<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں تناؤ کم ہونے کی توقعات، اسٹاک مارکیٹ میں 1200 سے زائد پوائنٹس کی تیزی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284209/</link>
      <description>&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان سمیت ثالث ممالک کی جانب سے اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات بلانے کی کوششوں اور ممکنہ سفارتی کامیابی کی رپورٹس کے درمیان منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان واپس لوٹ آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 157,443 پوائنٹس کی دن کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔ تاہم یہ تیزی مختصر ثابت ہوئی کیونکہ جلد ہی بڑے پیمانے پر منافع خوری شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں پہلے ہی گھنٹے انڈیکس تیزی سے نیچے گر کر 154,000 کی سطح کی جانب آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انڈیکس دن کی کم ترین سطح 153,382 کے قریب آگیا جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,225.99 پوائنٹس یا 0.80 فیصد اضافے سے 153,966.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آج ہم نے جو کچھ دیکھا وہ اسٹاک ایکسچینج کا روایتی رویہ ہے، آغاز میں پرامیدی، جس کے بعد ہچکچاہٹ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار ضروری نہیں کہ مندی کا شکار ہوں بلکہ وہ ابھی پوری طرح قائل نہیں ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے رقم تو موجود ہے، لیکن ان پوزیشنز کو برقرار رکھنے کے لیے اعتماد کافی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اب معاملہ صرف مثبت خبروں تک محدود نہیں رہا، مارکیٹ کو اب واضح صورتحال، درست سمت اور بھروسہ کرنے کے لیے ایک ٹھوس وجہ کی تلاش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس کے بڑے حصص بشمول جی کے سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایف ایف سی، ماری، اوجی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل اور پی ایس او مثبت زون (سبز رنگ) میں ٹریڈنگ کرتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کررہا ہے جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جیسا کہ پیر کوفنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور اس کی مندی کا سلسلہ مسلسل آٹھویں ہفتے بھی برقرار رہا۔ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور ملے جلے ملکی میکرو اکنامک حالات کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل احتیاط پسندی کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیادوں پر 1,126 پوائنٹس یا 0.73 فیصد کی کمی کے ساتھ 152,740 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو حصص مارکیٹس بے یقینی اور اضطراب کا شکار رہیں جبکہ اتار چڑھاؤ کے شکار کاروبار میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی کے گرڈ پر بمباری کے فیصلے کو ملتوی کرنا ان سرمایہ کاروں کے لیے کوئی مستقل حل ثابت نہ ہو سکا جو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں اضافہ ہوا اور ڈالر نے اپنی کھوئی ہوئی قدر دوبارہ حاصل کرلی۔ یہ صورتحال اس ریلیف ریلی کے الٹ ثابت ہوئی جو گزشتہ رات مارکیٹوں میں اس وقت دیکھی گئی تھی جب صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مثبت مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں میں کھولنے کے لیے ایران کو دی گئی ہفتہ وار مہلت میں مزید پانچ دن کا اضافہ کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر توانائی بحران کے باعث شدید غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے جبکہ دوسری جانب ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شامل ہونے کی تردید کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ایشیائی حصص کی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی جو عالمی مارکیٹوں کی گزشتہ روز کی کارکردگی کے نقشِ قدم پر چل رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹوکیو کے نکی انڈیکس میں 0.8 فیصد کی بہتری آئی۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی 1.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی فیوچرز مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا جبکہ وال اسٹریٹ گزشتہ رات کیش سیشن میں برتری پر بند ہوئی تھی۔ نیس ڈیک فیوچرز میں 0.6 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.9 فیصد اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.8 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل  کو انٹر بینک مارکیٹ میں  ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.22 پر بند ہوئی، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کی بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس کے تجارتی حجم میں اضافہ دیکھا گیا اور یہ گزشتہ سیشن کے 326.64 ملین سے بڑھ کر 375.34 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 19.40 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 22.98 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کے الیکٹرک لمیٹڈ 35.83 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے، یونٹی فوڈز لمیٹڈ 31.58 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور بینک آف پنجاب (ایکس ڈی) 24.52 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 277 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 141 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 67 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/241710197825f84.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/241710197825f84.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان سمیت ثالث ممالک کی جانب سے اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات بلانے کی کوششوں اور ممکنہ سفارتی کامیابی کی رپورٹس کے درمیان منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان واپس لوٹ آیا۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 157,443 پوائنٹس کی دن کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا۔ تاہم یہ تیزی مختصر ثابت ہوئی کیونکہ جلد ہی بڑے پیمانے پر منافع خوری شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں پہلے ہی گھنٹے انڈیکس تیزی سے نیچے گر کر 154,000 کی سطح کی جانب آگیا۔</p>
