<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:42:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:42:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپیلیٹ بینچ نے ایس ای سی پی کی کارروائیوں کی توثیق کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284200/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اپیلیٹ ٹریبونل بینچز نے حال ہی میں متعدد کمپنیوں کے خلاف اور ایس ای سی پی کے حق میں اہم احکامات جاری کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے اپنی ویب سائٹ پر کمپنیوں کی اپیلوں کے حوالے سے کئی احکامات اپ لوڈ کیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایس ای سی پی تمام اپیلیٹ بینچ کے احکامات مستقل طور پر ویب سائٹ پر رکھے گا یا نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مقدمے میں دو رکنی بینچ نے ایک کمپنی پر عائد شدہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ کم کر کے دو لاکھ پچاس ہزار روپے کر دیا۔ اپیلیٹ ٹریبونل کے مطابق مقدمے کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ اپیل کنندہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج لمیٹڈ کے ٹریڈنگ رائٹس اینٹائٹلمنٹ سرٹیفیکیٹ ہولڈر اور ایس ای سی پی کے لائسنس یافتہ سیکیورٹی بروکر کے طور پر رجسٹرڈ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی نے 12 فروری 2020 کے آرڈر کے تحت اپیل کنندہ کا آن سائٹ معائنہ کیا تاکہ ریگولیشنز کی تعمیل کا جائزہ لیا جا سکے۔ معائنہ ٹیم نے متعدد خلاف ورزیاں نوٹ کیں، جس کے بعد اپیل کنندہ کو 5 اپریل 2021 کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ اپیل کنندہ نے 21 اپریل 2021 کو جواب دیا اور 18 جون 2021 کو سماعت ہوئی، جس کے بعد ایس ای سی پی نے کلائنٹس کی سکریننگ، جوائنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز کی ڈیٹا بیس اور نادرا ویری سس کے تقاضوں کی خلاف ورزی پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل کنندہ نے دلائل دیے کہ غیر تعمیلی اقدامات غیر ارادی تھے اور اس دوران نادرا ویریفیکشن دستیاب نہیں تھی۔ جواب دہندہ نے دلائل کی مخالفت کی، تاہم بینچ نے اپیل کنندہ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور جواب دہندہ کے اعتراف کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا کہ نادرا ویریفیکشن کے عدم دستیاب ہونے کی وجہ سے اپیل کنندہ کو اس نکتہ پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپیل کنندہ نے کوئی مؤثر ثبوت فراہم نہیں کیا، لیکن معائنہ کے بعد اپیل کنندہ نے مکمل تعمیل کر لی اور مزید کسی خلاف ورزی کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ اپیلیٹ بینچ نے اس کو نرمی کے لیے اہم وجہ قرار دیا اور جرمانے کو تناسب اور انصاف کے اصولوں کے مطابق کم کر کے دو لاکھ پچاس ہزار روپے کر دیا۔ اپیل اسی فیصلے کے ساتھ نمٹائی گئی اور کسی اضافی فیس یا اخراجات کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اپیلیٹ ٹریبونل بینچز نے حال ہی میں متعدد کمپنیوں کے خلاف اور ایس ای سی پی کے حق میں اہم احکامات جاری کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے اپنی ویب سائٹ پر کمپنیوں کی اپیلوں کے حوالے سے کئی احکامات اپ لوڈ کیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ایس ای سی پی تمام اپیلیٹ بینچ کے احکامات مستقل طور پر ویب سائٹ پر رکھے گا یا نہیں۔</strong></p>
<p>ایک مقدمے میں دو رکنی بینچ نے ایک کمپنی پر عائد شدہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ کم کر کے دو لاکھ پچاس ہزار روپے کر دیا۔ اپیلیٹ ٹریبونل کے مطابق مقدمے کے مختصر حقائق یہ ہیں کہ اپیل کنندہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج لمیٹڈ کے ٹریڈنگ رائٹس اینٹائٹلمنٹ سرٹیفیکیٹ ہولڈر اور ایس ای سی پی کے لائسنس یافتہ سیکیورٹی بروکر کے طور پر رجسٹرڈ تھا۔</p>
<p>ایس ای سی پی نے 12 فروری 2020 کے آرڈر کے تحت اپیل کنندہ کا آن سائٹ معائنہ کیا تاکہ ریگولیشنز کی تعمیل کا جائزہ لیا جا سکے۔ معائنہ ٹیم نے متعدد خلاف ورزیاں نوٹ کیں، جس کے بعد اپیل کنندہ کو 5 اپریل 2021 کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔ اپیل کنندہ نے 21 اپریل 2021 کو جواب دیا اور 18 جون 2021 کو سماعت ہوئی، جس کے بعد ایس ای سی پی نے کلائنٹس کی سکریننگ، جوائنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز کی ڈیٹا بیس اور نادرا ویری سس کے تقاضوں کی خلاف ورزی پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔</p>
<p>اپیل کنندہ نے دلائل دیے کہ غیر تعمیلی اقدامات غیر ارادی تھے اور اس دوران نادرا ویریفیکشن دستیاب نہیں تھی۔ جواب دہندہ نے دلائل کی مخالفت کی، تاہم بینچ نے اپیل کنندہ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور جواب دہندہ کے اعتراف کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا کہ نادرا ویریفیکشن کے عدم دستیاب ہونے کی وجہ سے اپیل کنندہ کو اس نکتہ پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔</p>
<p>باقی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپیل کنندہ نے کوئی مؤثر ثبوت فراہم نہیں کیا، لیکن معائنہ کے بعد اپیل کنندہ نے مکمل تعمیل کر لی اور مزید کسی خلاف ورزی کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ اپیلیٹ بینچ نے اس کو نرمی کے لیے اہم وجہ قرار دیا اور جرمانے کو تناسب اور انصاف کے اصولوں کے مطابق کم کر کے دو لاکھ پچاس ہزار روپے کر دیا۔ اپیل اسی فیصلے کے ساتھ نمٹائی گئی اور کسی اضافی فیس یا اخراجات کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284200</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 09:49:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/240947370ff531a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/240947370ff531a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
