<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اور امریکا کے حکام کی اسلام آباد میں ملاقات کا امکان، ثالثی کی کوششیں تیز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284198/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ثالثی کرنے والے ممالک اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے انعقاد کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایکسیوس کے رپورٹر باراک راوڈ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ مذاکرات ممکنہ طور پر اسی ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق مجوزہ ملاقات میں امریکہ کا ایک طاقتور وفد شریک ہوگا جس میں مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، امریکی صدر کے مشیر جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہوں گے۔ یہ وفد ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور تہران کے دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم نظر آ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات بھی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/BarakRavid/status/2036094102337376660?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BarakRavid/status/2036094102337376660?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ترکیہ، مصر اور پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ان ممالک نے پس پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں انقرہ، قاہرہ اور اسلام آباد کے اعلیٰ حکام نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ اہم ملاقاتیں بھی کی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/BarakRavid/status/2036060744010129453?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BarakRavid/status/2036060744010129453?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ فوجی حملے کا منصوبہ عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت کے باعث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے مثبت امکانات پیدا ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو میں یقین دہانی کرائی کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے خلیجی خطے میں جاری خطرناک کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں خطے کی صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ثالثی کرنے والے ممالک اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے انعقاد کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایکسیوس کے رپورٹر باراک راوڈ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ مذاکرات ممکنہ طور پر اسی ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>اطلاعات کے مطابق مجوزہ ملاقات میں امریکہ کا ایک طاقتور وفد شریک ہوگا جس میں مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، امریکی صدر کے مشیر جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہوں گے۔ یہ وفد ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور تہران کے دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم نظر آ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات بھی کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/BarakRavid/status/2036094102337376660?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BarakRavid/status/2036094102337376660?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کے مطابق ترکیہ، مصر اور پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ان ممالک نے پس پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں انقرہ، قاہرہ اور اسلام آباد کے اعلیٰ حکام نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ اہم ملاقاتیں بھی کی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/BarakRavid/status/2036060744010129453?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BarakRavid/status/2036060744010129453?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ فوجی حملے کا منصوبہ عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت کے باعث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے مثبت امکانات پیدا ہوئے ہیں۔</p>
<p>ادھر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو میں یقین دہانی کرائی کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے خلیجی خطے میں جاری خطرناک کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔</p>
<p>اسی دوران پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں خطے کی صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284198</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 09:32:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/240922473132b67.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/240922473132b67.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