<p>بعد ازاں انڈیکس دن کی کم ترین سطح 153,382 کے قریب آگیا جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,225.99 پوائنٹس یا 0.80 فیصد اضافے سے 153,966.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آج ہم نے جو کچھ دیکھا وہ اسٹاک ایکسچینج کا روایتی رویہ ہے، آغاز میں پرامیدی، جس کے بعد ہچکچاہٹ دیکھی گئی۔</p>
<p>سرمایہ کار ضروری نہیں کہ مندی کا شکار ہوں بلکہ وہ ابھی پوری طرح قائل نہیں ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے رقم تو موجود ہے، لیکن ان پوزیشنز کو برقرار رکھنے کے لیے اعتماد کافی نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اب معاملہ صرف مثبت خبروں تک محدود نہیں رہا، مارکیٹ کو اب واضح صورتحال، درست سمت اور بھروسہ کرنے کے لیے ایک ٹھوس وجہ کی تلاش ہے۔</p>
<p>آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس کے بڑے حصص بشمول جی کے سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایف ایف سی، ماری، اوجی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل اور پی ایس او مثبت زون (سبز رنگ) میں ٹریڈنگ کرتے دکھائی دیے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کررہا ہے جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ختم کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جیسا کہ پیر کوفنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور اس کی مندی کا سلسلہ مسلسل آٹھویں ہفتے بھی برقرار رہا۔ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور ملے جلے ملکی میکرو اکنامک حالات کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل احتیاط پسندی کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>بینچ مارک 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیادوں پر 1,126 پوائنٹس یا 0.73 فیصد کی کمی کے ساتھ 152,740 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو حصص مارکیٹس بے یقینی اور اضطراب کا شکار رہیں جبکہ اتار چڑھاؤ کے شکار کاروبار میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی کے گرڈ پر بمباری کے فیصلے کو ملتوی کرنا ان سرمایہ کاروں کے لیے کوئی مستقل حل ثابت نہ ہو سکا جو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔</p>
<p>امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع میں اضافہ ہوا اور ڈالر نے اپنی کھوئی ہوئی قدر دوبارہ حاصل کرلی۔ یہ صورتحال اس ریلیف ریلی کے الٹ ثابت ہوئی جو گزشتہ رات مارکیٹوں میں اس وقت دیکھی گئی تھی جب صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مثبت مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹوں میں کھولنے کے لیے ایران کو دی گئی ہفتہ وار مہلت میں مزید پانچ دن کا اضافہ کردیا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر توانائی بحران کے باعث شدید غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے جبکہ دوسری جانب ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں شامل ہونے کی تردید کردی ہے۔</p>
<p>منگل کو ایشیائی حصص کی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی جو عالمی مارکیٹوں کی گزشتہ روز کی کارکردگی کے نقشِ قدم پر چل رہی تھیں۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹوکیو کے نکی انڈیکس میں 0.8 فیصد کی بہتری آئی۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی 1.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>تاہم امریکی فیوچرز مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا جبکہ وال اسٹریٹ گزشتہ رات کیش سیشن میں برتری پر بند ہوئی تھی۔ نیس ڈیک فیوچرز میں 0.6 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>اسی طرح یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.9 فیصد اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.8 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>منگل  کو انٹر بینک مارکیٹ میں  ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.22 پر بند ہوئی، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کی بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس کے تجارتی حجم میں اضافہ دیکھا گیا اور یہ گزشتہ سیشن کے 326.64 ملین سے بڑھ کر 375.34 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 19.40 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 22.98 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>مارکیٹ میں کے الیکٹرک لمیٹڈ 35.83 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے، یونٹی فوڈز لمیٹڈ 31.58 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور بینک آف پنجاب (ایکس ڈی) 24.52 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>منگل کو مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 277 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ اور 141 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 67 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/241710197825f84.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/241710197825f84.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284209</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 17:52:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/241122385ac0549.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/241122385ac0549.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
