<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی بحران اور محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش، ڈالر کی قدر میں اضافے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284177/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر میں بہتری کے آثار پیر کو نظر آئے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں جوابی کارروائیوں کی دھمکیوں میں شدت آگئی جس نے پرخطر اثاثوں میں سرمایہ کاری کے رجحان کو کم کردیا اور محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے اثاثوں کی طلب میں اضافہ کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں جنگ کے آغاز کے بعد جمعہ کو پہلی بار ڈالر کی ہفتہ وار قدر میں کمی دیکھی گئی کیونکہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی نے مرکزی بینکوں کو سخت پالیسی اپنانے پر مجبور کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حصص بازاروں میں مندی کے ساتھ کھلنے کی توقعات کے باعث ابتدائی تجارت کے دوران آسٹریلوی ڈالر کی قدر میں گراوٹ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امیدیں ہفتے کے اختتام پر ماند پڑگئیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی  نظام پر حملے کی دھمکی دی جبکہ تہران نے اپنے ہمسایہ ممالک کے توانائی اور پانی کے نظام کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل آسٹریلیا بینک کے کرنسی اسٹریٹجسٹ روڈریگو کیٹرل نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا کہ مارکیٹ اس تصور کو لے کر چل رہی ہے کہ وہ ممالک اور معیشتیں جنہیں توانائی کی رسد  میں اضافے کا فائدہ  حاصل ہے، ان کی کارکردگی ان ممالک کے مقابلے میں بہتر رہنے کا امکان ہے جو توانائی کی رسد میں کمی کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یورو اور (جاپانی) ین اپنی کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور پھر اگر یہ تنازع طویل مدتی ثابت ہوتا ہے تو یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہی وہ کرنسیاں ہیں جنہیں کچھ زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 99.53 پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو کی قدر 0.06 فیصد گر کر 1.1563 ڈالر ہوگئی۔ جاپانی ین کی قدر میں 0.06 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 159.11 فی ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 1.3331 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ہفتے کی شام ایران کو ایک نئی دھمکی جاری کی جبکہ اس سے ایک دن سے بھی کم وقت پہلے انہوں نے یہ اشارہ دیا تھا کہ امریکہ اس تنازع کو ختم کرنے پر غور کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے پڑوسی ممالک کی اہم تنصیبات  پر جوابی حملوں کا عہد کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی آبنائے ہرمز  کی بحری گزرگاہ بند رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں شہری ڈھانچے  پر باری باری جوابی حملوں کے امکان نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو پانی کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کی علی الصبح پورے اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن گونج اٹھے جو ایران کی طرف سے آنے والے میزائلوں کی وارننگ دے رہے تھے۔ فروری میں ایران  جنگ شروع ہونے سے پہلے سرمایہ کاروں نے اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں دو کٹوتیوں کی توقع کر رکھی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اب وہ بڑے پیمانے پر یہ مانتے ہیں کہ ایک کٹوتی بھی اب ایک دور کا خواب ہے اور دیگر بڑے مرکزی بینک بھی اب سخت مانیٹری پالیسی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فیڈرل ریزرو نے گزشتہ ہفتے توقع کے مطابق شرحِ سود کو برقرار رکھا لیکن چیئرمین جیروم پاول کا کہنا تھا کہ جنگ کے معاشی اثرات کی حد اور دورانیے کا تعین کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی مرکزی بینک نے بھی جمعرات کو شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تاہم توانائی کی قیمتوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف انگلینڈ نے بھی شرحِ سود کو برقرار رکھا، جبکہ بینک آف جاپان نے اپریل ہی میں شرحِ سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکویٹی فیوچرز  جاپان کے نکئی انڈیکس میں بڑی گراوٹ کی نشاندہی کررہے ہیں، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح  بڑھ کر تقریباً آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح 4.4055 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی ڈالر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.17 فیصد کمزور ہو کر 0.7011 ڈالر پر آگیا۔ نیوزی لینڈ کے کیوی (ڈالر) کی قدر میں بھی 0.03 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی اور یہ 0.5832 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو کرنسیوں میں بٹ کوائن 0.41 فیصد گر کر 67,900.41 ڈالر پر آگیا جب کہ ایتھریم 0.26 فیصد کمی کے ساتھ 2,053.17 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر میں بہتری کے آثار پیر کو نظر آئے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں جوابی کارروائیوں کی دھمکیوں میں شدت آگئی جس نے پرخطر اثاثوں میں سرمایہ کاری کے رجحان کو کم کردیا اور محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے اثاثوں کی طلب میں اضافہ کردیا۔</strong></p>
