<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او جی ڈی سی ایل نے حیدرآباد میں ہوریزونٹل کنویں سے تیل کی پیداوار شروع کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284217/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی سب سے بڑی تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل) نے صوبہ سندھ میں اپنے ایک توسیعی کنویں سے تیل کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ کمپنی نے منگل کو اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس اہم پیشرفت سے آگاہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے اپنے ترقیاتی کنویں پساخی-13  سے کامیابی کے ساتھ تیل کی پیداوار کا آغاز کر دیا ہے، جو کہ کلاسٹک ریزروائر میں پاکستان کا پہلا کامیاب  ہوریزونٹل  (افقی) تیل کا کنواں ہونے کے ناطے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ضلع حیدرآباد میں واقع اس کنویں سے روزانہ 460 بیرل تیل حاصل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اس کنویں کی کل گہرائی 2,966 میٹر ہے، جس میں 546 میٹر طویل ہوریزونٹل حصہ بھی شامل ہے۔ اس پیچیدہ عمل کے لیے جیو اسٹیئرنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جس کی مدد سے صرف 3 میٹر کے تنگ ڈرلنگ ونڈو کے اندر انتہائی درستگی کے ساتھ تیل کے ذخیرے (سویٹ اسپاٹ) کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ہوریزونٹل ڈیزائن کے مطابق تیار کردہ الیکٹرک سبمرسیبل پمپ (ای ایس پی) کی مدد سے کنویں کی جانچ اور تکمیل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ ذخائر کی مشکل نوعیت کے باوجود ہوریزونٹل ڈرلنگ کی بدولت اسی علاقے کے دیگر روایتی کنوؤں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔ پساخی-13  نامی یہ کنواں پساخی اور پساخی نارتھ لیز کا حصہ ہے، جہاں کمپنی 100 فیصد مالکانہ حقوق رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کامیابی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تکنیکی مہارت کے حوالے سے او جی ڈی سی ایل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جس سے ملک میں مقامی سطح پر ہائیڈرو کاربن کی پیداوار بڑھے گی اور پاکستان کی توانائی کی حفاظت مستحکم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ او جی ڈی سی ایل پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش کا سب سے وسیع رقبہ (40 فیصد سے زائد) رکھتی ہے اور اس میں حکومتِ پاکستان 67 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی سب سے بڑی تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل) نے صوبہ سندھ میں اپنے ایک توسیعی کنویں سے تیل کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ کمپنی نے منگل کو اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس اہم پیشرفت سے آگاہ کیا۔</strong></p>
<p>نوٹس کے مطابق او جی ڈی سی ایل نے اپنے ترقیاتی کنویں پساخی-13  سے کامیابی کے ساتھ تیل کی پیداوار کا آغاز کر دیا ہے، جو کہ کلاسٹک ریزروائر میں پاکستان کا پہلا کامیاب  ہوریزونٹل  (افقی) تیل کا کنواں ہونے کے ناطے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ضلع حیدرآباد میں واقع اس کنویں سے روزانہ 460 بیرل تیل حاصل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق اس کنویں کی کل گہرائی 2,966 میٹر ہے، جس میں 546 میٹر طویل ہوریزونٹل حصہ بھی شامل ہے۔ اس پیچیدہ عمل کے لیے جیو اسٹیئرنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جس کی مدد سے صرف 3 میٹر کے تنگ ڈرلنگ ونڈو کے اندر انتہائی درستگی کے ساتھ تیل کے ذخیرے (سویٹ اسپاٹ) کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>مزید برآں ہوریزونٹل ڈیزائن کے مطابق تیار کردہ الیکٹرک سبمرسیبل پمپ (ای ایس پی) کی مدد سے کنویں کی جانچ اور تکمیل کی گئی۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ ذخائر کی مشکل نوعیت کے باوجود ہوریزونٹل ڈرلنگ کی بدولت اسی علاقے کے دیگر روایتی کنوؤں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔ پساخی-13  نامی یہ کنواں پساخی اور پساخی نارتھ لیز کا حصہ ہے، جہاں کمپنی 100 فیصد مالکانہ حقوق رکھتی ہے۔</p>
<p>یہ کامیابی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تکنیکی مہارت کے حوالے سے او جی ڈی سی ایل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جس سے ملک میں مقامی سطح پر ہائیڈرو کاربن کی پیداوار بڑھے گی اور پاکستان کی توانائی کی حفاظت مستحکم ہوگی۔</p>
<p>واضح رہے کہ او جی ڈی سی ایل پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش کا سب سے وسیع رقبہ (40 فیصد سے زائد) رکھتی ہے اور اس میں حکومتِ پاکستان 67 فیصد حصص کے ساتھ سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284217</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 14:18:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/24140825ce0077c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/24140825ce0077c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
