<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:39:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:39:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کی جنگ میں توانائی کی 40 تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، آئی ای اے کے سربراہ کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284193/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ نے بتایا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے خطے کے نو ممالک میں کم از کم 40 توانائی کی تنصیبات کو  شدید یا انتہائی شدید  نقصان پہنچا ہے۔ آسٹریلیا کے دارالحکومت میں نیشنل پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے فاتح بیرول نے کہا کہ ان نو ممالک میں توانائی کے کم از کم  40 اثاثے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران سے عالمی معیشت کو بڑے خطرے کا سامنا ہے اور اس کے اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے موجودہ بحران کا موازنہ 1970 کی دہائی کے توانائی کے بحران اور 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے اثرات سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہ بحران دو بار آنے والے تیل کے بحرانوں اور ایک گیس کریش کا مجموعہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ  عالمی معیشت کو آج ایک بہت بڑے خطرے کا سامنا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو جائے گا۔ انہوں نے عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سلسلہ اسی سمت میں چلتا رہا تو کوئی ملک اس کے اثرات سے بچ نہیں سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور تہران نے ایک دوسرے کو دھمکیاں دی ہیں، جہاں امریکی صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، جس کے ذریعے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس رکاوٹ نے اس تنگ آبی گزرگاہ سے پیٹرولیم کی ترسیل کو تقریباً روک دیا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاتح بیرول نے متنبہ کیا کہ یہ بحران صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پیٹرو کیمیکلز، کھادوں، گندھک اور ہیلیم کی تجارت بھی معطل ہو چکی ہے اور ان رکاوٹوں کے عالمی منڈی کے لیے ”سنگین نتائج“ برآمد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ نے بتایا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے خطے کے نو ممالک میں کم از کم 40 توانائی کی تنصیبات کو  شدید یا انتہائی شدید  نقصان پہنچا ہے۔ آسٹریلیا کے دارالحکومت میں نیشنل پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے فاتح بیرول نے کہا کہ ان نو ممالک میں توانائی کے کم از کم  40 اثاثے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران سے عالمی معیشت کو بڑے خطرے کا سامنا ہے اور اس کے اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔</p>
<p>انہوں نے موجودہ بحران کا موازنہ 1970 کی دہائی کے توانائی کے بحران اور 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے اثرات سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یہ بحران دو بار آنے والے تیل کے بحرانوں اور ایک گیس کریش کا مجموعہ بن چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ  عالمی معیشت کو آج ایک بہت بڑے خطرے کا سامنا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو جائے گا۔ انہوں نے عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سلسلہ اسی سمت میں چلتا رہا تو کوئی ملک اس کے اثرات سے بچ نہیں سکے گا۔</p>
<p>جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور تہران نے ایک دوسرے کو دھمکیاں دی ہیں، جہاں امریکی صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، جس کے ذریعے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس رکاوٹ نے اس تنگ آبی گزرگاہ سے پیٹرولیم کی ترسیل کو تقریباً روک دیا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>فاتح بیرول نے متنبہ کیا کہ یہ بحران صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پیٹرو کیمیکلز، کھادوں، گندھک اور ہیلیم کی تجارت بھی معطل ہو چکی ہے اور ان رکاوٹوں کے عالمی منڈی کے لیے ”سنگین نتائج“ برآمد ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284193</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Mar 2026 19:40:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پیبی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/23191951ca0dfa4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/23191951ca0dfa4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
