<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:10:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:10:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیگر ممالک کی طرح 70 فیصد اضافہ نہیں کیا، حکومت کا ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284205/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر دیکھے جانے والے اضافے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ جبکہ اس دوران عالمی مارکیٹس میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ  کے مشیر خرم شہزاد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ حالیہ ہفتوں میں ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں دونوں میں ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، کئی ممالک میں یہ اضافہ 27 سے 71 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ پاکستان میں 22 سے 24 فیصد کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2036300013186199740?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2036300013186199740?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ کئی ممالک نے عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو براہِ راست عوام تک منتقل کیا ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں قیمتوں میں تبدیلی متوازن اور محتاط انداز میں کی گئی ہے تاکہ مالیاتی پائیداری اور عوامی تحفظ میں توازن برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ علاقائی اوسط سے کم ہے۔ مجموعی ریٹیل ٹیکس تقریباً 25 فیصد ہے، جس میں ڈیزل پر 16 فیصد اور پٹرول پر 33 فیصد ٹیکس شامل ہے، جبکہ خطے میں اوسط ٹیکس تقریباً 35 فیصد ہے۔ مزید برآں پاکستان میں ایندھن پر عام سیلز ٹیکس صفر ہے، جبکہ دیگر ممالک میں یہ عام طور پر 18 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم شہزاد نے کہا کہ عالمی سطح پر طویل مدتی سبسڈی کے لیے محدود گنجائش ہے اور زیادہ تر معیشتیں قیمتوں کی منطقی ترتیب کی طرف بڑھا رہی ہیں۔ اس پس منظر میں، پاکستان میں قیمتوں میں ردوبدل نسبتاً معتدل اور محتاط ہے، جو مالیاتی پائیداری اور عوامی اثرات کے توازن کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرو نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو وہ ایشیائی اور یورپی حکومتوں کے ساتھ اسٹریٹجک ذخائر کی ممکنہ ریلیز پر مشاورت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوسٹن میں ایک کانفرنس میں تیل کے ماہرین اور توانائی کے وزرا نے ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کے عالمی معیشت پر طویل مدتی اثرات کے بارے میں خبردار کیا، تاہم امریکی توانائی کے سیکریٹری کرس رائٹ نے اس بحران کو کم اہم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر دیکھے جانے والے اضافے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ جبکہ اس دوران عالمی مارکیٹس میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ  کے مشیر خرم شہزاد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ حالیہ ہفتوں میں ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں دونوں میں ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، کئی ممالک میں یہ اضافہ 27 سے 71 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ پاکستان میں 22 سے 24 فیصد کے درمیان ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/kschehzad/status/2036300013186199740?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/kschehzad/status/2036300013186199740?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ کئی ممالک نے عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو براہِ راست عوام تک منتقل کیا ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں قیمتوں میں تبدیلی متوازن اور محتاط انداز میں کی گئی ہے تاکہ مالیاتی پائیداری اور عوامی تحفظ میں توازن برقرار رہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ علاقائی اوسط سے کم ہے۔ مجموعی ریٹیل ٹیکس تقریباً 25 فیصد ہے، جس میں ڈیزل پر 16 فیصد اور پٹرول پر 33 فیصد ٹیکس شامل ہے، جبکہ خطے میں اوسط ٹیکس تقریباً 35 فیصد ہے۔ مزید برآں پاکستان میں ایندھن پر عام سیلز ٹیکس صفر ہے، جبکہ دیگر ممالک میں یہ عام طور پر 18 فیصد ہے۔</p>
<p>خرم شہزاد نے کہا کہ عالمی سطح پر طویل مدتی سبسڈی کے لیے محدود گنجائش ہے اور زیادہ تر معیشتیں قیمتوں کی منطقی ترتیب کی طرف بڑھا رہی ہیں۔ اس پس منظر میں، پاکستان میں قیمتوں میں ردوبدل نسبتاً معتدل اور محتاط ہے، جو مالیاتی پائیداری اور عوامی اثرات کے توازن کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرو نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو وہ ایشیائی اور یورپی حکومتوں کے ساتھ اسٹریٹجک ذخائر کی ممکنہ ریلیز پر مشاورت کر رہے ہیں۔</p>
<p>ہوسٹن میں ایک کانفرنس میں تیل کے ماہرین اور توانائی کے وزرا نے ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کے عالمی معیشت پر طویل مدتی اثرات کے بارے میں خبردار کیا، تاہم امریکی توانائی کے سیکریٹری کرس رائٹ نے اس بحران کو کم اہم قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284205</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 10:43:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/24104013490c4d7.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/24104013490c4d7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
