<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:13:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:13:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دالوں کی کاشت میں کمی، ایک سنگین زرعی بحران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284181/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک زرعی معیشت ہونے کے باوجود پاکستان دالوں کی درآمد پر تیزی سے انحصار کر رہا ہے اور اس مد میں سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ کر رہا ہےجو کہ ملک کی زرعی پالیسیوں اور طریقوں میں گہری ساختی کمزوریوں کا ایک تشویشناک اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دالیں جیسے کہ مسور، چنے اور لوبیا لاکھوں کم آمدنی والے گھرانوں کیلئے سستی غذائیت کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اس کے باوجود وسیع زرعی صلاحیت رکھنے والا ملک اس بنیادی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے غیر ملکی سپلائی پر زیادہ انحصار کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کو حال ہی میں پاکستان میں دالوں کی مسابقتی اور شمولیتی ویلیو چینز کی ترقی کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار میں اجاگر کیا گیا جس کی مشترکہ میزبانی سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ اور آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمینار میں اس بات کو اجاگر کیا کہ یہ شعبہ (دالوں کی کاشت) کتنا پیچھے رہ گیا ہے۔ اپنی غذائی اور معاشی اہمیت کے باوجود، دالیں پاکستان کے کل زیرِ کاشت رقبے کے بمشکل 5 فیصد حصے پر اگائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات کسانوں کا دالوں کی کاشت سے کنارہ کشی اختیار کرنا اور مسلسل زیادہ تجارتی منافع بخش فصلوں  کی طرف مائل ہونا ہے۔ دالوں کی فارمنگ میں پیداواری فرق بھی ایک اہم کہانی بیان کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ قومی سطح پر دالوں کی اوسط پیداوار تقریباً 553 کلوگرام فی ہیکٹر ہے، لیکن ترقی پسند کسان  1,500 کلوگرام فی ہیکٹر تک پیداوار حاصل کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداوار میں یہ واضح فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ محض ماحولیاتی نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ بڑے پیمانے پر ادارہ جاتی اور تکنیکی نوعیت کا ہے۔ بہتر بیجوں، کھادوں اور بہتر طریقہِ کاشت کے ذریعے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ سیمینار میں ماہرین نے نشاندہی کی، کئی ساختی رکاوٹیں  اس شعبے کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ کسان اکثر غیر معیاری بیجوں پر انحصار کرتے ہیں جو شروع ہی سے پیداواری صلاحیت کو محدود کردیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیماریوں کا پھیلاؤ اور موسمیاتی خطرات  اس چیلنج کو مزید سنگین بنادیتے ہیں، خاص طور پر بارانی علاقوں میں جہاں عام طور پر دالیں اگائی جاتی ہیں۔ اس کےساتھ مارکیٹ کے کمزور روابط اور فارم گیٹ (کھیت کی سطح پر) کم قیمتیں کسانوں کو اس فصل میں سرمایہ کاری کرنے سے روکتی ہیں۔ جب کاشتکاروں کو اپنی محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا، تو یہ فطری بات ہے کہ وہ ایسی فصلوں کی طرف مائل ہو جائیں جو زیادہ یقینی منافع کا وعدہ کرتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سنگین کمزوری فصل کی کٹائی کے بعد کے نظام میں چھپی ہے۔ پروسیسنگ کی ناکافی سہولیات اور فارم کی سطح پر کوالٹی کنٹرول کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ جو دالیں پیدا ہوتی ہیں، وہ بھی صارفین تک پہنچنے سے پہلے اپنی قدر کھو دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویلیو چین کے ان روابط کو مضبوط بنانے سے منافع بخشتی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور کسانوں کو کاشت بڑھانے کی ترغیب مل سکتی ہے۔ اسی طرح، تحقیق اور پالیسی سازی کے درمیان پایا جانے والا ربط کا فقدان بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی، چکوال اور بھکر جیسے علاقوں میں پہلے ہی فیلڈ ریسرچ کی جاچکی ہے جہاں کسان پیداوار کے بہتر طریقوں کی آزمائش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایسی تحقیق کے نتائج اکثر قومی پالیسی کا حصہ بننے کے بجائے صرف پائلٹ پراجیکٹس اور تعلیمی حلقوں تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ جدت  بڑے پیمانے پر کسانوں تک پہنچے تو اس خلیج کو پُر کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ  پالیسی سازوں کو دالوں کی کاشت کو صرف بنجر یا کم درجے کی زمینوں  تک محدود رکھنے کی دیرینہ روایت پر بھی نظرِثانی کرنی چاہیے، دیگر فصلوں کی طرح دالوں کو بھی بہتر نشوونما کیلئے زرخیز مٹی اور مناسب زرعی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرخیز زمین پر دالوں کی کاشت کا احیاء نہ صرف مقامی رسد میں اضافہ کرے گا بلکہ یہ پاکستان کے غذائی تحفظ  کو بھی مضبوط بنائے گا اور مہنگی درآمدات پر انحصار کم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے مربوط پالیسی اصلاحات، تحقیق اور توسیعی خدمات  میں مسلسل سرمایہ کاری اور مارکیٹ کی سطح پر ایسی منصفانہ مراعات کی ضرورت ہے جو کسانوں کے لیے دالوں کی کاشت کو ایک منافع بخش اور قابلِ عمل انتخاب بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک زرعی معیشت ہونے کے باوجود پاکستان دالوں کی درآمد پر تیزی سے انحصار کر رہا ہے اور اس مد میں سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ کر رہا ہےجو کہ ملک کی زرعی پالیسیوں اور طریقوں میں گہری ساختی کمزوریوں کا ایک تشویشناک اشارہ ہے۔</p>
