<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:46:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایل ایس ایم گروتھ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284212/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کے انڈیکس میں جولائی تا جنوری 2026 گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جنوری 2025 کے مقابلے میں جنوری 2026 کی پیداوار 10.54 فیصد بڑھی جبکہ دسمبر 2025 کے مقابلے میں اس میں 12.08 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس ترقی میں سب سے بڑا حصہ آٹوموبائل (گاڑیوں) کے شعبے کا رہا جس کی شرحِ نمو جولائی تا جنوری 2024-25 کے مقابلے میں 67.31 فیصد اور دسمبر 2025 کے مقابلے میں 67.38 فیصد رہی۔ اس کی بنیادی وجہ شرحِ سود اور مہنگائی میں کمی ہے جس نے طلب میں اضافہ کیا (جنوری 2026 میں دسمبر 2025 کے مقابلے میں 35.5 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 43 فیصد اضافہ) اور فروخت کو فروغ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے فروری 2026 تک کی پیداوار اور فروخت کے اعداد و شمار اپ لوڈ کردیے ہیں، (انوینٹریز کو نکال کر) یہ دونوں اعداد و شمار ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ جولائی تا فروری 2025 کے دوران فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 32,931 تھی جبکہ رواں سال اسی عرصے میں یہ 42,214 رہی۔ اس میں 1300 سی سی  یا اس سے زائد کی گاڑیوں میں 69 فیصد اضافہ، 1000 سی سی  کی گاڑیوں میں 0.54 فیصد کی معمولی کمی اور 1000 سی سی سے کم کی گاڑیوں میں 28 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کی فروخت میں 45.5 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جنوری میں عروج پر پہنچنے کے بعد فروری میں پیداوار اور فروخت میں کمی کا رجحان شروع ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گاڑیوں کی فروخت صرف نجی شعبے تک محدود نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے پاس تقریباً 650,000 گاڑیاں ہیں جو مبینہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا سویلین بیڑا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی اور مقامی حکومتیں پولیس، فائر سروسز، پبلک ورکس اور یوٹیلیٹیز سمیت لاکھوں مزید گاڑیاں چلا رہی ہیں۔ ان اعداد و شمار میں سرکاری فروخت اور نجی شعبے کی خریداری کے درمیان فرق واضح نہیں کیا گیا۔ تاہم، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکومتِ پنجاب نے وی آئی پی استعمال کے لیے 523.5 ملین روپے کی لاگت سے نئی گاڑیوں (20 ٹویوٹا فارچیونرز اور 12 ٹویوٹا ہائ لکس) کی خریداری کی منظوری دی۔ اسی طرح سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز سمیت بیوروکریٹس کے لیے گاڑیوں کی خریداری کی مد میں 2 ارب روپے، خیبر پختونخوا حکومت نے ہائی کورٹ کے ججوں کے لیے دو گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی، جبکہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو 9 کروڑ روپے مالیت کی درآمدی لگژری گاڑی فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ترقی میں دوسرا بڑا حصہ پٹرولیم سیکٹر کا رہا جس میں 11.71 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اس کے بعد سیمنٹ سیکٹر میں 11.49 فیصد اور گارمنٹس (ملبوسات) کے شعبے میں 8.02 فیصد کی شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی۔ یہاں دو اہم مشاہدات قابلِ ذکر ہیں۔ اول پٹرولیم سیکٹر میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث جنوری میں صارفین کو دیے گئے ریلیف کی وجہ سے ہوا (جس کا امکان اس ماہ کم ہے)۔ دوم گارمنٹس اور دیگر برآمدی شعبے اب بھی علاقائی ممالک کے مقابلے میں بجلی، گیس اور پالیسی ریٹ کی بلند شرح کی وجہ سے زیادہ لاگت کا شکوہ کررہے ہیں۔ مقامی سطح پر سیمنٹ کی کھپت میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا جب کہ برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 61 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تاہم افغانستان کی مارکیٹ معطل ہونے کے باعث برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ایم کی نمو کے اعداد و شمار کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ اس نمایاں اضافے کے ساتھ روزگار کے مواقع میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ حکومت نے نومبر 2025 تک دستیاب اعدادوشمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح میں 7.1 فیصد تک اضافے کا اعتراف کیا ہے جبکہ آزاد ماہرینِ معیشت ہاؤسنگ مردم شماری  کی بنیاد پر یہ شرح 22 فیصد بتاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری اہم بات یہ ہے کہ پیداواری شعبوں نے موجودہ معاشی ماحول پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جو ترقی کے لیے سازگار نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کی سخت پیشگی شرائط کے نتیجے میں نافذ العمل شدید سکڑاؤ پر مبنی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں ہیں۔ پاکستان اب بھی ڈیفالٹ کے اس منڈلاتے ہوئے سائے سے باہر نہیں نکل سکا ہے جو کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری پروگرام کی معطلی کی صورت میں حقیقت بن سکتا ہے۔ تین دوست ممالک نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پروگرام معطل ہونے کی صورت میں 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی تجدید نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت اعداد و شمار کو مزید مکمل (انوینٹریز کی واضح نشاندہی کے ساتھ) اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) کے انڈیکس میں جولائی تا جنوری 2026 گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جنوری 2025 کے مقابلے میں جنوری 2026 کی پیداوار 10.54 فیصد بڑھی جبکہ دسمبر 2025 کے مقابلے میں اس میں 12.08 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس ترقی میں سب سے بڑا حصہ آٹوموبائل (گاڑیوں) کے شعبے کا رہا جس کی شرحِ نمو جولائی تا جنوری 2024-25 کے مقابلے میں 67.31 فیصد اور دسمبر 2025 کے مقابلے میں 67.38 فیصد رہی۔ اس کی بنیادی وجہ شرحِ سود اور مہنگائی میں کمی ہے جس نے طلب میں اضافہ کیا (جنوری 2026 میں دسمبر 2025 کے مقابلے میں 35.5 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 43 فیصد اضافہ) اور فروخت کو فروغ دیا۔</strong></p>
