<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران پر حملے جاری رکھے گا، توانائی مقامات کو استثنیٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284210/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیمافور کے مطابق، امریکہ ایران پر اپنے حملے جاری رکھے گا تاہم اس عارضی جنگ بندی کا اطلاق صرف تہران کے توانائی کے مقامات پر ہوگا، جبکہ دیگر فوجی اہداف پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہ بیان ایک امریکی اہلکار نے دیا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نامعلوم ایرانی حکام کے ساتھ  مذاکرات کا حوالہ دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز، ٹرمپ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملے کا منصوبہ پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا تھا۔ ایران نے بعد ازاں واضح کیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اہلکار نے سیمافور کو بتایا کہ یہ پانچ دن کا وقفہ صرف توانائی کے مقامات تک محدود ہے۔ فوجی مقامات، بحریہ، بیلسٹک میزائل اور دفاعی صنعتی مراکز پر حملے جاری رہیں گے۔ ابتدائی اقدامات، جنہیں آپریشن ایپک فیوری کہا گیا ہے، جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔ وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون نے معمول کے اوقات کے باہر اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمافور نے مزید بتایا کہ واشنگٹن کے مذاکرات میں اسرائیل شریک نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیمافور کے مطابق، امریکہ ایران پر اپنے حملے جاری رکھے گا تاہم اس عارضی جنگ بندی کا اطلاق صرف تہران کے توانائی کے مقامات پر ہوگا، جبکہ دیگر فوجی اہداف پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہ بیان ایک امریکی اہلکار نے دیا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نامعلوم ایرانی حکام کے ساتھ  مذاکرات کا حوالہ دیا۔</strong></p>
<p>پیر کے روز، ٹرمپ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملے کا منصوبہ پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا تھا۔ ایران نے بعد ازاں واضح کیا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لیا۔</p>
<p>امریکی اہلکار نے سیمافور کو بتایا کہ یہ پانچ دن کا وقفہ صرف توانائی کے مقامات تک محدود ہے۔ فوجی مقامات، بحریہ، بیلسٹک میزائل اور دفاعی صنعتی مراکز پر حملے جاری رہیں گے۔ ابتدائی اقدامات، جنہیں آپریشن ایپک فیوری کہا گیا ہے، جاری رہیں گے۔</p>
<p>رائٹرز نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔ وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون نے معمول کے اوقات کے باہر اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>سیمافور نے مزید بتایا کہ واشنگٹن کے مذاکرات میں اسرائیل شریک نہیں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284210</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 12:02:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/241159223e1b4da.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/241159223e1b4da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
