے ابتدائی مہینوں میں وبا کووڈ-19 کے پھیلاؤ کی صورت میں سامنے آیا۔ اس بیماری کی اتنی وسیع پیمانے پر موجودگی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ دوسرا عالمی جھٹکا فروری 2022 میں شروع ہوا جب روس نے یوکرین پر بھرپور حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمت تقریباً 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر جولائی 2022 تک 115 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اب ایک تیسرے عالمی جھٹکے کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے ساتھ اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا نتیجہ ہے۔ تیل و گیس کے ذخائر، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان، نیز آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے تعطل کے باعث صرف تین ہفتوں کے اندر تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنگ سے قبل برینٹ کروڈ کی قیمت 64 ڈالر فی بیرل تھی جو بڑھ کر 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>ان تین بڑے عالمی جھٹکوں کے علاوہ، گزشتہ سات برسوں کے دوران پاکستان کے اندر بھی منفی جھٹکے سامنے آئے ہیں۔ پہلا جھٹکا 2022-23 کے بدترین سیلاب تھے، جن سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 30 ارب ڈالر لگایا گیا۔ حال ہی میں 2025-26 کے ابتدائی مہینوں میں بھی سیلاب آئے ہیں۔ مزید برآں، پاکستان میں حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عملی طور پر افغانستان کے ساتھ ایک جنگ جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>سب سے پہلے کووڈ-19 کے اثرات کا مقداری جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس انتہائی متعدی بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے لوگوں کے درمیان جسمانی میل جول کم کرنے کی غرض سے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے، جن میں کام کی جگہوں کی بندش بھی شامل تھی۔ ان پابندیوں کے باوجود ملک میں کورونا کے تقریباً 16 لاکھ کیسز اور 30,664 اموات رپورٹ ہوئیں۔</p>
<p>وبا کا بنیادی اثر جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر پڑا۔ چونکہ اس کا آغاز 2020 کے اوائل میں ہوا، اس لیے 2020 کے کیلنڈر سال میں شرحِ نمو میں تبدیلی کا تخمینہ 2019 کے مقابلے میں لگایا گیا۔</p>
<p>حیران کن طور پر معلوم ہوا کہ پاکستان میں شرحِ نمو میں کمی جنوبی ایشیا کی دیگر معیشتوں کے مقابلے میں کم رہی۔ بھارت میں شرحِ نمو گر کر منفی 5.8 فیصد تک آ گئی، جبکہ سری لنکا میں یہ منفی 4.6 فیصد رہی۔ پاکستان میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں 1.3 فیصد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔ بنگلہ دیش واحد ملک تھا جہاں شرحِ نمو مثبت 3.5 فیصد رہی، اگرچہ اس میں بھی 4.4 فیصد پوائنٹس کی کمی آئی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں تیل کے درآمدی بل میں اضافے کے باعث بیلنس آف پیمنٹس اور مجموعی معیشت پر اثرات مختلف ممالک میں خاصے مختلف رہے۔ سری لنکا نے اپریل 2022 میں عملاً ڈیفالٹ کر دیا، جبکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 2022 کے اختتام تک کم ہو کر صرف 6 ارب ڈالر رہ گئے۔ خوش قسمتی سے پاکستان بروقت آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی فیسلٹی کے آغاز کے باعث ڈیفالٹ سے بچنے میں کامیاب رہا۔ 2021 اور 2022 کے درمیان پاکستان کا مجموعی درآمدی بل 36 فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔ سری لنکا اور پاکستان دونوں کی کرنسیوں کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی—پاکستان میں 37 فیصد سے زائد جبکہ سری لنکا میں 52 فیصد تک۔</p>
<p>اب 2022 کے اوائل میں شروع ہونے والے بڑے تیل کے جھٹکے کی طرف آتے ہیں، جو روس اور یوکرین، دو بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک—کے درمیان جنگ کے بعد سامنے آیا۔ اس جھٹکے کے اثرات کا انحصار اس وقت ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح پر تھا۔ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ذخائر بھارت کے پاس تھے، جو تقریباً 10 ماہ کی درآمدات کے برابر تھے۔ بنگلہ دیش کے پاس بھی کافی ذخائر موجود تھے، جو 6.3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔ اس کے برعکس سری لنکا اور پاکستان وہ دو ممالک تھے جہاں ذخائر نسبتاً کم تھے۔ پاکستان کے پاس تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ذخائر تھے، جبکہ سری لنکا کے پاس یہ صرف 1.6 ماہ کے برابر تھے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مہنگائی کی شرح میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ سری لنکا میں 2022 میں مہنگائی 49.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پاکستان میں نسبتاً تاخیر سے اثرات ظاہر ہوئے اور 2023 میں یہ 30.8 فیصد تک جا پہنچی۔ دونوں ممالک میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو بھی منفی ہو گئی۔</p>
<p>مختلف عالمی اور قومی منفی جھٹکوں کے باعث 2018 کے بعد پاکستان میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ 2020 میں کووڈ-19 کے باعث یہ منفی 1.3 فیصد ہو گئی۔ بعد ازاں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سیلابوں کے نتیجے میں 2023 میں جی ڈی پی میں 0.4 فیصد کمی واقع ہوئی۔ درحقیقت 2019 سے 2025 کے دوران پاکستان کی اوسط سالانہ شرحِ نمو صرف 2.5 فیصد رہی، جو 1950 کی دہائی کے بعد کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس 2019 سے پہلے اوسط شرحِ نمو 4.8 فیصد رہی تھی۔</p>
<p>2018 کے بعد شرحِ نمو میں اس بڑی کمی کی وجہ صرف منفی جھٹکے ہی نہیں بلکہ مناسب پالیسی اقدامات اور اصلاحات نہ کرنے میں ناکامی بھی ہے، جس سے ان جھٹکوں کے اثرات کم کیے جا سکتے تھے۔</p>
<p>اس وقت دنیا ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قلت کی صورتحال سے دوچار ہے۔ تیل کی قیمت پہلے ہی 72 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، اور اگر تنازع جاری رہا تو اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>اس بار توانائی کی درآمدات میں کمی کے باعث جی ڈی پی پر اثرات زیادہ شدید ہونے کا امکان ہے۔ مہنگائی پر اثر کا انحصار روپے کی قدر میں تبدیلی، بنیادی اشیا و خدمات کی قلت کے باعث قیمتوں میں اضافے، اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں عمومی اضافے پر ہوگا۔</p>
<p>خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت نسبتاً بہتر زرمبادلہ کے ذخائر، یعنی 16 ارب ڈالر سے زائد موجود ہیں، اور ایک جاری آئی ایم ایف پروگرام کی معاونت بھی حاصل ہے۔ تاہم یہ صورتحال حکومت کی کارکردگی کا بھی امتحان ہوگی کہ وہ محدود مالی وسائل کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے جیسے منفی جھٹکے کو کس طرح سنبھالتی ہے۔ 2018 کے بعد سے پاکستان میں بے روزگاری اور غربت میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، لہٰذا مزید بگاڑ سے بچنا ضروری ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284228</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 17:11:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/2416491290fcf46.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/2416491290fcf46.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