<p>ایران میں جنگ کے آغاز کے بعد جمعہ کو پہلی بار ڈالر کی ہفتہ وار قدر میں کمی دیکھی گئی کیونکہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی نے مرکزی بینکوں کو سخت پالیسی اپنانے پر مجبور کردیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب حصص بازاروں میں مندی کے ساتھ کھلنے کی توقعات کے باعث ابتدائی تجارت کے دوران آسٹریلوی ڈالر کی قدر میں گراوٹ دیکھی گئی۔</p>
<p>خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی امیدیں ہفتے کے اختتام پر ماند پڑگئیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی  نظام پر حملے کی دھمکی دی جبکہ تہران نے اپنے ہمسایہ ممالک کے توانائی اور پانی کے نظام کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا۔</p>
<p>نیشنل آسٹریلیا بینک کے کرنسی اسٹریٹجسٹ روڈریگو کیٹرل نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا کہ مارکیٹ اس تصور کو لے کر چل رہی ہے کہ وہ ممالک اور معیشتیں جنہیں توانائی کی رسد  میں اضافے کا فائدہ  حاصل ہے، ان کی کارکردگی ان ممالک کے مقابلے میں بہتر رہنے کا امکان ہے جو توانائی کی رسد میں کمی کا شکار ہیں۔</p>
<p>چنانچہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یورو اور (جاپانی) ین اپنی کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور پھر اگر یہ تنازع طویل مدتی ثابت ہوتا ہے تو یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہی وہ کرنسیاں ہیں جنہیں کچھ زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 99.53 پر آگیا۔</p>
<p>یورو کی قدر 0.06 فیصد گر کر 1.1563 ڈالر ہوگئی۔ جاپانی ین کی قدر میں 0.06 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 159.11 فی ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 1.3331 ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے ہفتے کی شام ایران کو ایک نئی دھمکی جاری کی جبکہ اس سے ایک دن سے بھی کم وقت پہلے انہوں نے یہ اشارہ دیا تھا کہ امریکہ اس تنازع کو ختم کرنے پر غور کررہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے پڑوسی ممالک کی اہم تنصیبات  پر جوابی حملوں کا عہد کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی آبنائے ہرمز  کی بحری گزرگاہ بند رہے گی۔</p>
<p>خطے میں شہری ڈھانچے  پر باری باری جوابی حملوں کے امکان نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو پانی کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>اتوار کی علی الصبح پورے اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن گونج اٹھے جو ایران کی طرف سے آنے والے میزائلوں کی وارننگ دے رہے تھے۔ فروری میں ایران  جنگ شروع ہونے سے پہلے سرمایہ کاروں نے اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں دو کٹوتیوں کی توقع کر رکھی تھی۔</p>
<p>لیکن اب وہ بڑے پیمانے پر یہ مانتے ہیں کہ ایک کٹوتی بھی اب ایک دور کا خواب ہے اور دیگر بڑے مرکزی بینک بھی اب سخت مانیٹری پالیسی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔</p>
<p>امریکی فیڈرل ریزرو نے گزشتہ ہفتے توقع کے مطابق شرحِ سود کو برقرار رکھا لیکن چیئرمین جیروم پاول کا کہنا تھا کہ جنگ کے معاشی اثرات کی حد اور دورانیے کا تعین کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔</p>
<p>یورپی مرکزی بینک نے بھی جمعرات کو شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی، تاہم توانائی کی قیمتوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں خبردار کیا۔</p>
<p>بینک آف انگلینڈ نے بھی شرحِ سود کو برقرار رکھا، جبکہ بینک آف جاپان نے اپریل ہی میں شرحِ سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔</p>
<p>ایکویٹی فیوچرز  جاپان کے نکئی انڈیکس میں بڑی گراوٹ کی نشاندہی کررہے ہیں، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح  بڑھ کر تقریباً آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح 4.4055 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>آسٹریلوی ڈالر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.17 فیصد کمزور ہو کر 0.7011 ڈالر پر آگیا۔ نیوزی لینڈ کے کیوی (ڈالر) کی قدر میں بھی 0.03 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی اور یہ 0.5832 ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>کرپٹو کرنسیوں میں بٹ کوائن 0.41 فیصد گر کر 67,900.41 ڈالر پر آگیا جب کہ ایتھریم 0.26 فیصد کمی کے ساتھ 2,053.17 ڈالر پر آگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284177</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Mar 2026 11:51:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/23114823818b4a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="684" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/23114823818b4a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
