<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی وزیر نے توانائی تنصیبات پر حملوں کے خدشات کو کم اہم قرار دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284219/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیر توانائی عباس علی آبادی نے کہا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے ایران خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم کمزور ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس علی آبادی کا کہنا تھا کہ ایران میں بجلی کی پیداوار مختلف مقامات پر پھیلی ہوئی ہے، جو اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک یا صہیونی ریاست اسرائیل کے برعکس ایران میں بجلی کی پیداوار کسی ایک مقام پر مرکوز نہیں ہے، جہاں انفراسٹرکچر نسبتاً زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ایران بھر میں 150 سے زائد پاور پلانٹس کام کر رہے ہیں، جس کے باعث اگر کسی ایک مقام کو نشانہ بنایا جائے تو بھی پورے نظام کو شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر توانائی کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی اجازت نہ دی تو امریکہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر خام تیل گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے، تاہم ایران نے کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیر توانائی عباس علی آبادی نے کہا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے ایران خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم کمزور ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔</strong></p>
<p>عباس علی آبادی کا کہنا تھا کہ ایران میں بجلی کی پیداوار مختلف مقامات پر پھیلی ہوئی ہے، جو اسے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک یا صہیونی ریاست اسرائیل کے برعکس ایران میں بجلی کی پیداوار کسی ایک مقام پر مرکوز نہیں ہے، جہاں انفراسٹرکچر نسبتاً زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ایران بھر میں 150 سے زائد پاور پلانٹس کام کر رہے ہیں، جس کے باعث اگر کسی ایک مقام کو نشانہ بنایا جائے تو بھی پورے نظام کو شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔</p>
<p>ایرانی وزیر توانائی کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔</p>
<p>اس سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کی اجازت نہ دی تو امریکہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر خام تیل گزرتا ہے۔</p>
<p>پیر کے روز ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے، تاہم ایران نے کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284219</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 14:54:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/241451484b903a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/241451484b903a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