<p>پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے فروری 2026 تک کی پیداوار اور فروخت کے اعداد و شمار اپ لوڈ کردیے ہیں، (انوینٹریز کو نکال کر) یہ دونوں اعداد و شمار ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ جولائی تا فروری 2025 کے دوران فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 32,931 تھی جبکہ رواں سال اسی عرصے میں یہ 42,214 رہی۔ اس میں 1300 سی سی  یا اس سے زائد کی گاڑیوں میں 69 فیصد اضافہ، 1000 سی سی  کی گاڑیوں میں 0.54 فیصد کی معمولی کمی اور 1000 سی سی سے کم کی گاڑیوں میں 28 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کی فروخت میں 45.5 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جنوری میں عروج پر پہنچنے کے بعد فروری میں پیداوار اور فروخت میں کمی کا رجحان شروع ہوگیا ہے۔</p>
<p>گاڑیوں کی فروخت صرف نجی شعبے تک محدود نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے پاس تقریباً 650,000 گاڑیاں ہیں جو مبینہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا سویلین بیڑا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی اور مقامی حکومتیں پولیس، فائر سروسز، پبلک ورکس اور یوٹیلیٹیز سمیت لاکھوں مزید گاڑیاں چلا رہی ہیں۔ ان اعداد و شمار میں سرکاری فروخت اور نجی شعبے کی خریداری کے درمیان فرق واضح نہیں کیا گیا۔ تاہم، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکومتِ پنجاب نے وی آئی پی استعمال کے لیے 523.5 ملین روپے کی لاگت سے نئی گاڑیوں (20 ٹویوٹا فارچیونرز اور 12 ٹویوٹا ہائ لکس) کی خریداری کی منظوری دی۔ اسی طرح سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز سمیت بیوروکریٹس کے لیے گاڑیوں کی خریداری کی مد میں 2 ارب روپے، خیبر پختونخوا حکومت نے ہائی کورٹ کے ججوں کے لیے دو گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی، جبکہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو 9 کروڑ روپے مالیت کی درآمدی لگژری گاڑی فراہم کی گئی۔</p>
<p>صنعتی ترقی میں دوسرا بڑا حصہ پٹرولیم سیکٹر کا رہا جس میں 11.71 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اس کے بعد سیمنٹ سیکٹر میں 11.49 فیصد اور گارمنٹس (ملبوسات) کے شعبے میں 8.02 فیصد کی شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی۔ یہاں دو اہم مشاہدات قابلِ ذکر ہیں۔ اول پٹرولیم سیکٹر میں یہ اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث جنوری میں صارفین کو دیے گئے ریلیف کی وجہ سے ہوا (جس کا امکان اس ماہ کم ہے)۔ دوم گارمنٹس اور دیگر برآمدی شعبے اب بھی علاقائی ممالک کے مقابلے میں بجلی، گیس اور پالیسی ریٹ کی بلند شرح کی وجہ سے زیادہ لاگت کا شکوہ کررہے ہیں۔ مقامی سطح پر سیمنٹ کی کھپت میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا جب کہ برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 61 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تاہم افغانستان کی مارکیٹ معطل ہونے کے باعث برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ایل ایس ایم کی نمو کے اعداد و شمار کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ اس نمایاں اضافے کے ساتھ روزگار کے مواقع میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ حکومت نے نومبر 2025 تک دستیاب اعدادوشمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح میں 7.1 فیصد تک اضافے کا اعتراف کیا ہے جبکہ آزاد ماہرینِ معیشت ہاؤسنگ مردم شماری  کی بنیاد پر یہ شرح 22 فیصد بتاتے ہیں۔</p>
<p>دوسری اہم بات یہ ہے کہ پیداواری شعبوں نے موجودہ معاشی ماحول پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جو ترقی کے لیے سازگار نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کی سخت پیشگی شرائط کے نتیجے میں نافذ العمل شدید سکڑاؤ پر مبنی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں ہیں۔ پاکستان اب بھی ڈیفالٹ کے اس منڈلاتے ہوئے سائے سے باہر نہیں نکل سکا ہے جو کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری پروگرام کی معطلی کی صورت میں حقیقت بن سکتا ہے۔ تین دوست ممالک نے بھی اشارہ دیا ہے کہ پروگرام معطل ہونے کی صورت میں 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی تجدید نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>آخر میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت اعداد و شمار کو مزید مکمل (انوینٹریز کی واضح نشاندہی کے ساتھ) اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284212</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 12:11:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/24114828c9b6610.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/24114828c9b6610.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