<p>دالیں جیسے کہ مسور، چنے اور لوبیا لاکھوں کم آمدنی والے گھرانوں کیلئے سستی غذائیت کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اس کے باوجود وسیع زرعی صلاحیت رکھنے والا ملک اس بنیادی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے غیر ملکی سپلائی پر زیادہ انحصار کررہا ہے۔</p>
<p>ان خدشات کو حال ہی میں پاکستان میں دالوں کی مسابقتی اور شمولیتی ویلیو چینز کی ترقی کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار میں اجاگر کیا گیا جس کی مشترکہ میزبانی سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ اور آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ نے کی۔</p>
<p>سیمینار میں اس بات کو اجاگر کیا کہ یہ شعبہ (دالوں کی کاشت) کتنا پیچھے رہ گیا ہے۔ اپنی غذائی اور معاشی اہمیت کے باوجود، دالیں پاکستان کے کل زیرِ کاشت رقبے کے بمشکل 5 فیصد حصے پر اگائی جاتی ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات کسانوں کا دالوں کی کاشت سے کنارہ کشی اختیار کرنا اور مسلسل زیادہ تجارتی منافع بخش فصلوں  کی طرف مائل ہونا ہے۔ دالوں کی فارمنگ میں پیداواری فرق بھی ایک اہم کہانی بیان کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ قومی سطح پر دالوں کی اوسط پیداوار تقریباً 553 کلوگرام فی ہیکٹر ہے، لیکن ترقی پسند کسان  1,500 کلوگرام فی ہیکٹر تک پیداوار حاصل کررہے ہیں۔</p>
<p>پیداوار میں یہ واضح فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ محض ماحولیاتی نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ بڑے پیمانے پر ادارہ جاتی اور تکنیکی نوعیت کا ہے۔ بہتر بیجوں، کھادوں اور بہتر طریقہِ کاشت کے ذریعے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>جیسا کہ سیمینار میں ماہرین نے نشاندہی کی، کئی ساختی رکاوٹیں  اس شعبے کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ کسان اکثر غیر معیاری بیجوں پر انحصار کرتے ہیں جو شروع ہی سے پیداواری صلاحیت کو محدود کردیتے ہیں۔</p>
<p>بیماریوں کا پھیلاؤ اور موسمیاتی خطرات  اس چیلنج کو مزید سنگین بنادیتے ہیں، خاص طور پر بارانی علاقوں میں جہاں عام طور پر دالیں اگائی جاتی ہیں۔ اس کےساتھ مارکیٹ کے کمزور روابط اور فارم گیٹ (کھیت کی سطح پر) کم قیمتیں کسانوں کو اس فصل میں سرمایہ کاری کرنے سے روکتی ہیں۔ جب کاشتکاروں کو اپنی محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا، تو یہ فطری بات ہے کہ وہ ایسی فصلوں کی طرف مائل ہو جائیں جو زیادہ یقینی منافع کا وعدہ کرتی ہوں۔</p>
<p>ایک اور سنگین کمزوری فصل کی کٹائی کے بعد کے نظام میں چھپی ہے۔ پروسیسنگ کی ناکافی سہولیات اور فارم کی سطح پر کوالٹی کنٹرول کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ جو دالیں پیدا ہوتی ہیں، وہ بھی صارفین تک پہنچنے سے پہلے اپنی قدر کھو دیتی ہیں۔</p>
<p>ویلیو چین کے ان روابط کو مضبوط بنانے سے منافع بخشتی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور کسانوں کو کاشت بڑھانے کی ترغیب مل سکتی ہے۔ اسی طرح، تحقیق اور پالیسی سازی کے درمیان پایا جانے والا ربط کا فقدان بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p>راولپنڈی، چکوال اور بھکر جیسے علاقوں میں پہلے ہی فیلڈ ریسرچ کی جاچکی ہے جہاں کسان پیداوار کے بہتر طریقوں کی آزمائش کررہے ہیں۔</p>
<p>تاہم ایسی تحقیق کے نتائج اکثر قومی پالیسی کا حصہ بننے کے بجائے صرف پائلٹ پراجیکٹس اور تعلیمی حلقوں تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ جدت  بڑے پیمانے پر کسانوں تک پہنچے تو اس خلیج کو پُر کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ  پالیسی سازوں کو دالوں کی کاشت کو صرف بنجر یا کم درجے کی زمینوں  تک محدود رکھنے کی دیرینہ روایت پر بھی نظرِثانی کرنی چاہیے، دیگر فصلوں کی طرح دالوں کو بھی بہتر نشوونما کیلئے زرخیز مٹی اور مناسب زرعی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>زرخیز زمین پر دالوں کی کاشت کا احیاء نہ صرف مقامی رسد میں اضافہ کرے گا بلکہ یہ پاکستان کے غذائی تحفظ  کو بھی مضبوط بنائے گا اور مہنگی درآمدات پر انحصار کم کرے گا۔</p>
<p>تاہم، اس مقصد کے حصول کے لیے مربوط پالیسی اصلاحات، تحقیق اور توسیعی خدمات  میں مسلسل سرمایہ کاری اور مارکیٹ کی سطح پر ایسی منصفانہ مراعات کی ضرورت ہے جو کسانوں کے لیے دالوں کی کاشت کو ایک منافع بخش اور قابلِ عمل انتخاب بنا سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284181</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Mar 2026 13:04:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/23125346d53e55c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/23125346d53e55c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
